روپے کی کمزوری کا یہ ہے سبب

نئی دہلی: ہندوستانی کرنسی کی قیمت منگل، 14 اگست کو اب تک کی سب سے کم سطح پر پہنچ گئی. ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت 70 روپے نو پیسے ہو گئی تھی. مرکزی حکومت نے ملک کے باشندوں کو یقین دلایا ہے کہ روپے کی قیمت میں کمی تشویش کی بات نہیں ہے. اقتصادی امور کے سکریٹری سبھاش چندر گرگ نے کہا ہے کہ روپیہ بیرونی عوامل سے کمزور ہوا ہے، جس سے وہ جلد ہی باہر نکل جائے گا. یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس سے تیل اور دوسری ضروری چیزوں کی درآمدات تو مہنگی ہوگی، لیکن برآمد کرنے والوں کو فائدہ ہو گا. اس دلیل کو معروف ماہر اقتصادیات پروفیسر ایم ڈی نالاپت بکواس مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ گمراہ کرنے والی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت مالیات اور ریزرو بینک آف انڈیا کے چند افسران کی ملی بھگت سے یہ سب ہو رہا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی انہیں لگام لگانے میں ناکام ہیں۔

پروفیسر نالاپت نے کہا کہ روپے کی قیمت میں گراوٹ ڈالر کی کمی کے نام پر باضابطہ ایک سازش کے تحت کی جا رہی ہے۔ اس میں وہ بدعنوان گروہ شامل ہے جو ۲۰۱۳ء میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت کے وقت بھی سرگرم تھا۔ پروفیسر نالاپت نے کہا کہ روپے کی قیمت میں گراوٹ یہ بتا رہی ہے کہ مودی حکومت ناکام ہے۔

عالمی امور کے ماہر پروفیسر نالاپت نے کہا کہ جہاں کی کرنسی مضبوط ہوتی ہے وہ ملک طاقتور ہوتا ہے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ وزارت مالیات اور آربی آئی کے چند ایک بدعنوان افسران کچھ لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش میں روپے کو کمزور کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ روپے میں کمزوری سے برآمدات میں فائدہ ہوگا، انہیں معلوم ہونا چاہیےکہ ہندوستان جن چیزوں کو برآمد کرتا ہے ان میں سے کئی ایک کے خام مال یا کل پرزے بیرون ملک سے منگوائے جاتے ہیں۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *