روہت ویمولا اور عمر خالد کا سوال: امن کے ہاتھ کمزور ہیں

عمر فراہی

حیدرآباد یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر  روہت ویمولا کی خودکشی کے بعد جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبا یونین کے صدر  کنہیا کمار اور عمر خالد کی گرفتاری کے بعد  یہ آواز تیزی کے ساتھ اٹھنے لگی ہے کہ ہمارے ملک میں دیش کے خلاف غداری کا جو تصور ہے اور جسے تعزیری جرم قرار دیا جاتا ہے اس میں کہیں نہ کہیں کوئی نقص ضرور موجود ہے اس لئے اس قانون میں ترمیم ضروری ہے  ورنہ اظہار رائے کی آزادی کا کیا مطلب- ہندوستان ٹائمس نے کنہیا کمار کی گرفتاری پر اپنے ایڈیٹوریل  “سامراج سے چھٹکارہ پانے کا وقت”  میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا کنہیا کمار نے حقیقت میں ملک کے خلاف بغاوت کی کوئی دعوت دی تھی یا اس کے بیانات سے کہیں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے اوپر ملک کے خلاف بغاوت کا مقدمہ دائر ہونا چاہیے- دوسرا سوال یہ کہ کیا ہمیں اب بھی ڈیڑھ سو سالہ انگریزی سامراجی قانون کی ضرورت ہے- اسی تعلق سے کانگریس ممبر پارلیمنٹ شسی تھرور نے بھی پارلیامنٹ کے آنے والے بجٹ اجلاس میں ایک پرائیویٹ بل پیش کرنے کا ارادہ ظاہر  کیا ہے کہ کسی بھی شخص پر اس وقت تک ملک سے غداری کا مقدمہ نہیں قائم کیا جاسکتا جبتک کہ یہ ثابت نہ ہو کہ اس نے  تشدد کی وکالت کی ہو-یاد رہے کہ ہمارے ملک کے علاوہ یہ قانون سعودی عربیہ, ایران, شام, مصر,  ملیشیا ترکی, سوڈان ,ازبیکستان اور پاکستان میں بھی پایا جاتا ہے جہاں پچھلے پچاس سالوں سے کوئی عوامی حکومت نہیں رہی ہے اور یہاں کے ڈکٹیٹروں نے ہر اس شخص کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جو ان کی حکومت کیلئے خطرہ پیدا کر سکتے تھے جیسا کہ عراق، شام، صومالیہ، لیبیا  اور الجزائر وغیرہ میں آذادی کی پرامن عوامی تحریک  پرتشدد جنگ میں تبدیل ہوچکی ہے- پچھلے مہینے ۲۶ جنوری کو پاکستانی پولس نے ایک ۲۲ سالہ نوجوان عمر دراز پر ملک سے بغاوت کا مقدمہ درج کرکے جیل میں ڈال دیا ہے اس نوجوان کا قصور یہ تھا کہ اس نے آسٹریلیا کے خلاف ہو رہے ہندوستان کے ٹی ۲۰ میچ میں اپنے پسندیدہ کھلاڑی ویراٹ کوہلی کے ناٹ آؤٹ نوے کی خوشی میں اپنے گھر کے اوپر ہندوستانی جھنڈا لہرا دیا تھا- اسی طرح گجرات کے ہاردک پٹیل کو حکومت کے خلاف احتجاج اور کیرالا کے ایک نوجوان کو فیس بک پر کمنٹ کی وجہ سے اسی قانون کے تحت جیل کی ہوا کھانی پڑ رہی ہے- اخبار نے اپنے ایڈیٹوریل میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایسے قانون کی ضرورت تو ہے اور قصورواروں کو سزا بھی دی جانی چاہیے لیکن کسی بھی ملزم کو اس وقت تک قصوروار  نہیں قرار دیا جانا چاہیے جب تک کہ یہ فیصلہ نہ ہو جائے کہ ملزم کے بیانات اور ملک میں ہونے والے تشدد میں اس کا کوئی براہ راست تعلق بھی ہے یا نہیں -ہندوستان ٹاںُمس ۲۰ فروری۔

Parliament-march-by-JNU-Students

اب آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ جس قانون کے خلاف پورے ملک , ملک کے میڈیا اور سیاستدانوں کے حلقے میں بھی آواز اٹھ رہی ہے اور جس طرز خلافت اور نظریہ سیاست کے  دوبارہ عروج میں آنے کےخلاف سامراجی طاقتوں کے ساتھ ساتھ مسلم امہ کا ایک بہت بڑا طبقہ بھی کسی حد تک فعال اور  متحد ہے ماضی میں اسی خلافت اسلامیہ کے  دور میں انسانی آزادی اور انصاف کا تصور کتنا مضبوط اور مستحکم تھا۔

تاریخ کا مشہور واقعہ ہے کہ مدینے میں فیروز نامی ایک ایرانی غلام نے وقت کے خلیفہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ شکایت پیش کی کہ اس کا مالک اس کی محنت سے زیادہ ٹیکس وصول کرتا ہے لہذا آپ مجھے اس کےظلم سے نجات دلائیں- خلیفہ نے کہا تمہارا پیشہ کیا ہے اور تم اپنے مالک کو اس کام کا کیا معاوضہ دیتے ہو- غلام نے کہا میں چکی بناتا ہوں اور اسے چار درہم دیتا ہوں -خلیفہ نے کہا چونکہ تمہارے پیشے میں منافع زیادہ ہے اس لئے یہ رقم مناسب ہے -اور پھر یہ بھی کہا کہ سنا ہے تم چکی اچھی بناتے ہو , کیا تم مجھے بھی ایک چکی بنا کر دوگے- ایرانی غلام  چونکہ حضرت عمر کی قیادت میں مسلمانوں کے ہاتھوں ایران کی شکست کی وجہ سے پہلے ہی بغض رکھتا تھا اور ان کے فیصلے سے بھی خوش نہیں تھااس نے جواب دیا کہ میں آپ کو ایسی چکی بنا کر دونگا کہ دنیا یاد رکھے گی- حضرت عمرؓ نے اپنے پاس بیٹھے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ شخص مجھے قتل کی دھمکی دے کر گیا ہے- لوگوں نے کہا امیر المومنین آپ حکم دیں تو اسے گرفتار کر لیا جائے- خلیفہ نے کہا اس نے اقدام نہیں کیا ہے اس لئے اسے اس کی سزا نہیں دی جاسکتی-اسی طرح کچھ لوگ اسلام کے چوتھے خلیفہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے پاس ایک شخص کو گرفتار کر کے لائے اور کہا کہ امیر المومنین اس کو سزا دیجئے یہ شخص آپ کو برا بھلا کہہ رہا تھا امیر المومنین نے کہا کہ اسے چھوڑ دو اس کا جرم تعزیری نہیں ہے -اسلامی طرز سیاست میں وہ دن بھی آیا ہے جب سلطنت اسلامیہ کے ایک طاقتور خلیفہ حضرت عثمان غنیؓ کو محض چند سو باغیوں نے ان کے اپنے ہی گھر میں نظر بند ہونے کیلئے مجبور کر دیا  اور با الآخر وہ ان باغیوں کے ذریعے شہید بھی ہو گئے مگر حضرت عثمان غنی نے باوجود اس کے کہ شام کے گورنر حضرت معاویہ نے فوج بھیجنے کی پیشکش کی تھی اس لئے فوجی مدد کا سہارا نہیں لیا کہ کہیں آنے والے وقتوں میں عوامی بغاوت کو کچلنے کیلئے خلافت اسلامیہ کے لئے یہ  مثال نہ بن جائے- حالانکہ بعد کے حالات میں وہی ہوا جس کا ڈر تھا-لیکن انسانی تاریخ میں انسانیت آخری مغل اور سلطنت عثمانیہ کے دور میں بھی اتنی بے بس اور مجبور نہیں رہی جتنا کہ پچھلے دو سو سالہ جمہوری طرز سیاست میں انسانیت راشٹرواد اور وطنیت کی نظریاتی قید میں گھٹن محسوس کر رہی ہے -بیسویں صدی کے ایک عظیم مفکر اور شاعر علامہ اقبال نے بہت پہلے ہی جمہوری طرز سیاست کے اس فتنے کے خطرناک نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب تازہ خداؤں میں وطن سب سے بڑا ہے -یعنی اس طرز سیاست میں خدا کی توہین اور گستاخی کو برداشت کرنا آسان ہو جائیگا مگر زمین کا ٹکڑا محترم قرار پا ئے گا- اس وقت ہمارے  ملک میں راشٹرواد کو لیکر جو فساد برپا ہے اب اس کے خلاف راشٹروادی اور نیشنلسٹ ذہنیت کے علمبردار صحافی روش کمار , کرن تھاپر اور راجدیپ سر ڈیسائی بھی چیخ اٹھیں ہیں کی کہیں نہ کہیں راشٹرواد کے خلاف قانون کا بہانہ بنا کر حکمراں جماعتیں عوام کی شخصی آزادی کو بھی سلب کر لینا چاہتی ہیں اس لئے اب اس قانون سے چھٹکارے اور نجات کا وقت آگیا ہے -یہ بات سچ بھی ہے کہ دو سو سال پہلے جب کہ گلوبلائزیشن کا کوئی تصور بھی نہیں تھا پھر بھی ایک ملک کا انسان دوسرے  ملک میں بغیر کسی دستاویزی اڑچن کے ایک ملک سے دوسرے ملک میں ہجرت کر سکتا تھامگر اب جبکہ جدید ٹکنالوجی نے انسانوں کو ایک دوسرے سے بہت قریب اور آشنا کر دیا ہے ایسے میں اگر اسے کسی سرحد اور رنگ ونسل کا پابند بنا کر قید کر دیا جائے یا انسان خود اپنے سے اپنے اوپر یہ پابندی عائد کر لے تو اسے جہالت اور تنگ نظری نہیں تو اور کیا کہا جائے – بہرحال ہمارے ملک میں سنجیدہ اور انصاف پسند دانشوروں اور صحافیوں کی طرف سے  اس آواز کا اٹھنا ایک مثبت تبدیلی کا اشارہ  ضرور ہے لیکن ہمیں شک ہے کہ کہیں یہ تبدیلی بھی ایک مخصوص طبقے تک محدود ہو کر نہ رہ جائے – کہنے کا مقصد وہی ہے جو ابھی حال میں جمعیتہ العلماء کے صدر محترم ارشد مدنی نے کہا ہے کہ کنہیا کمار کی گرفتاری کو لیکر ملک کے سنجیدہ  دانشوروں اور کچھ غیر فرقہ پرست اخبارات اور ٹی وی چینلوں کی طرف سے جو انصاف کی آواز اٹھ رہی ہے یہی شور اس وقت بھی سنائی دینا چاہیے تھا جب اسی قانون کے تحت ابھی حال میں مسلم نوجوانوں اور علماء دین کو داعش سے تعلق کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا-سچ تو یہ ہے کہ ہماری پولس اور خفیہ ایجنسیوں نے انہیں بھی صرف ان کے مشتبہ بیانات اور فیس بک وغیرہ پر ہوئی بات چیت کی بنیاد پر ہی گرفتار کیا ہے مگر نہ تو ان کے بیانات سے ملک میں کسی طرح کے فساد یا تخریبی کاروائی کا کوئی عملی ثبوت ملتا ہے اور نہ ہی ماضی میں یہ نوجوان ایسی کسی مشتبہ کاروائی میں ملوث پائے گئے ہوں جس کی وجہ سے ان کے اوپر دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا جاسکے -اب دیکھنا یہ ہے کہ حالیہ کچھ دنوں میں  ہمارے ملک میں فاشزم کے خلاف جو آواز اور  تحریک اٹھی ہے کہیں یہ  بھی کسی ذات پات , نسل,مذہب اور نام نہاد  سیکولر اور لبرل نظریے تک محدود تو نہیں ہو جاتی ہے….! یا پھر یہ تحریک ان سب سے اوپر اٹھ کر انسانیت کے اس درد کو بھی محسوس کرتی ہے جو حقیقت میں انسان کی آواز ہے اور یہی انصاف ہے -انصاف اسلام کے بغیر بھی  اگر ممکن ہے تو ہمیں اس پر شک ہے -اسلام یہ ہے کہ انسان خود کو اپنے رب کی مرضی کے حوالے کردے -رب کی مرضی یہ ہے کہ اس نے دنیا اور اس کی ساری مخلوق کو صرف  ایک مقررہ وقت تک کیلئے قائم رکھا ہے تاکہ  انسان کو یوم آخرت میں اپنے سارے اعمال کیلئے جوابدہ ہونا پڑے- یہ بات یقینی ہے اور اگر انسان کا اس عقیدے پر پختہ یقین ہو جائے تو وہ چاہے بادشاہ ہو یا رعایا اسے ایک دن ایک طاقت کے سامنے جوابدہ ہونا ہے تو وہ کسی کی آزادی کو چھیننے کی کبھی کوشس نہیں کریگا یا اگر کوئی ظالم اور جابر حکمراں ایسا کرنے کی جرات کرتا ہے تو کچھ مضبوط ہاتھ انہیں ایسا کرنے سے ضرور باز رکھیں گے – بہرحال جے این یو کے طلبا ,سیکولر میڈیا اور حزب اختلاف کے پرزور  احتجاج کی وجہ سے کہیں نہ کہیں ملک کی عدلیہ نے بھی دباؤ محسوس کیا اور کنہیا کو وقتی راحت مل چکی ہے لیکن کئی سوال اب بھی کمزور طبقات کے ذہن میں منھ کھولے کھڑے ہیں کہ آخر احتجاج اور مظاہروں کے یہی ہاتھ انظر شاہ قاسمی ,مولانا سمیع اللہ اور دیگر مسلم نوجوانوں کیلئے بھی کیوں نہیں بلند ہوئے یا پھر ہم نے انہیں دہشت گرد مان ہی لیا ہے -ذہن میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ سیکڑوں یونیورسٹیوں اور کا لجوں کے گڈھ ہندوستان میں ایک یونیورسٹی کا طالب علم روہت وومیلا ملک کی ایک معمولی خاتون منسٹر کی وجہ سے خودکشی کر لیتا ہے مگر ملک کی تمام یونیورسٹیوں کے طلبا نہ تو اس قیامت پر متحد ہو پاتے ہیں اور نہ ہی منسٹر کو استعفیٰ دینے کی زحمت دینی پڑی مگر تیونس کے جاہل مسلمانوں نے ایک بو عزیزی کی خودسوزی پر آسمان سر پر اٹھا لیااور اس ملک کے ڈکٹیٹر کو  فرار ہونا پڑا تو اس لئے کہ ان کے ہاتھ مضبوط تھے مگر ہمارے ہاتھ اب بھی کمزور ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *