ریاستوں کی ادبی تاریخ مرتب کرے گی کونسل: پروفیسر ارتضیٰ کریم

NCPUL Meeting_24 Feb 16

تاریخ ادب اردو، اردو انسائیکلوپیڈیا اور مونوگراف پینل کی میٹنگ

نئی دہلی، ۲۴ فروری: اردو ادب کی صوبائی تاریخ کا مرتب کرنا بھی ایک اہم کام ہے۔ ہمارے پاس مجموعی تاریخ ادب کا ذخیرہ موجود ہے، لیکن علاقائی تاریخ کے حوالے سے ہمارے پاس وافر ادبی سرمایہ موجود نہیں ہے۔ لہٰذا کونسل بہت جلد اس سلسلے میں ایک اہم فیصلہ لے کر اردو ادب کے حوالے سے مختلف ریاستوں کی ادبی تاریخ مرتب کرے گی۔ یہ باتیں کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے صدر دفتر میں منعقد تاریخ ادب اردو، اردو انسائیکلوپیڈیا اور مونوگراف پینل کی میٹنگ میں کہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے لیے یہ خوش بختی کی بات ہے کہ اس پینل کی سرپرستی معروف نقاد پروفیسر شمس الرحمن فاروقی کر رہے ہیں۔ ہم کونسل کی جانب سے تمام ممبران بالخصوص اپنے معزز مہمان کا استقبال کرتے ہیں۔

اس میٹنگ کی صدارت پروفیسر شمس الرحمن فاروقی نے کی۔انھوں نے قبل از میٹنگ حالیہ دنوں میں اردو کی اہم شخصیات میں انتظار حسین،عابد سہیل، ندا فاضلی، محبوب الرحمن فاروقی اور زبیر رضوی کے لےے خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر انھوں نے گزشتہ تجاویز کو دیکھتے ہوئے کچھ نکات پر روشنی ڈالی۔ سب سے پہلے پروجیکٹ تاریخ ادب اردو کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس کے اہداف کو مقررہ وقت میں پورا کرنے کے لیے عزم کو دہرایا۔ اس سلسلے میں انھوں نے پروفیسر ظفر احمد صدیقی سے رابطہ کر کے تاریخ ادب اردو کی جلد چھ کے لیے مزید چھ ماہ کی مدت طے کی۔ اس کے علاوہ کئی اہم فیصلے لیے گئے۔ تاریخ ادب اردو جلد 18 ، حصہ: نثر کے لیے ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب کو ذمے داری دی گئی، جس کی تکمیل کی مدت دو سال رکھی گئی ہے، جبکہ حصہ نظم کے لیے ڈاکٹر عقیل احمد صدیقی/ڈاکٹر قمر الہدیٰ فریدی کے نام تجویز کیے گئے۔ پروفیسر شمس الرحمن فاروقی نے موجودہ دور میں بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کو دیکھتے ہوئے اس پروجیکٹ سے منسلک اسسٹنٹ کی تنخواہ فی ماہ چھ ہزار روپئے سے بڑھانے کی تجویز پیش کی، جسے کمیٹی نے مشترکہ طور پر منظوری دے دی۔ کمیٹی تفصیلی گفتگو کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ پروجیکٹ کے لیے کونسل کی جانب سے جو رقم مختص ہے وہ ناکافی ہے۔ لہٰذا چھوٹے پروجیکٹ کے لیے مجموعی پانچ لاکھ اور بڑے پروجیکٹ کے لیے مجموعی دس لاکھ روپئے تک کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ لیکن ساتھ ہی کونسل یہ فیصلہ کرے گی کہ کون سا پروجیکٹ چھوٹا اور کون بڑا ہے۔ پروجیکٹ پیش کرنے والے کو کونسل کے سامنے اس بابت جواز پیش کرنا ہوگا۔

اس موقع پر پروفیسر ابو الکلام قاسمی نے یہ بات کہی کہ ایسی کتابیں جو نادر و نایاب ہیں کونسل دوبارہ شائع کرے گی۔ اس میٹنگ میں پروفیسر قدوس جاوید، پروفیسر ابو الکلام قاسمی، پروفیسر حسین الحق، ڈاکٹر حبیب نثار، پروفیسر قاضی عبید الرحمن ہاشمی نے بھی شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *