سروے رپورٹ میں زکوٰۃ بڑا سچ آیا سامنے

قومی زکوة سروے : حقائق و رپورٹ

زکوة اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔ یہ ان تمام مسلمانوں کے لیے فرض ہے جو دولت کی مخصوص شرط کو پورا کرتے ہوں۔ ایسے تمام مسلمان جن پر زکاة فرض ہے انہیں سالانہ اپنے خاندانی اخراجات نفی کرنے کے بعد اپنی مال و دولت پر ڈھائی فیصد یا اس کا چالیسواں حصہ زکوة کے طور پر دینا ہوتا ہے۔ 

زکوة نیکی اور تقویٰ کا وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے پسماندہ اور معاشی طور پر کمزور اپنے بھائیوں کی مالی مدد کی جاسکتی ہے مزید یہ سماج اور معاشرے امیر و غریب کے درمیان باہمی آہنگی کا ذریعہ ہے۔ یہ ایک ایسا ذریعہ یا آلہ ہے کہ اگر منظم اور صحیح طریقے سے اس کا اجماع اور تقسیم کا نظم کیا جائے تو اس کے ذریعے وسائل سے محروم کمیونٹی کے افراد کی زندگی کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

ایسو سی ایشن آف مسلم پروفیشنلس (اے ایم پی) ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جو گذشتہ ایک دہائی سے بھی زائد عرصے سے تعلیم اور معاشی استحکام کے لیے کوشاں ہے۔ گذشتہ پانچ برسوں سے اے ایم پی زکوة کے مرکزی نظام کے لیے جد و جہد کررہی ہے تاکہ معاشی طور پر کمیونٹی کے پسماندہ افراد کی زندگیوں میں بہتری لائے جاسکے اور انھیں ”زکوة لینے والوں سے زکوة دینے والوں“ میں تبدیل کیا جاسکے۔ 

مسلم کمیونٹی میں زکوة کے حصول اور تقسیم کے نظام کو کو سمجھنے، اسکی کمی کے اثرات کو جاننے کے لیے اےا یم پی نے ”قومی زکوة سروے“ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس ضمن میں درج ذیل اقدامات کیے گئے ،ڈاٹا اور حقائق کی بنیاد پر رپورٹ تیار کی گئی جسے ۲مئی ٢٠١٩ء کو پریس کلب ممبئی میں ایک پریس کانفرنس میں پیش کیا گیا۔ 

٭ کمیونٹی کے معروف اسکالرس کی مدد سے جائزے کے لیے ایک تفصیلی سوال نامہ تیار کیا گیا۔ 

٭ تجزیہ کا سوالنامہ تیار ہونے پر آن لائن لنک فراہم کی گئی۔ 

٭ آن لائن سروے کا طریقہ کار اختیار کیا گیا اور پریس اور سوشل میڈیا کے ذریعے کمیونٹی کے مختلف افراد سے رابطہ کرکے ان کی آراء کو جاننے کی کوشش کی گئی۔

٭ دنیا کے تیرہ ممالک اور ہندوستان کے ایک سو پچہہتر شہروں سے جملہ چار ہزار پانچ سو نواسی (4589) افراد نے اس سروے میں حصہ لیا۔ ان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت ، عمان، قطر، برطانیہ ، امریکہ، ملیشیا، سنگا پور، جرمنی، کناڈا، جاپان اور روانڈا (افریقہ) سے لوگوں نے شرکت کی۔ 

  عامر ادریسی (اے ایم پی صدر) نے کہا کہ ”یہ حیرت انگیز ہے کہ ۴۸ فیصد افراد جن پر زکوة فرض ہے وہ زکوة ادا کرتے ہیں لیکن ۳۳ فیصد افراد کو زکوة اور اسکے فوائد کے تعلق سے معلومات نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “قابل افسوس بات یہ ہے کہ ساٹھ (۰۶) فیصد افراد ہر سال یکساں افراد کو زکوة ادا کرتے ہیں اور یہ پوچھے جانے پر کہ کیا انھوں نے ان افراد کی زندگی میں کوئی تبدیلی محسوس کی ہے تقریباً پچپن ۵۵ فیصد افراد کا جواب تھا کہ انھیں اس کی کوئی فکر نہیں اور وہ صرف اپنی زکوة کی ذمہ داریوں سے مبرا ہونا چاہتے ہیں۔ “

عامر ادریسی نے مزید کہا کہ ”اے ایم پی کے سروے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ اس میں حصہ لینے والے چالیس فیصد افراد نے کہاکہ وہ زکوة کی تحسیب کے صحیح طریقے سے واقف نہیں ہیں۔ اے ایم پی نے اس ضمن میں پہلے ہی اپنی ویب سائٹ پر زکوة کیلکولیٹر اپلوڈ کای ہے تاکہ کمیونٹی کے افراد صحیح طریقے سے زکوة تحسیب کرسکیں۔“ عامر ادریسی نے کہا کہ سروے رپورٹ کے مطابق نوے فیصد زکوة دینے والے افراد کا ماننا ہے کہ زکوة کا ایک ایسا منظم لائحہ عمل ہو کہ آج زکوة لینے والے افراد کل زکوة دینے والے بن جائیں۔ 

ایم زیڈ رحمان (صدر انڈو عرب چیمبرس آف کامرس) نے اس پریس کانفرنس میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی اور کہا کہ ”اے ایم پی نے اس قومی زکوة سروے کے ذریعے ایک قابلِ ستائش کام کیا ہے”۔ ایم زیڈ رحمان نے مزید کہا کہ ”توحید ، نماز و روزہ کے بعد زکوة اسلام کا ایک اہم رکن ہے۔ عربی میں زکوة کا مطلب ہے اضافہ، ترقی اور خالص ہونا۔ ہندوستان میں پانچ کروڑ پسماندہ مسلمانوں کے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے اگر زکوة ادا کرنے والے افراد منظم طریقے سے زکوة جمع کریں اور ان کی تقسیم کا صحیح طریقہ اختیارکیا جائے۔ ہمارے تعلیم یافتہ طبقے کو مذہبی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہوگا تاکہ وہ بھی دنیا اور آخرت میں اللہ کی رحمت سے محروم نہ ہوں”۔

ماجد خان (اے ایم پی ، معاشی ترقیاتی منصوبہ بندی سیل کے ممبر) اور سی ای او بزنس بیرن میگزین نے کہا کہ ”زکوة کا مقصد ہی منظم اور مرکزی طریقے سے زکوة کی وصولی اور تقسیم کرنا ہے تاکہ سب کو برابری کا موقع مل سکے۔ 

آخر میں جاوید سید نے کہا کہ ” زکوة مسلمانوں کے پاس ایک ایسا معاشی ذریعہ ہے جو مسلم کمیونیٹی کو موجودہ پسماندگی سے ملک کی ترقی میں میں سربراہی کرنے والا بنا سکتا ہے اے ایم پی اس ضمن میں مسلم پروفیشنلس کی استطاعت کے مطابق اقدامات کررہی ہے اور زکوة کی منظم وصولی اور تقسیم کاری کے اس قدم کے ذریعے کمیونٹی اور ملک کی ترقی میں اہم رول ادا کرے گی۔ “

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply