سعودی افواج کو مسجد اقصیٰ کی طرف رخ کرنا چاہیے: مفتی مکرم

نئی دہلی: مسجد فتحپوری، دہلی کے امام مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں اتحاد اور اجتماعیت کی اپیل کی ۔انہوں نے کہا کہ جماعت کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کو جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی تلقین کی گئی ہے اور اس کے لیے ۲۷ گنا زیادہ ثواب ملتا ہے۔پیغمبر اسلام ﷺ نے باربار اتحاد اور اجتماعیت کے ساتھ رہنے کا حکم دیا تھا اور امت میں جب تک اتحاد قائم رہا ہر طرف کامیابی ملتی رہی۔ قرآن کریم کی تعلیمات میں یہی حکم دیا گیا ہے کہ اتحاد کے ساتھ اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور تفرقہ پیدا نہ کرو ورنہ تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔

مفتی مکرم نے کہا کہ امت میں بہت سے فرقے ہیں اور مسلکی اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ ان کا ختم ہونا ممکن نہیں لگتا ہے۔ اس کے باوجود عقید ہ کے مسئلہ کو چھیڑ ے بغیر سماجی اور سیاسی مسائل میں امت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باہر کے لوگ جب مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں تو وہ مسلک اورعقیدہ کی بنیاد پرکسی کوبھی نہیں بخشتے۔ لہذا اپنے دنیاوی مسائل کو حل کرنے کے لیے آج امت میں اتحاد بہت ضروری ہے، روزگار اور ملازمت جیسے بہت سے ایشوز ہیں جن کو متحد ہو کر حل کیا جا سکتا ہے۔

مسجد فتحپوری کے امام نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت یقیناً سیکولرازم اور جمہوری نظام حکومت کی پیشانی پر ایک بد نما داغ ہے جس کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ مسجد کو شہید کرکے جس طرح سے وہاں عارضی مندر بنایا گیا یہ سیاسی ناکامی ہے اب یہ معاملہ ہندوستان کی سب سے بڑی عدالت میں زیر سماعت ہے اس کے باوجود کچھ لوگ شرارت سے باز نہیں آرہے ہیں اور اپنے اقوال سے عدالت کی توہین کررہے ہیں جس پر عدالت کو نوٹس لینا چاہیے نیز مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو بھی ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے ۔حقیقت تویہ ہے کہ مندر کا ایشو اب بے اثر ہو چکا ہے الیکشن جیتنے کے لئے اسے ہوا دینے کی کوشش کی جارہی ہے جو ہر گز کامیاب نہیں ہوگی ۔شاہی امام نے کہا کہ بھارت میں غیر ملکیوں کی دلچسپی سیکولرازم اور جمہوریت کی وجہ سے ہی ہے ۔بھارت ایک گلدستہ کی طرح ہے جس میں رنگ برنگ کے پھول ہیں جو بہت خوشنما لگتے ہیں اور پورے چمن کو مہکا تے رہتے ہیں ۔اگر یہاں کے سیکولرازم کو آنچ آئی تو بھارت میں کچھ بھی کشش نہیں رہے گی اور ملک کا نقصان ہوگا ۔

شاہی امام نے اسرائیلی سازشوں کی مذمت کی۔ خبروں سے پتہ چلتا رہا ہے کہ صہیونی حکومت قبلہ اول سے متصل یہودی معبد کی تعمیر کا صہیونی منصوبہ تیار کر چکی ہے اور مسجد اقصی کی مغربی سمت میں مسجد سے محض چند میٹر کے فاصلے پر تاریخی معبد تیار کرنے کا منصوبہ بندی کر رہی ہے ۔حالانکہ یہ جگہ قبلہ اول کا وقف اسلام املاک کاحصہ ہے ۔شاہی امام نے کہا کہ سعودی حکومت اپنے اتحادیوں کے ساتھ بغیر کسی تاخیر کے قبلہ اول کی طرف فوج کشی کرکے صیہونی حکومت کی سرکوبی کرے اور مسلم ممالک کو اس طرف متوجہ کرنے میں قائدانہ رول اداکرے تاکہ قبلہ اول کی حفاظت کی جاسکے ۔شاہی امام نے ان خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کیا اورامت سے اپیل کی کہ اس خطرناک سازش کو ناکام بنائیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *