سعودی عرب میں ہندوستانی ملازمہ کا مبینہ قتل

Woman tortured to death

تلنگانہ، ۹ مئی (ایجنسی): حیدرآباد کی رہنے والی ایک ۲۵ سالہ خاتون، جو سعودی عرب میں ’گھریلو ملازمہ‘ کے طور پر کام کرنے گئی تھی، کو مبینہ طور پر اتنا پیٹا گیا کہ شاہ سعود اسپتال میں علاج کے دوران وہ اپنے زخموں کی تاب نہ لاکر اس دنیا سے چل بسی۔

اُس ملازمہ کا نام عاصمہ خاتون تھا۔ گزشتہ جمعرات کو سعودی عرب کی راجدھانی ریاض سے کسی نامعلوم شخص نے اس کی والدہ کو فون کرکے بتایا کہ عاصمہ اب اس دنیا میں نہیں رہی۔ موت سے قبل عاصمہ بھی اکثر اپنے گھر فون کرکے بتایا کرتی تھی کہ کیسے اس کا مالک اسے بری طرح پیٹتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، عاصمہ کی موت سے تین دن قبل تلنگانہ کے چیف سکریٹری ڈاکٹر راجیو شرما نے متاثرہ کے اہل خانہ کی طرف سے مرکزی حکومت کو خط لکھ کر درخواست کی تھی کہ عاصمہ کو اس کے مالک کے قبضے سے چھڑاکر حیدرآباد واپس لانے کا انتظام کیا جائے۔

عاصمہ دبیر پورہ کی شاہ کالونی کی رہنے والی ہے۔ دو سال پہلے سعودی حکومت نے چونکہ ’گھریلو ملازمہ‘ کا ویزا جاری کرنا بند کر دیا تھا، اس لیے اسے ۹۰ دن کے تجارتی سفر ویزا پر ریاض بھیجا گیا تھا، جہاں پر اسے ایک گھر میں بند کرکے رکھا گیا۔

ہندوستان سے جانے کے بعد گھر والوں کو اس کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ملتی تھی، تاہم دو ماہ قبل اس نے اپنے گھر والوں کو فون کرکے بتایا تھا کہ کیسے اس کا مالک، عبدالرحمٰن علی محمد اسے بری طرح مارتا پیٹتا ہے۔ اس نے اپنی ماں کو فون پر بتایا تھا کہ کیسے اس کا مالک اسے ذہنی اور جسمانی طور پر اذیتیں دیتا ہے۔ اس نے اپنے گھر والوں سے گزارش کی تھی کہ وہ اسے کسی بھی طرح وہاں سے نکالنے کا انتظام کریں۔ فی الحال پولس اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *