سفر حج کے موقع پر دہلی میں ہوگی مشاعرہ بازی

نئی دہلی: دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی نے حج کیمپ کی افتتاحی تقریب میں دعائیہ اجلاس کے بجائے مشاعرہ بازی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لیے حج کمیٹی کا ساتھ دہلی اردو اکادمی بھی دے رہی ہے۔ میڈیا کو ارسال کردہ میل میں لکھا گیا ہے: دعوت نامہ برائے مشاعرہ۔ اس کے ساتھ ہی دعوت نامہ کا کارڈ بھی منسلک ہے جس میں تفصیلات ہیں۔ اس کے مطابق دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی حج کیمپ کی افتتاحی تقریب کے موقع پر دہلی اردو اکادمی کے اشتراک سے نظمیہ مشاعرہ منعقد کررہی ہے۔ یہ مشاعرہ ۱۲؍ جولائی کو رات ۸؍ بجے سے دہلی کے رام لیلا میدان میں ہوگا جس میں حکومت دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا مہمان خصوصی ہوں گے کارڈ میں دوسرے نمبر پر دہلی کے وزیر برائے محصولات کیلاش گہلوت کا ہے جو شمع افروزی کریں گے۔ تیسرے نمبر پر آل انڈیا حج کمیٹی کے چیئرمین اور بہار میں کھگڑیا لوک سبھا حلقہ سے رکن پارلیمنٹ چودھری محبوب علی قیصر کا نام ہے۔ وہ مشاعرہ کے مہمان اعزازی ہوں گے۔ شاعروں کی فہرست کو بھر دیا گیا ہے۔
اب بڑا سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب حج ایک خالص مذہبی فریضہ ہے اور اس کو ادا کرنے کے لیے ہر یک عقیدتمند اپنی جیب سے پیسہ خرچ کرتا ہے تو پھرعازمین کو سہولت پہنچانے کے مقصد سے لگائے جارہے کیمپ کی افتتاحی تقریب میں مشاعرہ کے انعقاد کا کیا مطلب ہوسکتا ہے۔ کیا روزہ افطار کی طرح یہ حج جیسے اہم مذہبی فریضہ کی ادائیگی کے سلسلے میں ایک جگہ جمع ہونے والے عقیدتمندوں کے سیاسی استحصال کی رسم تو نہیں ڈالی جارہی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ دہلی اردو اکادمی کا پیسہ کسی پروفیسر یا وزیر صاحب کا نہیں ہے جو وہ اپنی مرضی سے جہاں چاہیں خرچ کردیں۔ اس کے لیے انہیں جوابدہ ہونا پڑے گا۔
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *