سمری بختیار پور کا سیاسی منظرنامہ

ذیشان

سمری بختیارپور اسمبلی حلقہ میں ۲۱؍ اکتوبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ یہاں سے آرجے ڈی کے ظفرعالم اور جے ڈی یو سے سابق ایم ایل اے ارون یادو اہم امیدواروں میں سے ہیں۔ ویسے کل ملا کر نصف درجن کے قریب امیدوار اس بار کے ضمنی انتخابات میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ سمری بختیار پور اسمبلی حلقہ کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے ماہرین یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ اس بار بھی اصل مقابلہ آرجے ڈی اور جے ڈی یو کے امیدواروں کے درمیان ہوگا۔ اس بارے میں سمری بختیارپور کے سیاسی حالات پر نظر رکھنے والے ایک صاحب نے بتایا کہ آرجے ڈی اور این ڈی اے کے امیدواروں میں سخت مقابلہ ہونے کی امید ہے ، لیکن بازی ظفر عالم کے ہاتھ لگنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ظفر عالم کے پاس ورکر کی تو بہت کمی ہے ، لیکن ووٹر وں کی کمی نہیں ہے۔ ظفرعالم اور ان کے حامی اپنے کارکنوں کی تعداد میں کتنا اضافہ کرسکتے ہیں اور وہ زمینی سطح پر کتنا مؤثر رول ادا کر سکتے ہیں، یہ بہت اہم ہے۔ تعلیم کے شعبہ سے وابستہ شخص نے بتایا کہ ظفر عالم کو آرجے ڈی کے روایتی ووٹروں کا کم وبیش ۸۰؍ فیصد ساتھ مل رہا ہے۔ اسی طرح دلت اور انتہائی پسماندہ طبقات کے لوگ بھی بڑی تعداد میں ظفر عالم کی حمایت کرتے نظر آرہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ بہار کی سیاست میں ذات پات کے اثر کو دیکھتے ہوئے کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یادو رائے دہندگان کی اکثریت ارون یادو کے ساتھ ہوسکتی ہے، تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا: صرف ذات کی بنیاد پر اب کسی کو حمایت نہیں ملتی ہے ، اور جہاں تک ذات کی بات ہے تو یادووں کی اکثریت آج بھی لالو یادو کے ساتھ کھڑی ہے، اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ارون یادو اس سے قبل سمری بختیار پور حلقہ کی نمائندگی کر چکے ہیں، لیکن اس دوران انہوں نے ایسا کوئی اہم کارنامہ انجام نہیں دیا جس کی وجہ سے لوگ انہیں یاد رکھیں۔ سمری بختیارپور کی اس نامور شخصیت نے اپنا نام ظاہر نہیں کرنے کی شرط پر بتایا کہ آرجے ڈی سے ٹکٹ کے خواہاں چند ایک لیڈروں نے ظفرعالم کی مخالفت ضرور کی ہے، لیکن اب انہیں معلوم ہو رہا ہے کہ اس کی وجہ سے ان کی اپنی خود کی زمین بھی کمزور پڑنے لگی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ظفر عالم سے ذاتی اختلافات رکھنے والے چند ایک افراد ضرور ہیں لیکن عوام ان کی باتوں پر توجہ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

سمری بختیار پور کی انتخابی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک دوسرے صاحب نے بتایا کہ یہاں کے سابق ایم ایل اے دنیش چندر یادو نے ارون یادو کی کامیابی کے لیے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے، اس کے باوجود ابھی تک جو حالات ہیں وہ این ڈی اے کے حق میں جاتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی اے کی سب سے بڑی طاقت اس کے کارکنان ہیں ۔ خاص طور سے بی جے پی اور آرایس ایس کے کارکنان سالوں بھر سرگرم رہتے ہیں ۔ لیکن اس بار جے ڈی یو اور بی جےپی میں جو برتری ثابت کرنے کی جنگ چل رہی ہے، اس سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ بی جے پی کے بیشتر کارکنان انتخابی سرگرمیوں میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وی آئی پی کے امیدوار بھی این ڈی اے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سن آف ملاح کے لقب سے مشہور وکاس شیل انسان پارٹی کے صدر مکیش سہنی کے زیادہ تر حامی روایتی طور پر بی جے پی کو ووٹ دیتے رہے ہیں۔ اس بار بی جے پی اور جے ڈی یو ساتھ ہیں یعنی این ڈی اے کا حصہ ہیں۔ اس کی وجہ سے بی جے پی کے حامیوں کا ووٹ بھی جے ڈی یو کے امیدوار کو ملنے کے امکانات ہیں۔ لیکن وی آئی پی کا اپنا امیدوار میدان میں ہونے سے این ڈی اے کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ظفر عالم کو ایک اور چیز کا فائدہ ہوسکتا ہے۔ وہ زمین سے جڑے لیڈر ہیں اورکسی کے ساتھ بھی ذات پات اورمذہب کی بنیاد پر تفریق نہیں کرتے۔ لیکن ایک بات ظفر عالم ، ارون یادو اور دوسرے سبھی امیدواروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ووٹربہت آسانی سے کسی کو ووٹ نہیں دیتے۔ امیدواروں کو ووٹروں کی چوکھٹ تک جانا ہوگااور جو امیدوار جتنا سر جھکا کر عوام کے دربار میں پہنچے گا، اس کو اتنا ہی زیادہ آشیرواد ملنے کی امید کی جا سکتی ہے۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply