سپریم کورٹ نے کنھیا کی سماعت فوراً روکنے کے لیے کہا

نئی دہلی، ۱۷ فروری: تھوڑی دیر پہلے جب دہلی پولس جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کے صدر کنھیا کمار کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کرنے کے لیے لے جا رہی تھی، تبھی وکیلوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ حالات کو قابو سے باہر جاتا دیکھ، سپریم کورٹ نے پٹیالہ ہاؤس کورٹ سے کنھیا کی سماعت کو فوری طور پر روکنے اور عدالت کو خالی کرانے کا حکم دے دیا۔

دریں اثنا، سپریم کورٹ نے عدالتِ عظمیٰ کے چھ سینئر وکیلوں کی ایک ٹیم بھی پٹیالہ ہاؤس کورٹ بھیجی ہے۔ ان وکیلوں سے کہا گیا ہے کہ وہ منٹ در منٹ کی رپورٹ سپریم کورٹ کو دیں۔ یہی نہیں، سپریم کورٹ نے دہلی پولس کے وکیل کو بھی دس منٹ کے اندر عدالت میں حاضر ہوکر اس پر جواب دینے کے لیے کہا ہے۔ ابھی ابھی خبر آ رہی ہے کہ کنھیا کو ۲ مارچ تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔

آج دن میں تقریباً ڈیڑھ بجے کنھیا مخالف وکیلوں نے عدالت کے احاطہ میں ایک بار پھر صحافیوں کو نشانہ بنایا تھا اور جب کنھیا کو عدالت میں لے جایا جا رہا تھا، تب انھوں نے کنھیا پر بھی حملہ کر دیا۔ یشپال سنگھ اور وکرم چوہان کی قیادت میں پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے ان وکیلوں نے دو دنوں سے وہاں پر غنڈہ گردی مچا رکھی ہے۔ وہ اپنے ہاتھوں میں قومی پرچم لے کر اپنی حب الوطنی زبردستی منوانے پر تُلے ہوئے ہیں، جب کہ لاء اینڈ آرڈر کو ٹھینکا دکھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے انھیں عدالت کے احاطہ میں نعرے بازی سے منع کیا تھا، اس کے باوجود انھوں نے عدالت کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ ان کی انھیں حرکتوں کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے یہ سخت قدم اٹھایا ہے۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *