سڑک مل گئی تو سمجھو سب کچھ مل گیا

تنویر احمد خواجہ، پونچھ
تنویر احمد خواجہ، پونچھ

وزیر اعظم دیہی سڑک اسکیم (پی-ایم-جی-ایس-وائی) کو ملک کے دیہی علاقوں میں سڑک فراہم کرنے کیلئے ۲۵ دسبر ۲۰۰۰ کو پور ی طرح سے اخراجات کی ذمہ داری مرکزی حکومت نے لے رکھی ہے۔ پروگرام کے تحت میدانی علاقوں میں ۵۰۰ یا اس سے زیادہ کی آبادی والے اور پہاڑی و ریگستانی علاقوں میں ۲۵۰ یا اس سے زیادہ کی آبادی والے تمام علاقوں کو سڑکوں سے منسلک کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ لیکن پہاڑی ضلع پونچھ کی تحصیل سرنکوٹ کا گاؤں ہاڑی بھی پہاڑی علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے اسے مذکورہ منصوبہ کا فائدہ نہیں مل رہا ہے جس کی وجہ سے یہاں ٹریفک نظام ٹھپ ہے۔ واضح ہو کہ اس گاؤں میں دو پنچایتیں ہیں، جنہیں ہاڑی اپر اور ہاڑی لور کے نام سے جانا جاتا ہے۔ گاؤں کی کل آبادی سال ۲۰۱۱ کی مردم شماری رپورٹ کے مطابق ۷۹۵۵ ہے جس میں ۳۸۶۹ خواتین اور ۴۰۸۶ مرد ہیں۔ باوجود اس کے یہ علاقہ اب بھی سڑک جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے باشندے ندی نالہ اور پہاڑیوں کا سینہ چیر کر گزرتے ہوئے اپنی تحصیل یا بلاک تک جاپاتے ہیں۔ میلوں کا سفر پیدل طے کرکے روزانہ کا راشن سے لے کر گھروں کو روشن کرنے کے لئے مٹی کا تیل تک خرید کر لاتے ہیں۔

DSCN3562

اس بارے میں علاقے کے باشندے عبد العزیز جو پیشہ سے مزدور ہیں کہتے ہیں کہ ’’ہمیں سڑک کی بہت ضرورت ہے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں کہ سڑک محکمہ کہاں سے کس طرح سڑک بنانے کے لئے راستہ نکالے اگر ہمیں سڑک مل گئی تو سمجھ لو ہمیں بہت کچھ مل جائے گا۔ آج ہم راشن لانے کے لئے یا تومیلوں پیدل چل کر جاتے ہیں یا گھوڑے والے کو چار سو روپے دیتے ہیں تب جاکر گھر راشن آ پاتا ہے۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ پونچھ بس اڈے سے جموں جو تقریباً ۲۳۵ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جانے کے لئے بس کا کرایہ ۳۰۰ روپے دینا ہوتا ہے جبکہ ہاڑی کے باشندگان کو راشن کے لئے چند کلومیٹر کی قیمت ۴۰۰ روپے گھوڑے والے کوا دا کرنی پڑتی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر اس علاقے میں سڑک ہوتی تو یہاں کے لوگ صرف دس یا بیس روپے میں اپنا راشن اپنے گھروں تک پہنچا لیتے۔ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے ہونے والی پریشانی کے بارے میں ۶۰ سالہ عبد الحمید کہتے ہیں کہ ’ہمیں سڑک ہر حال میں چاہئے، اگر ہمیں کہیں جانا پڑے تو بہت پریشانی ہوتی ہے اور اگر راشن وغیرہ گھوڑے پر لایا جائے تو گھوڑے والے کو چار سو روپے فی چکر دینا پڑتا ہے۔‘‘ اسی گاؤں کے محمد عارف کہتے ہیں کہ ’’پنچایت ہاڑی اپر کے دس وارڈوں میں سے صرف دو وارڈوں سات اور دس تک سڑک جاتی ہے۔ باقی کسی بھی وارڈ میں سڑک نہیں ہے۔‘‘ عبد الحمید مزید تفصیل سے بتاتے ہیں کہ ’’ایک بار ہمارے علاقے میں سڑک بنانے کے لئے سروے کیا گیا تھا لیکن ابھی تک نہ سڑک آئی اور نہ سروے کرنے والے لوگ واپس آئے۔ ہم سب حکومت اور ملک کے رہنماؤں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مہربانی کر کے ہمارے گاؤں کو بھی سڑک مہیا کرائی جائے تاکہ ہماری زندگی آسان ہو جائے۔‘‘

DSCN3547

حالیہ خبروں کے مطابق موجودہ حکومت کے ۲ سال پورے ہونے پر جب ملک کے ۵۰ سینئر صحافیوں کے پینل نے مرکزی حکومت کے وزراء کو نمبر دیے تو سڑک ٹرانسپورٹ کے وزیر نتن گڈکری کو نمبر وَن کا مقام حاصل ہوا، وجہ سڑک کی تعمیر میں آئی تیزی ہیے۔ سال ۲۰۱۳ میں روزانہ اوسطاً ۷ کلومیٹر ہائی وے بن رہے تھے، جبکہ ۲۰۱۴ میں یہ گر اف نیچے آ کر ۲ کلومیٹر روزانہ رہ گیا موجودہ وزیر گڈکری نے ۳۰ کلومیٹر کا ہدف رکھا تھا لیکن ابھی روزانہ تقریباً ۲۰ سے ۲۱ کلو میٹر سڑک کی تعمیر کا کام ہو رہا ہے۔ بطور سڑک وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری نے یہ وعدہ کیا تھا کہ مودی حکومت کے ۲ سال پورے ہونے تک وہ طویل عرصے سے رکے ہوئے سڑک پروجیکٹ کے مسائل کو دور کر دیں گے، یہ اچھی بات ہے کہ ملک کے وزیر ٹرانسپورٹ اپنے کام کو بہتر بنانے کے لئے کوشاں ہیں لیکن اس کوشش میں اگر سرحدی وپہاڑی ضلع پونچھ کے علاقے بھی جڑ جائیں تو ’میرا ملک بدل رہا ہے‘ کا نعرہ سچ ثابت ہوجائے۔ (چرخہ فیچرس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *