سیتامڑھی فساد متاثرین کو انصاف دلانے اور زین الانصاری کے قتل کیخلاف ریاست کے ہرضلع میں بیداری کارواں نکالے گا احتجاجی جلوس :نظرعالم

دربھنگہ۔ آج مورخہ 12 نومبر کو آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے ریجنل دفتر لال باغ، دربھنگہ(بہار) نے پریس بیان جاری کر بتایا کہ 20اکتوبر 2018 کو سیتامڑھی میں ہوئے فساد اور 82 سال کے زین الانصاری کی بے دردی سے قتل کئے جانے کے خلاف احتجاجی جلوس نکالے گا بیداری کارواں ریاست کے ہرضلع میں۔بیداری کارواں کی مانگ ہے کہ زین الانصاری کے قتل کا مقدمہ اہل خانہ کی جانب سے انتظامیہ نے کیوں درج نہیں کیا؟،زین الانصاری کے قاتل اور فساد کے اہم ملزمین کی تین ہفتہ بعد بھی گرفتاری کیوں نہیں کی گئی؟، صابرانصاری اور معین الحق جو شدید طور پر زخمی ہیں اس کا علاج کیوں نہیں کرایا گیا؟، جن کی دُکانیں لوٹی اور جلائی گئی ان کو معاوضہ اور ان لوگوں کی جانب سے مقدمہ درج کیوں نہیں کیا گیا؟ جن کے گھروں، گودام، گاڑیوں کو لوٹا، جلایا اور مارا گیا اس کی فہرست ضلع انتظامیہ نے جاری کیوں نہیں کی؟ جب 19 اکتوبر کو ہی تناؤ پیدا ہوگیا تو پھر ضلع انتظامیہ نے لاپرواہی کیسے برتی؟، جس گاؤں سے تناؤ پیدا ہوا وہاں سے ایس پی دفتر کی دوری محض 5 منٹ کی ہے تب 20 اکتوبر کو ہوئے فساد میں پولیس کو پہنچنے میں 42 منٹ کیسے لگ گئے؟ ، فساد منصوبہ بند طریقے سے کرایاگیا ہے اور اس میں سیتامڑھی انتظامیہ کی لاپراویہ صاف طور پر جھلک رہی ہے۔ اس لئے بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے خود ہی کہا تھا کہ جس کسی ضلع میں فساد ہوگا وہاں کے ایس پی اور ڈی ایم بخشے نہیں جائیں گے تو پھر اب تک ان دونوں افسران پر حکومت کی جانب سے کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ کہیں 1992 کے فساد میں شامل افسران کو جس طرح سے حکومت نے بڑا عہدہ دے کر اعزاز بخشنے کا کام کیا تھا اُسی تیاری میں موجودہ حکومت تو نہیں ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ امن پسند ریاست کے لئے غلط ہے۔ 
ان سبھی مانگوں پر جب ریاستی حکومت ایکشن میں نہیں آتی ہے تب تک یہ احتجاج آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے بینر تلے ریاست کے ہرضلع میں چلتا رہے گا۔ مذکورہ اطلاع بیداری کارواں کے دربھنگہ ضلع صدر جاویدکریم ظفرانصاری نے پریس بیان میں دی ہے۔ ظفرنے مزید بتایا کہ پہلا احتجاج 17نومبر کو دربھنگہ کمشنری کے دھرنا استھل سے دن کے 11 بجے احتجاجی جلوس نکالا جائے گا۔ یہ جلوس لہریا سرائے ٹاور تک جائے گا اور وہاں سے واپسی پر دھرنا استھل پر جلسہ کیا جائے گا۔ اس موقع پر کئی اور تنظیموں کے ذمہ دار موجود رہیں گے۔ جلسہ کے اختتام پر دربھنگہ ضلع کلکٹر سے وفد کی شکل میں ذمہ دار مل کر درخواست سونپیں گے۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *