سیرت رسول ﷺ کی روشنی میں دنیا کی رہنمائی کی ضرورت ہے: انیس الرحمن قاسمی

پٹنہ (پریس ریلیز): سیرت رسول اکرمﷺ کو فروغ دینے کے طریقۂ کار پر غور وخوض کے لیے ایک مشاورتی نشست معروف بزرگ صحافی خورشید انوار عارفی کی صدارت میں ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن پھلواری شریف پٹنہ کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔ اس موقع سے انہوںنےکہاکہ موجودہ دور میں سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو عام کرنے اوراسے بہتر طریقہ سے انجام دینے کے لیے ہر مکتب فکر کے لوگوں کو ایک ساتھ ملاکر کام کرنے کی ضرورت ہے،خاص طور پر خواتین میںسیرت رسول اکرمﷺ کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔مولانا انیس الرحمن قاسمی چیئرمین ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن و قومی نائب صدر آل انڈیا ملی کونسل نئی دہلی نے کہاکہ اس وقت دنیا میں عموما اورہندوستان میں خصوصا بے چینی اور عدم رواداری وعدم تحفظ کا احساس بڑھتا جارہاہے اورسماجی تحفظ کو کئی سطح پر شدید خطرات لاحق ہیں،ایسے حالات میں رسول اکرمﷺ کی سیرت اوراسلامی تعلیمات کی روشنی میں دنیا کی رہنمائی کی جائے اور اس چیز کو واضح کیا جائے کہ مذہبی رواداری، حقوق کا تحفظ، امن، بھائی چارہ،عدل وانصاف اورہرقسم کے تعصبات سے پاک سماج کی تشکیل صرف اسلام ہی کے ذریعہ ممکن ہے۔اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو صراط مستقیم پر گامزن کرنے کے لیے اپنے محبوب سرور کائنات ﷺ کو ربیع الاول کے مبارک مہینہ میں مبعوث فرمایا،ہم اس مہینہ کو نبی کریم ﷺ کی تعلیمات عام کرنے کے لیےاستعمال کرسکتےہیں۔ میٹنگ میں انورعالم ایڈووکیٹ، ڈاکٹر مظفرالاسلام عارف، ارشد انجینئر، مشرف علی، عرش اعلیٰ فریدی، نیاز احمد، محبوب عالم، محمدانعام خان، محمد ظفر عالم، محمد ظفیر رحمانی، ڈاکٹر محمد نورالسلام اور ضیاء الحق نے اپنی آراءکا اظہار کیا۔ شرکاء کی آراءاورتجاویز کی روشنی میں طے پایا کہ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو عام کرنے کے لیے درج ذیل طریقے اپنائے جائیں:
(۱) مساجد میں مختلف تاریخوں میں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان سے پروگرام کیے جائیں۔اس سلسلہ میں مساجد کے ذمہ داروں اورائمہ کرام سے رابطہ کیا جائے کہ جمعہ کے علاوہ سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس منعقد کی جائے ۔
(۲) اہل محلہ اپنے اپنے محلوں میںدس روزہ فروغ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلسیں منعقد کرائیں۔
(۳) ہر اتوار کو اپنے محلہ میں سیرت کا پروگرام ماہ ربیع الاول میں منعقد کریں،جس میں خواتین کے لیے خصوصی نظم کیا جائے۔
(۴) ربیع الاول کے مہینہ میں سیرت کے عنوان سے مضامین علماء و دانشوران سے لکھوائے جائیں اوران کی اشاعت کے لیے اخبارات و نیوز ایجنسی کے ذمہ داروں سے رابطہ کیا جائے۔
(۵) اسکول و کالج کے ذمہ داروں سے اپیل کی جائے کہ وہ اپنے یہاں طلبہ کے لیے یک روزہ سیرت پروگرام منعقد کرائیں،نیز طلبہ و طالبات میں مقابلہ جاتی پروگرام (کوئز) کا اہتمام کیا جائے اور اول، دوم اور سوم پوزیشن لانے والے طلبہ وطالبات کو انعامات دیے جائیں۔
(۶) سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر چھوٹے چھوٹے کتابچے اردو،ہندی اورانگریزی میں چھپواکر مسلم و غیر مسلم بھائیوں تک پہنچایا جائے۔
(۷) سیرت کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا جائے اوراسلام کی صحیح اورسچی تعلیمات کو اس کے ذریعہ لوگوں تک پہونچایا جائے،نیز منفی بیان کا جائزہ لے کر احسن طریقہ سے اس کا جواب دیا جائے۔
(۸) علماء وائمہ کرام جمعہ کے علاوہ دیگر مجلسوں میں اسلام اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات پر مؤثر تقریر کریں تاکہ مسلمان اپنی زندگی کو نبوی سانچے میں ڈھالنے کی سعی کریں اوران کے اندر داعیانہ کردار پیدا ہوسکے۔
(۹) موجودہ حالات میں مدارس،مکاتب،اسکول اورمختلف اداروں کے ذمہ داروں سے اپیل کی جائے کہ سیرت کے موضوع پر پروگرام منعقد کرائیں اورطلبہ وطالبات اس موضوع پر تیاری کرکے تقریر کریں۔
اس مہم کو چلانے کے لیے ایک سیرت کمیٹی بھی تشکیل دی گئی،جو مذکورہ کاموں کو بحسن وخوبی انجام دینے کے لیے سرگرم ہو گی۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply