سیکولرزم اور فسطائیت کا دام فریب

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

۱۹۸۰ میں بی جے پی کے قیام سے لے کر ابھی تک مسلمانوں کی تمام تنظیمیں، ادارے اوردانشورہر انتخاب کے موقع پر یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ اس سیکولر امید وار کو ووٹ دے کر کامیاب بنائیں، جو بی جے پی کو ہرانے کی صلاحیت رکھتاہو۔ گزشتہ ۳۶ سال سے مسلمانوں کی اس روش میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ بی جے پی کو ہرانے کے اس جنون میں نہ تو مسلمانوں نے کبھی یہ دیکھا کہ وہ کس پارٹی کو جتا رہے ہیں نہ یہ دیکھا کہ جیتنے والے شخص کا کردار کیاہے اوراس سے مسلمانوں کے تعلقات کی نوعیت کیاہے؟ نہ ہی کبھی یہ تجزیہ کرنے کی زحمت کی کہ اس سے مسلمانوں کو فائدہ کیا ہوگا؟ ابتدا میں تو یہ طریقہ کار بہت کارآمد ثابت ہوااوربی جے پی کو پے درپے شکست کا سامنا ہوا، لیکن آہستہ آہست بی جے پی نے بھی یہ سمجھ لیا کہ مسلم ووٹوں کو درکنار کرکے اس مخالفت کے باوجود انتخاب کیسے جیتے جاسکتے ہیں۔ آج اس کا نتیجہ صاف ظاہر ہے۔ بی جے پی کو ہراتے ہراتے آخر کار مسلمان خود ہار چکے ہیں۔ ہر انتخاب کے موقع پر مسلمانوں کی جانب سے یہ شور اٹھتاہے کہ فسطائی قوتوں کو ہرانے کے لیے سیکولر امیدواروں کو ووٹ دیجیے۔ اب یہ سیکولر امیدوار کس نقطہ نظر سے سیکولر ہے، اس کی وضاحت کبھی نہیں کی جاتی۔ سیکولر ہونے کے لیے بس اتنا کافی ہوتا ہے کہ امیدوار بی جے پی یا شیوسینا جیسی پارٹی کا نہ ہو۔ یعنی اگر سنجے نروپم شیوسینا چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہوجائے تو وہ سیکولر ہوجاتے ہیں، اسی طرح ساکشی مہاراج جو بابری مسجد کے ملبے سے اینٹیں اٹھاکر لگائے اوراپنے بیت الخلاء میں نصب کر دی، وہ جیسے ہی سماج وادی پارٹی میں شریک ہوئے، اچانک سیکولر ہوگئے اورراجیہ سبھا تک پہنچ گئے۔ پارلیمنٹ کی رکنیت ختم ہوتے ہی وہ پھر بی جے پی میں چلے گئے اورلوک سبھا کا ٹکٹ لے کر منتخب بھی ہوگئے۔ ایک زمانے میں سیکولر بنے یہی مہاراج مسلمانوں کی شان میں آج کل کس طرح رطب اللسان ہیں، یہ سب جانتے ہیں۔ بابری مسجد کو شہید کرانے والے کلیان سنگھ جب بی جے پی سے علیحدہ ہوئے اورراشٹریہ کرانتی پارٹی بنائی تو مسلمانوں نے انھیں بھی معاف کر دیا، اب ایک بار پھر وہ بی جے پی میں ہیں۔ یہ واقعات صرف انفرادی سطح پر پیش نہیں آئے بلکہ پارٹیوں کی سطح پر بھی یہ کھیل بار بار کھیلا گیا۔ ایسے میں بڑاسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فسطائیت اورسیکولرزم کیا معنی رکھتے ہیں؟ اورہمارے ملک کی سیاست میں ان لفظوں کی عملی حیثیت کیاہے؟

سیکولرزم یونانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں مذہب کو ریاستی امور سے علیحدہ رکھنا۔ اس اصطلاح کا استعمال سیاست میں سب سے پہلے ۱۸۵۱ میں ایک برطانوی مفکر جارج جیکپ نے کیا تھا۔ اس وقت اس لفظ سے جارج جیکپ کی مراد آزادانہ فکر تھی جس کے تحت وہ سماجی وسیاسی معاملات کو مذہب سے الگ رکھنا چاہتے تھے، ان کا کہنا تھا کہ سیکولرزم کا مطلب مذہب کا انکار نہیں ہے لیکن حکومت کا نظریاتی طور پر مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ گویامذہب اورسیاست کو علیحدہ علیحدہ رکھنا چاہیے۔ اس کے دوسرے معنی یہ بھی ہے کہ مذہب کو ایک شخص کا انفرادی معاملہ سمجھا جائے اورسماجی واجتماعی امور میں اس کی کوئی مداخلت نہ ہو۔ ہمارے ملک میں آزادی کے بعد حکمرانی کے لیے اسی نظریے کو دستوری طور پر مانا گیا، حالانکہ آزادی کے وقت دستور میں اس لفظ کا ذکر نہیں تھا لیکن دستور کے ابتدائیہ میں جو بیان درج تھا وہ اسی جانب اشارہ کرتا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ہم انڈیا کے لوگ آزادی، انصاف، برابری اور بھائی چارے کی بنیاد پر ایک خود مختار جمہوری ریاست کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے اس دستور کو اپناتے ہیں۔ اس ابتدائیہ میں خود مختاری اورجمہوریت کو ملک کی اساس قرار دیا گیا تھا۔ سیکولرزم کا لفظ موجود نہیں تھا۔ لیکن ۱۹۸۶ میں اندرا گاندھی نے۲۴ویں دستوری ترمیم کے تحت لفظ سیکولرزم کا اضافہ کیا۔ ہمارے ملک میں بھی سیکولر جمہوریہ ہونے کے ناطے یہ سمجھا جاتا ہے کہ ریاست کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہوگا لیکن ریاست تمام مذاہب کا احترام کرتے ہوئے ان مذاہب کی ترویج اورتبلیغ کی اجازت دے گی۔ حالانکہ دستور ہند میں اس کی وضاحت کہیں نہیں ہے کہ حکومت کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہوگا، ایسا صرف سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح دستور ہند میں لفظ سیکولرزم کی کوئی صراحت نہیں کی گئی ہے۔ البتہ دستور میں مختلف مقامات پر اس قسم کی صراحتیں موجود ہیں جو ہندو مذہب کو فوقیت دیتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ مثلاریزرویشن کے معاملے دستور کی دفعہ ۳۴۱ صاف طور پر اسے ہندوؤں کے لیے مخصوص کردیتی ہے۔ اس طرح ہماراملک سیکولر کہلائے جانے کے باوجود سرکار میں ہندومذہب کو برداشت کرلینے کی گنجائش رکھتا ہے۔ سیکولرزم کے برعکس فسطائیت ایک دوسری اصطلاح ہے۔ فسطائیت یافاشزم کا مطلب ہے کہ کسی سرکاری یاسماجی ادارے کا اپنے نظریات کو جابرانہ طریقے سے سماج پر تھوپنا۔ بالفاظ دیگرایسی سیاسی فلاسفی، تحریک یا حکومت جو بزعم خود اپنے آپ کو قوم سمجھتے ہوئے آمرانہ رویہ اختیارکرے اورمخالف آوازوں کو کچل ڈالے۔ یہ ایک اطالوی لفظ ہے جو ۱۹۱۹ میں اٹلی کے ڈکٹیٹر مسولینی اختیار کیا تھا۔ ان کی پارٹی کا نام ہی (فاسی) تھا، اسی لفظ سے فاشزم نکلا ہے۔ ہندی میں اسے فاسی واد اور اردو میں فسطائیت کہتے ہیں۔ ہندوستان میں عام طورپر آرایس ایس کو ایک فسطائی قوت مانا جاتا رہا ہے۔ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ آرایس ایس نے ہندوتو کو ہی قومی نظریہ مانا ہے اورملک میں اس کو رائج کرنے کے لیے ہر قسم کے حربے اختیار کرنے کو روا رکھا ہے۔ ہر چند کہ وہ خود کو ایک سماجی اورثقافتی تنظیم کہتے ہیں لیکن اکثر فسطائی تنظیمیں بھی خود کوسماجی تنظیم ہی کہتی ہیں۔

ان دونوں اصطلاحوں اوران کی ابتداء کو سمجھ لینے کے بعد یہ تجزیہ کرنا ضروری ہے کہ جن پارٹیوں کو ہم سیکولر پارٹی کہتے ہیں ان کا آرایس ایس کی فسطائیت سے کس حد تک اختلاف ہے اورکس حد تک اتفاق ہے۔ کانگریس ملک کی سب سے بڑی پارٹی رہی ہے اورتقریبا۶۰ سال حکمراں بھی رہی ہے۔ ملک میں سیکولرزم اورسماج واد کی سب سے بڑی دعویدار بھی رہی ہے۔ اس نے ہمیشہ اپنے آپ کو آرایس ایس کا مخالف قرار دیا ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ اتنے لمبے عرصے حکمرانی کے باوجود یہ پارٹی آرایس ایس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا پائی بلکہ اس کے زیرحکومت آرایس ایس روزانہ ترقی کرتارہا،اس کی شاخوں کی تعداد بھی بڑھتی رہی، اس کے ممبران کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتارہا، اس کے اثاثے بھی بڑھتے رہے اوراس کے نظریات کی ترویج واشاعت بھی متاثر کن حد تک جاری رہی۔ حتیٰ کہ ملک کی انتظامیہ ،مقننہ اورفوج تک پر اس کے اثرات حاوی ہوگئے۔ لیکن کانگریس نے نہ صرف اس سب کو گوارا کیا بلکہ خود اس جماعت آرایس ایس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد کانگریس میں موجود رہی جو پارٹی کی بنیادی پالیسی پر بھی اثر انداز ہوتی رہی۔ جن سنگھ اوربی جے پی سے تربیت حاصل کرنے والے سینکڑوں ذہن کانگریس کے منصب قیادت پر آزادی سے پہلے بھی متمکن تھے،آزادی کے بعد بھی رہے اورآج بھی ہیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ اس پورے عرصے میں کانگریس پارٹی نے ہی غیر اعلان شدہ طور پر آرایس ایس کی ہر خواہش کی تکمیل کی ہے اورملک کی اقلیتوں کے مذہبی امور میں مداخلت کی بار بار کوشش ان اقلیتوں کے خلاف ہزاروں فسادات، ان کی معاشی ناطقہ بندی، ان کے کاروباروں کو اجاڑنا، ان کی بڑی بستیوں کو تہس نہس کرنا، ان کی زبان، تہذیب، تمدن، روایات اورمذہب ہر ایک کو قابل نفرت اورقابل تنقید بناکر عوام کے سامنے پیش کرنا، یہ سب ہمیشہ آرایس ایس کی خواہش رہی جس کی تکمیل اپنے دور حکومت میں کانگریس کرتی رہی، لیکن اپنے ان تمام کارناموں کے باوجود یہ پارٹی خود کو سیکولر ہی کہتی رہی۔ لیکن تجزیہ کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ کوئی فسطائی قوت اگر بزعم خود سیکولرزم کا دعویٰ کرے اوراس کا عمل فسطائی ہو تو کیا ہم اسے سیکولر قرار دے سکتے ہیں۔ چند سال قبل دلی میں چند اہم سیاسی لوگوں کے بیچ جب اس سوال پر گھنٹوں ایک بحث ہوئی کہ کانگریس فسطائی ہے یا نہیں، تب بھی مسلمانوں کے اس دانشور طبقے نے کانگریس کو فسطائی ماننے سے انکار کر دیا تھا لیکن بہت شدومد اور دلائل کے بعد آخر کار اس نشست میں یہ اعتراف ضرور کیا گیا کہ کانگریس ایک موقع پرست فرقہ وارانہ پارٹی ہے۔ یہی بات سب سے زیادہ مضحکہ خیز ہے۔ موقع پرستی اورفرقہ پرستی کو اگر ایک ساتھ جمع کردیں تو اس کا حاصل شدہ فسطائیت ہی کہلاتا ہے۔ گویا ۶۰ سال کانگریس کے ہاتھوں زخم کھانے کے بعد بھی ملک کی سب سے بڑی اقلیت کانگریس کو فسطائی ماننے پر تیار نہیں ہے، البتہ فرقہ پرست ماننا شروع کرچکی ہے۔ یہ بھی غنیمت ہے۔ اب رہا دیگر پارٹیوں کا سوال، تو کمیونسٹ پارٹیوں کے سوا کوئی بھی پارٹی نظریاتی سیاسی جماعت نہیں ہے بلکہ تقریبا تمام ہی سیاسی پارٹیاں موقع پرست ہیں جن کا نصب العین کسی بھی صورت میں حصول اقتدار ہے۔ ایسے میں ان جماعتوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کس نظریے سے الحاق کرکے وہ حکومت تک جاسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ رام ولاس پاسوان جیسا لیڈر جو خود کو سیکولرزم کا سب سے بڑا دعویدار کہتا ہے محض اپنی پارٹی کو اقتدار میں رکھنے کی خاطر کبھی بی جے پی کے ساتھ آرایس ایس کاحلیف بن جانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتا۔ آج بھی وہ نریندر مودی سرکار کے حلیف ہیں۔ ۲۰۰۲ میں گجرات فسادات کے بعد بہار میں پٹنہ اوراس کے اطراف تک محدود ان کی پارٹی گجرات میں بھی الیکشن لڑ رہی تھی حالانکہ گجرات میں اس پارٹی کا ذرہ برابر بھی کوئی اثر نہیں تھا لیکن سیکولرزم کے نام پر مسلمانوں کے ووٹ تقسیم کرکے بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے ایک بڑی رقم کے عوض یہ حضرت بھی میدان انتخاب میں تھے، مجھے یاد ہے گجرات کی ناپا اسمبلی سیٹ پر وہاں کے ایک مشہور عالم دین کو جب پاسوان صاحب نے اپنی پارٹی کا ٹکٹ اورپانچ لاکھ روپیے کی پیشکش کی تو ان غیور مولانا نے جواب دیا تھا کہ پانچ لاکھ روپیے میں اپنی ذاتی جیب سے آپ کو پیش کردوں گا بشرطیکہ آپ اس حلقے میں کسی مسلمان کو ٹکٹ نہ دیں۔ اس قسم کے واقعات سے اندازہ ہوتاہے کہ سیکولرزم کا دم بھرنے والی ایسی تمام ہی جماعتیں کسی نہ کسی طور پر آرایس ایس کے فسطائی نظریے کو طاقت پہنچاتی رہی ہیں۔ اس ضمن میں کوئی ایسی سیاسی پارٹی نہیں ہے جس کا شمار نہ کیا جا سکے، پھر وہ چاہے بی ایس پی، ایس پی، جے ڈی یو، آر جے ڈی، نیشلسٹ پارٹی، ترنمول کانگریس و غیرہم، یہ سب پارٹیاں کسی نہ کسی موقعے پر یاتو براہ راست بی جے پی کے ساتھ حکومت میں شریک رہی ہیں یا بالواسطہ طور پر مسلم علاقوں میں اپنے امید وار کھڑے کرکے بی جے پی کو طاقت پہنچاتی رہی ہے، اور اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ مستقبل میں وہ آرایس ایس اوربی جے پی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھیں گی۔ نہ ہی مسلمانوں کے پاس ایسا کوئی طریقہ کار یاطاقت ہے کہ وہ ان پارٹیوں سے وعدہ لے سکے کہ وہ مستقبل میں دوبارہ کبھی بی جے پی کے ساتھ معاونت نہیں کریں گی۔ یہ کتنی حیرت کی بات ہے کہ ایک ہی حلقے میں سیکولر سیاسی پارٹیوں کے تو متعدد امیدوار کھڑے ہوتے ہیں اورفسطائی طاقت کا ایک ہی امیدوار ہوتا ہے۔ ایسے میں نتیجہ سب کے سامنے ہوتا ہے لیکن فسطائیت کو ہرانے کی سفارش کرنے والے دانشوروں نے کبھی ان سیاسی پارٹیوں کو مجبور نہیں کیا کہ وہ ایک مشترکہ سیکولر امیدوار کھڑا کریں، یعنی اس ملک میں کسی کے اندر یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ اترپردیش جیسی ریاست میں سماج وادی پارٹی اوربی ایس پی جیسی حکومت کی مضبوط دعویدار پارٹیوں کو مجبور کرسکیں کہ وہ آپس میں متحد ہوکر ایک امیدوار کھڑا کریں۔ ظاہر ہے کہ دونوں پارٹیاں دومختلف ذاتوں کے رائے دہندگان کی بنیاد پر الیکشن لڑتی ہیں اورمسلم ووٹوں کی مدد سے اقتدار کے گلیارے تک پہنچنا چاہتی ہیں لیکن مسلمانوں میں بادشاہ گر ہونے کے باوجود یہ ہمت کبھی نہ ہوسکی کہ وہ ان پارٹیوں کو متحد کرسکے۔ نہ ہی مسلمانوں میں یہ جرأت ہوسکی کہ وہ ملک کی سیکولر قیادت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہہ سکیں کہ فسطائی قوتوں کو ہرانا اور سیکولرزم کو جتانا تنہا مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ ملک کے دیگر طبقات اورخود سیاسی جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ خصوصا وہ جماعتیں جو فسطائیت کا ڈراؤنا خواب بیچ کر اپنے لیے اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہیں، یہ خود ان کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ خود فسطائیت کو ہرانے کی جی توڑ کوشش کریں لیکن بدقسمتی سے یہ ذمہ داری بلاشرکت غیر ے مسلمانوں کے کندھے پر ڈال دی گئی ہے اورمسلمانوں نے بھی اسے بلا سوچے سمجھے قبول کر لیا ہے۔ اب حال یہ ہے کہ یہ ناتواں مسلمان فسطائیت کو ہرانے کا فرض منصبی بھی اداکرتاہے اوراپنے ووٹوں کو منتشر کردینے کا الزام بھی سہتا ہے۔ سیکولرسٹ مزے سے اقتدار میں رہتے ہیں اورآرایس ایس کو ایک سماجی تنظیم کی حیثیت سے سرکاری خزانے سے بے تحاشہ گرانٹ دے کر مضبوط بھی کرتے رہتے ہیں اورمسلمان ووٹ دے کر اسی سیاسی جماعت کی بے اعتنائی بلکہ ظلم بھی سہتا رہتا ہے۔ ان حالات کا سیدھا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان فسطائیت اورسیکولرزم جیسی اصطلاحوں کے دام فریب سے باہر نکلیں اور اپنی توجہ محض ایک نکاتی ایجنڈہ پر مرکوز رکھیں کہ وہ خود اپنے لیے اقتدار کیسے حاصل کرسکتے ہیں۔ ہمیں ایک ایسے سیاسی پریشر گروپ کی ضرورت ہے جو ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے مسلمانوں کی جانب سے گفت وشنید کرکے ان کے لیے نمائندگی بھی حاصل کرسکے اور ان کے حقوق کی بازیافت بھی کرسکے۔ جب تک ہم اپنے ووٹ کو اپنے اقتدار کے لیے خود استعمال نہیں کریں گے تب تک ملک کی سیاسی جماعتیں بھی ہمارے لیے کبھی سنجیدہ نہیں ہوں گی۔ گزشتہ ۳۶ سالہ فسطائی طاقتوں کو ہرانے کی ہماری سیاسی حکمت عملی بری طرح ناکام ہوچکی ہے، نہ صرف یہ کہ فسطائی قوتیں نہیں ہاریں بلکہ سیکولر قوتیں بھی ہمیں یکہ و تنہا چھوڑ کر فسطائیت کی گود میں جا بیٹھیں۔ ایسے میں ہمیں اپناراستہ خود تلاش کرنا ہوگا۔

(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کونسل کے صدر ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *