شمالی کولکاتا کا گریش پارک تھانہ ایک بار پھر سرخیوں میں

پولس کی بے عملی کے خلاف خواتین نے کیا گھیراﺅ

20160511 (6)

کولکاتا، ۱۲ مئی (نامہ نگار): گریش پارک تھانہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ کل ۱۱ مئی کی دوپہر یہاں علاقہ کی عورتوں نے پولس کی بے حسی اور مجرمانہ معاملات میں ملوث افراد کو گرفتار نہ کرنے کے خلاف احتجاج کیا۔

بتایا جاتا ہے کہ ۱۶۱ مکتا رام بابو اسٹریٹ کی رہنے والی پایل اگروال نام کی ایک خاتون نے گزشتہ ۱۴ نومبر ۲۰۱۵ کو ان کے گھر پر کرایہ اروں کے ذریعہ ناجائز طور پر قبضہ کرلینے کے خلاف معاملہ درج کرایاتھا۔ پایل اگروال کا کہنا ہے کہ ان کے کرایہ دار لوکیش پانڈے اور اکھلیش پانڈے نے ان کے گھر پر قبضہ کررکھا ہے اور ہٹنے کا کہنے پر نہ صرف مار پیٹ اور گالی گلوج کر رہے ہیں، بلکہ جان سے مار نے کی دھمکی بھی رہے ہیں اور بدسلوکی اور دست درازی کررہے ہیں۔ لیکن اس شکایت پر پولس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

20160511 (2)

پھر وہی شکایت ۲۵ مارچ، ۲۸ مارچ، ۲۹ مارچ اور ۸ اپریل، ۲۰۱۶ کو درج کرائی گئی، مگر اس کے باوجود کارروائی نہیں ہوئی، جس کے بعد انہوں نے سماجی کارکن ایڈوکیٹ نازیہ الہیٰ خا ن کی مدد لی۔ نازیہ نے اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے مقامی تھانہ کے ساتھ ساتھ پولس کے تمام اعلیٰ حکام کو خط لکھا اور پایل اگروال کی دادرسی کا مطالبہ کیا۔ پایل اگروال نے بھی اس سلسلے میں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کو مکتوب بھیج کر مداخلت کی درخواست کی۔

اتنی کوششوں کے باوجود تھانہ کےعملہ نے انہیں کسی طرح کی قانونی مدد کرنے کے بجائے مبینہ ملزمین لوکیش پانڈے اور اکھلیش پانڈے کو اپنے پروردہ غنڈوں کے ہمراہ کھل کھیلنے کی چھوٹ دے رکھی ہے۔ اسی معاملے میں کل پایل اگروال نے ویمن ریزسٹنس فورم کی کارکنان اور عہدیداران کے ساتھ تھانہ کا گھیراﺅ کیا وار احتجاج کرتے ہوئے ملزمین کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

یادرہے کہ گریش پارک تھانہ کولکاتا شہر کے شمالی علاقہ میں جوڑا سانکو اسمبلی حلقہ کے تحت آتا ہے۔ ۲۰۱۵ میں ہونے والے کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے انتخاب کے دوران سیاسی جماعت کے غنڈوں کی فائرنگ میں ایک سب انسپکٹر ہلاک ہوگیا تھا، جس کے بعد سے یہ تھانہ اب تک سرخیوں میں بنا ہوا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *