شمالی ہند کے مسلمان کیرل کے مسلمانوں سے سبق حاصل کریں

election-photo-2

جلال الدین اسلم، نئی دہلی

جب بھی ملک کے کسی حصے میں الیکشن کا بگل بجا ہے ہماری سیاسی پارٹیوں میں ہلچل پیدا ہوئی ہے، ایسی ہلچل کہ جس سے پورے ملک میں ایک خاص قسم کی بے چینی پیدا ہوجاتی ہے اور جس سے لوگوں میں افراتفری جیسی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ سیاسی پارٹیاں اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں سے دیکھا یہی جارہا ہے کہ ہر الیکشن میں سیاسی پارٹیاں اپنے مفاد کے لیے ایسے ایسے ایشوز عوام کے سامنے لاتی ہیں جس سے عوام میں مثبت سوچ پیدا ہونے کی بجائے منفی سوچ پیدا ہوتی جارہی ہے۔ پچھلے پارلیمانی الیکشن کے دوران جس طرح فرقہ واریت پر زور دیا گیا اور اس کے بل پر الیکشن میں کامیابی حاصل کی گئی اس کے نتیجے میں ہی آج پورا ملک فرقہ واریت کی دلدل میں پھنس کر کراہ رہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ مفادات کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں نے ہی اس ملک کے سیکولر عوام کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں۔

ملک کی سیکولر طاقتوں کے غیر سیکولر کردار نے ملک کی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کا جینا دوبھر کردیا ہے اور بزعم خود قیادت کا دم بھرنے وا لے مسلم لیڈر اب بھی مسلمانوں سے اپیل کرتے نظر آرہے ہیں کہ مسلمان سیکولر جماعتوں کوہی ووٹ دیں، خصوصاً جہاں کانگریس اور بی جے پی میں براہ راست مقابلہ ہو وہاں کانگریس کو ہوہی ووٹ دیں، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کانگریس فرقہ پرست تو ہوسکتی ہے لیکن فاشسٹ نہیں جبکہ بی جے پی عملاً فاشسٹ طاقت ہے۔ اس تقسیم کی بنیاد پر یہ فرقہ پرست قوت کو فاشست قوت پر لائق ترجیح قرار دیتے ہیں اور اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک ہی سانس میں یہ لوگ یہ بھی کہتے سنائی دیتے ہیں کہ باکردار اور باصلاحیت امیداروں کو ہی لائق ترجیح قرار دینا چاہیے۔

سوال یہ ہے کہ کیا جن پارٹیوں کو یہ سیکولر کہتے ہیں ان کے تمام امیدواروں کے بارے میں یہ مان لیا جائے کہ وہ ہر حال میں صاحب کردار ہی ہوں گے؟ نہ پہلے ایسا ہوا ہے نہ آئندہ ہی ایسا ہوگا۔ سماج دشمن عناصر قابل ذکر تعداد میں ان سیکولر پارٹیوں میں بھی پائے جاتے ہیں جس کا مشاہدہ آئے دن ہوتا رہتا ہے۔ خاص طور سے پارلیمانی انتخابات کے دوران تو ہو ا ہی ہے۔ اسی طرح ہمارے لیڈران کی یہ بات بھی نہیں مانی جاسکتی کہ فاشسٹ اور فرقہ پرست قوتوں میں ایسا کوئی واضح فرق موجود ہے جس کی بنیاد پر ہمارے لیڈر مسلمانوں کو بی جے پی کے مقابلے میں کانگریس یا دیگر سیکولر جماعتوں کی حمایت میں کھلی یا ڈھکی تلقین کرتے پھرتے ہیں۔

فرقہ پرستی اور فاشزم دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ جو تنظیم فرقہ پرست ہوگی وہ لازماً فاشسٹ ہوگی اور جو تنظیم فاشسٹ ہوگی وہ فرقہ پرست بھی ہوگی۔ اس لیے کہ فاشزم اور فرقہ پرستی دونوں کی ہی یہی سوچ ہے کہ میرا فرقہ میرا گروپ یا میری نسل ہی سب سے اعلیٰ و ارفع ہے، یہی حق پر ہے۔ باقی دوسرے فرقے اور دوسرے نسلی گروہ ظالم بھی ہیں اور تمام مسائل و مصائب کے ذمہ دار بھی۔

مستقبل قریب میں پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی پہلے کی طرح اس بار بھی مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی سیاسی، دینی، ملی اور سماجی تنظیموں کے علاوہ اپنے مخصوص گھروندوں سے پہچانے جانے والی دینی شخصیتیں، مشائخ، مجاور، مسجدوں کے امام، مدرسوں کے مہتمم اور نام نہاد دانشور حضرات بھی پورے کر و فر کے ساتھ میدان میں آگئے ہیں۔ اس بار بھی یہ لوگ پہلے ہی کی طرح ملت کی دہائی دیتے اور مسلمانوں کے وسیع تر مفاد کا رونا روتے دکھائی دے رہے ہیں۔

راجدھانی دہلی میں گزشتہ دنوں سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں، اداروں اور اکادمیوں کی طرف سے پہلے حق نمک کی رسم ادا کی گئی پھر سیاسی اور دینی جماعتوں کی طرف سے کروڑوں کے خرچ سے ملت کے غم میں آنسو بہائے گئے، وزیر اعظم سے ملنے کی بھی ہوڑ رہی اور بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی۔ صوفی ازم کے نام پر مسلمانوں میں ایک اور نئے فرقے کا جنم بھی ہوا۔ اس طرح ملت کے غم خواروں اور بہی خواہوں نے ملت کو تباہی کے ایک نئے بھنور میں دھکیل دیا اور اب اس سے باہر نکل پانا ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور ہے۔

اب رہی الیکشن کی بات تو یہ سبھی جانتے ہیں کہ مسلمان اپنے رویے کا تعین عام طور پر الیکشن کے قریب آجانے کے بعد ہی کیا کرتے ہیں۔ لیکن جو دیکھنے کی چیز ہے وہ یہ ہے کہ شمالی ہند کے مسلمانوں نے اب تک جو کچھ کیا ہے اس کا نتیجہ کیا نکلا ہے؟ ملک کے بٹوارے کے بعد سے برسوں کانگریس کو ایوان اقتدار میں پہنچاتے رہے اور نتیجہ صفر کا صفر ہی رہا۔ جنتا پارٹی بنی تو اس کے پیچھے ہو لیے اور اسے بھی اقتدار تک پہنچا کر ہی دم لیا۔ پھر بھی انہیں کچھ نہیں ملا اور کشکول خالی کا خالی ہی رہا۔ پھر جنتا دل کی سواری کے لیے مسلمانوں نے اپنے کاندھے پیش کردیے اس بار بھی انہیں کچھ تو نہیں ملا لیکن جنتا دل کے سہارے بی جے پی کو اترپردیش میں اپنے قدم جمانے کا موقع ضرور مل گیا۔ اسی طرح وہ اترپردیش میں ملائم سنگھ اور بہار میں لالو پرساد یادو کو اپنا حاجت روا سمجھ بیٹھے، کیا حاصل ہوا یہ سبھی کو معلوم ہے۔

دراصل بات یہ ہے کہ جب بھی کوئی پارٹی یا لیڈر خوش نما وعدوں، دلفریب نعروں اور پُر فریب چالوں کے ساتھ سامنے آتا ہے تو مسلمان آنکھ بند کرکے اس کے ساتھ ہولیتے ہیں۔ کانگریس کی اندرا گاندھی سے راجیو گاندھی تک اور وی پی سنگھ سے ملائم سنگھ تک بڑی بڑی باتیں سبھی نے کیں۔ وعدوں کے سبز باغ سب نے اگائے، امیدیں سب نے جگائیں، لیکن کیا کسی نے کچھ بھی نہیں۔ مسلمانوں کے تمام بنیادی مسائل کل ہی کی طرح آج بھی بدستور موجود ہیں۔

میرے کہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ مسلمان اچھے لوگوں کی، سیکولر اور صاف ستھرے ذہن والوں کی تائید و حمایت نہ کریں، لیکن کسی کی تائید و حمایت کا فیصلہ کرنے سے پہلے یہ ضرور دیکھا جانا چاہیے کہ جو وعدے کیے جارہے ہیں ان پر عمل ہوگا بھی یا نہیں، اور یہی نہیں بلکہ دیکھا یہ بھی جانا چاہیے کہ ان پر عمل کی صورت میں بہ حیثیت مجموعی ملت کو کس حد تک فائدہ پہنچے گا۔

ہم مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم سے جو وعدے کیے جاتے ہیں انہیں چناؤ جیتنے کے بعد بھلا دیا جاتا ہے اور ہم میں یہ طاقت نہیں کہ ہم وعدہ کرنے والوں کو ان پر عمل کرنے پر مجبور کرسکیں۔ اور یہ طاقت ہم میں اس لیے نہیں ہوپار ہی ہے کہ ہم منظم نہیں ہیں۔ یہ بات بالکل سامنے کی ہے کہ کسی سمجھوتے یا وعدے پر عمل اس صورت میں ہی ہوتا ہے جب فریق ثانی پر یہ بات واضح ہوجائے کہ بدعہدی یا وعدہ شکنی کا نقصان سب سے زیادہ خود اسی کو پہنچے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیسے ہو؟

ہم ذرا وسیع النظری سے کام لیں تو ہمیں اس سوال کا جواب اپنے ہی ملک کے صوبہ کیرالا کے مسلمانوں کے عمل سے مل جائے گا۔ انہوں نے اس سوال کا جواب منظم ہوکر اس طرح دیا ہے کہ وہ سارے ملک کے مسلمانوں کے لیے باعث فخر بھی ہے اور قابل عمل بھی۔ ان کی اپنی تنظیم بھی ہے اور ایک جھنڈا بھی، جس کے تلے کیرالا کے مسلمان جمع ہیں جسے انڈین یونین مسلم لیگ کے نام سے دنیا جانتی ہے۔ اس کا اپنا ترجمان، اپنا دستور اور اپنا منشور ہے۔ مسلم لیگ کا سربلند پرچم کیرالا کے مسلمانوں کی سربلندی کی ضمانت اور ان کی آرزوؤں کی تکمیل کی علامت آج بھی ہے اور پہلے بھی رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔

کیرالا کے مسلمان اپنی تنظیم کی قیادت میں اپنے مطالبات کی صورت گری خود کرتے ہیں، دوسروں سے نہ بھیک مانگتے ہیں اور نہ کسی سے یہ توقع ہی رکھتے ہیں کہ وہ ان کے مسائل حل کرنے کی ذمہ داری سنبھالے گا۔ وہ دوسروں سے سمجھوتے کرتے ہیں اور اپنے بل پر چناؤ لڑتے ہیں او راپنے اتحاد اور اپنی قوت کے بل پر ایوان اقتدار تک پہنچتے اور اقتدار میں ایک باعزت فریق کے روپ میں ساجھے دار بنتے ہیں۔ اپنی تنظیم کی قیادت میں وہ اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں ان کی حق تلفی تو دور رہی کوئی انہیں نظر انداز کرکے حکومت بنانے اور چلانے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا۔ کاش کہ شمالی ہند کے مسلمانوں میں بھی کیرالا کے مسلمانوں جیسا ہی شعور جاگ اٹھتا تو آج وہ بھی باوقار اور سر بلند ہوتے۔

بہرحال ضرورت اس بات کی ہی ہے کہ ہم الگ الگ پلیٹ فارموں سے الگ الگ آوازیں بلند کرنے کے بجائے مشترکہ پلیٹ فارم یعنی اتحاد فکر و عمل کی شاہراہ پر پوری قوت کے ساتھ گامزن ہوجائیں تبھی ہماری آواز میں دم بھی ہوگا اور تبھی ہم عزت کی زندگی گزار سکیں گے اور ایسی صورت میں ہی آنے والے بحرانوں کا مقابلہ بھی کرسکیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *