شمال مشرق میں بی جے پی کے اچھے دن

Assam Victory

نئی دہلی، ۱۹ مئی (حنیف علیمی): ۱۵ سال سے کانگریس جس آسام میں حکومت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے تھی، اب بی جے پی حکومت بنانے کی تیاری میں لگ گئی ہے۔ آسام میں کانگریس کا ۱۵ سالہ دور حکومت ختم کرتے ہوئے بی جے پی کو جیت حاصل ہوئی ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ آسام میں جیت حاصل کرنے کا مطلب شمال مشرق میں بی جے پی کے لئے سیاست کے دروازے کھلنا ہے۔ بی جے پی کی اس جیت سے خوش ہوکر آج وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ عوام کا فیصلہ یہ دکھاتا ہے کہ لوگ پارٹی کے نظریات کی حمایت کر رہے ہیں اور اس سے عام آدمی کی ترقی کے لئے اور کام کرنے کی ہمت ملے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ صرف آسام میں ہی جیت نہیں ہے، بلکہ شمال مشرق کی کسی ریاست میں پارٹی کی پہلی جیت ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی کو ملک کے ہر حصے میں مقبولیت مل رہی ہے اور یہ جمہوریت کے لئے اچھے اشارات ہیں۔ اس کے بعد عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انتخاب کے نتائج سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی کا ترقی کا نظریہ اور عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی لانے کی ہماری کوشش کو عوام کی پوری حمایت مل رہی ہے۔

images (2)

دوسری طرف کانگریس نے ان تجاویز کو خارج کردیا کہ ہار کی ذمہ داری راہل گا ندھی کو لینی چاہئے۔ کانگریس کے اعلی ترجمان رندیپ سرجے والا نے جنرل سکریٹری مکل واسنک اور ترجمان آرپی این سنگھ کے ساتھ نامہ نگاروں سے کہا، ”ہر الیکشن کے اپنے مدے ہوتے ہیں، ہم کسی شخص’ ترن گوگئی‘ یا ’اومن چانڈی‘ کے حوالے سے انتخابات نہیں دیکھتے ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ ہم تجزیہ کریں گے کہ کہاں بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک اچھے ماحول میں ہم اس پر بات چیت کریں گے، جب ان سے پوچھا گیا کہ جس طرح رہل اور سونیا گاندھی نے لوک سبھا انتخابات میں ہار کے بعد ذمہ داری قبول کی تھی کیا اس بار بھی راہل گاندھی اس کی ذمہ داری لیں گے؟ تو اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ”اس غیر مناسب تجویز کو ہم پوری طرح خارج کرتے ہیں۔‘‘ سر جےوالا نے کہا کہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ کانگریس آسام میں ۱۵ سال اور کیرل میں پچھلے ۵ سال سے اقتدار میں رہی ہے اور ایک اچھی قیادت کا مظاہر کیا ہے۔

کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے بھی کہا کہ عوام کا فیصلہ ہمارے لئے قابل قبول ہے، پارٹی اسمبلی الیکشن میں ناکامی کی وجوہات کا تجزیہ کرے گی۔ سونیا نے جاری ایک بیان میں کہا کہ ”کانگریس پارٹی آسام، مغربی بنگال، تمل ناڈو، پڈو چیری اور کیرل میں عوام کا فیصلہ قبول کرتی ہے۔ میں جمہوریت کو مظبوط کرنے کے لئے ان انتخابات میں شامل ہونے والے ووٹرس، کانگریس کے کارکنان اور لیڈرس سبھی کا شکریہ ادا کرتی ہوں“۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *