صحافت اور خبر کا بڑا گہرا تعلق ہے: ضامن جعفری

نئی دہلی، ۱۱ فروری (نامہ نگار): ضامن جعفری کو اردو دنیا ایک مزاحیہ شاعر کے طور پر جانتی ہے۔ اپنی نظموں کے ذریعہ جہاں وہ ایک طرف مرجھائے چہروں پر مسکان بکھیرتے ہیں، وہیں اپنی شاعری کے ذریعہ زمانے کے حالات پر سخت تنقید بھی کرتے ہیں۔ پچھلے ماہ انھوں نے قومی اردو کونسل کے ذریعہ منعقدہ بین الاقوامی سیمینار میں شرکت کی تھی۔ یہ سیمینار کونسل کے ذریعہ اردو صحافت کے دو سو سال پورے ہونے پر ملک کے مختلف حصوں میں منعقد کیے جار ہے ہیں۔Qamar Tabrez talks to Zamin Jafri

اس موقع پر ضامن جعفری نے ڈاکٹر قمر تبریز سے اردو صحافت کے تعلق سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صحافیوں کو صحافت کے بنیادی عناصر کے بارے میں جاننا نہایت ضروری ہے۔ انھوں نے بتایا کہ صِحافت عربی کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں پانی کے مختلف جگہوں سے ایک جگہ آکر جمع ہو جانے کے۔ لہٰذا صحافیوں کو چاہیے کہ وہ خبروں کو جمع کرتے وقت اس کی صداقت کا بھی پتہ لگائیں۔

ضامن جعفری کی پیدائش ہریانہ کے بھرت پور میں ہوئی تھی، لیکن بچپن میں ہی وہ اپنے والدین کے ساتھ کناڈا جاکر بس گئے۔ لیکن اردو زبان سے محبت ۶۸ سال بعد انھیں اپنے آبائی وطن واپس لے آئی۔ ظاہر ہے، یہ ان کے لیے نہایت خوشی کا مقام تو تھا ہی کہ اسی بہانے کم از کم اپنے وطن کو دیکھنے کا تو موقع ملا۔ دوسرے یہ کہ اتنے لمبے عرصے بعد ملک واپس لوٹنے پر انھیں یہ سب دیکھ کر کافی مسرت کا احساس ہو رہا تھا کہ ہندوستان بھی دوسرے ملکوں کی طرح کافی ترقی کر چکا ہے۔

ضامن جعفری نے نیوز اِن خبر سے اردو صحافت پر بات کرنے کے علاوہ اردو کی موجودہ صورتِ حال اور اس کے مستقبل پر بھی روشن ڈالی اور بتایا کہ کناڈا میں اردو کی صورتِ حال کیا ہے۔ یہاں اس انٹرویو کا ویڈیو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *