صوفی ازم ایک طرزِ زندگی کا نام ہے: ڈاکٹر جسپال سنگھ

100_0705

غالب انسٹی ٹیوٹ میں فخرالدین علی احمد میموریل لکچر کے تحت ’تصوف اور سماج پر اس کے اثرات‘ پر خطاب

نئی دہلی، ۲۹ مئی (حنیف علیمی): آج دنیا ترقی کی بے پناہ منازل طے کر رہی ہے۔ چہار جانب تبدیلی ہی تبدیلی نظر آرہی ہے۔ گلوبلائزیشن ہو رہا ہے۔ لیکن، میں کہتا ہوں کہ تبدیلی تو ہو رہی ہے لیکن یہ تبدیلی مثبت نہیں، بلکہ منفی ہے۔ گلوبلائزشن بھی ہورہا ہے، لیکن اس گلوبلائزیشن میں سے گلوب نکلتا ہوا نظر آرہا ہے۔ دور کے لوگ تو قریب آرہے ہیں، لیکن اپنے دور ہوتے چلے جارہے ہیں۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ ہم دور دراز کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں لوگوں سے تو ہم کلام ہوتے رہتے ہیں، لیکن اپنے ہی پڑوس میں رہنے والوں کوپہچانتے تک نہیں! کس قدر تنہا ہوگئے ہیں ہم کہ آج اپنا فوٹو خود ہی کھینچنا پڑ رہا ہے!

ان خیالات کا اظہار آج پنجابی یونیورسٹی، پٹیالہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر جسپال سنگھ نے ایوان غالب میں ”تصوف اور سماج پر اس کے اثرات“ کے زیر عنوان ایک یادگاری”فخرالدین علی احمد میموریل لیکچر“ کے موقع پر کیا۔ اس جلسہ میں علما، فضلا اور دانشوران نے خاصی تعداد میں شرکت کی۔ واضح ہو کہ جب سے غالب انسٹی ٹیوٹ کا قیام عمل میں آیا ہے یہاں سابق صدر جمہوریۂ ہند جناب فخرالدین علی احمد کی یاد میں لیکچر کا انعقاد ہوتا رہا ہے۔

100_0695

دوران خطاب ڈاکٹر جسپال سنگھ نے کہا کہ ”آج دنیا ایک طرح کی تنہائی، بے توجہی اور خود پرستی کی طرف چلی جارہی ہے۔ لوگ انسانیت کو بھول کر اپنی شناخت کی تشہیر میں لگے ہوئے ہیں۔ آگے چل کر دنیا میں جنگ گولہ بارود اور ہتھیار کی نہیں ہوگی بلکہ شناخت اورشہرت کی ہوگی۔ ان حالات سے نپٹنے کے لئے صرف تصوف کا راستہ ہی بچا ہے، جو انسان کو انسان بناتا ہے۔ ایک دوسرے کی عزت کرنا اور دوسروں سے ہمدردی کرنا سکھاتا ہے۔ اگر دنیا کو آنے والی پریشانی سے بچنا ہے تو صوفیوں کے راستے پر چلنا ہوگا۔“

انہوں نے صوفی ازم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ”صوفی ازم کوئی رسم و رواج نہیں بلکہ ایک طرز زندگی کا نام ہے۔ یہ ملک کی یکجہتی اور ہم آہنگی کو پیش کرتا ہے۔ دنیا میں ذاتی کردار اور طرز زندگی کیسی ہونی چاہئے، اس چیز کو تصوف سکھاتا ہے۔ ہر مذہب اور فرقہ کسی نہ کسی طرح صوفی ازم سے متاثر ہے۔ اللہ سے ملنے کے طریقے، اس سے محبت، انسانی قدر و قیمت اور کسی کے زخم پر مرہم کیسے لگایا جائے، یہ سب آپ کو تصوف ہی میں ملے گا۔ صوفی ہمیشہ سجدہ میں رہتا ہے، لیکن اس کا سجدہ دکھاوے کا نہیں ہوتا بلکہ حقیقی سجدہ ہوتا ہے۔“

انہوں نے تصوف کا پنجاب سے رشتہ جوڑتے ہوئے کہا کہ ”تصوف اور پنجاب کا بڑا گہرا رشتہ ہے۔ گرونانک دو بار پاک پٹن بابا فرید الدین کے مزار پر گئے۔ اس وقت شیخ ابراھیم ان کے جانشین تھے۔ اسی لئے بابا فرید الدین کے اشعار ہماری مذہبی کتاب گرو گرنتھ صاحب میں شامل کئے گئے ہیں جس کو ہر سکھ مذہب کا ماننے والا پورے ادب واحترام سے نہ صرف پڑھتا ہے، بلکہ جس طرح گرو گرنتھ صاحب کو سجدہ کرتا ہے اسی احترام سے بابا فرید الدین کے کلام کو بھی سجدہ کرتا ہے۔“

قارئین کو بتا دیں کہ ڈاکٹر جسپال سنگھ نے پٹیالہ یونیورسٹی میں ایک بابا فریدالدین سینٹر کا بھی قیام کیا ہے، جس میں تصوف کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ صوفیا کی کتابوں کا پنجابی زبان میں ترجمہ بھی کیا جارہا ہے۔ اس پروگرام کی صدارت ڈاکٹر پرویز علی احمد، چیئرمین، غالب انسٹی ٹیوٹ کر رہے تھے اور نظامت کے فرائض سید رضا حیدر ڈائریکٹر غالب انسٹی ٹیوٹ نے انجام دئے۔ شرکا میں پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی، جسٹس بدر دریز احمد، طارق امین، اشفاق عاطف، پروفیسر عراق رضا زیدی، ڈاکٹر کلیم اصغر وغیرہ تھے۔  محفل کا اختتام ڈاکٹر پرویز علی احمد کے صدارتی کلمات پر ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *