طبل جنگ کے پیچھے ایک جرس کارواں بھی ہے

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
پٹھان کوٹ حملے کے بعد بی ایس پی صدر مایا وتی نے وزیراعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کے بارے میں بتائیں۔ ان کا یہ بیان اڑی حملے کے بعد پھر آیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خارجہ پالیسی کے بارے میں مایاوتی عام طور سے کوئی اظہار خیال نہیں کرتیں، لیکن ان کا یہ بیان اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ وہ ان حملوں کو آئندہ سال ہونے والے اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں استعمال کیے جانے کا خدشہ رکھتی ہیں اور ان کو اس بات کا بھی شبہ ہے کہ یہ حملے انتخابی فائدہ اٹھانے کی غرض سے داخلی طور پر ہی کرائے گئے ہیں۔ مایاوتی کی طرح ملک کی اور بھی دیگر سیاسی شخصیات کا خیال یہی ہے کہ ہند و پاک کا حالیہ تنازع کا مقصد آئندہ سال اسمبلی انتخابات میں فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے۔

درحقیقت یہ بہت ہی غیرسنجیدہ سوچ کا مظہرہے۔ ممکن ہے کہ برسراقتدار بی جے پی ان واقعات کا کوئی بلاواسطہ فائدہ حاصل کرلے، لیکن محض اس غرض سے یہ حملے کرائے گئے ہیں، یہ مفروضہ معاملے کی سنگینی کو کم کرنے کے مترادف ہے۔ ہند و پاک کے مابین تنازعہ کئی مرتبہ شدید صورت حال اختیار کرتا رہا ہے، جنگ کی نوبت بھی آئی ہے، سرحدوں پر خون بھی بہا ہے، سیاسی فائدے بھی اٹھائے گئے ہیں۔ لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا۔ اس بار صورت حال قدرے مختلف ہے، یہ سارامعاملہ ۸؍ جولائی کو ہونے والی برہان وانی کی مڈبھیڑ سے شروع ہوتا ہے جو ڈھائی مہینے کے بعد آخر کار جنگی حالات پر منتج ہوتاہے۔ دہشت گردوں کا انکاؤنٹر کشمیر میں کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن ایسے کسی بھی انکاؤنٹر کے نتیجے میں اس بار جو صورت حال پیداہوئی، وہ حیران کن ہے۔ تقریبا ۳؍ مہینے سے ۱۰؍ ضلعوں پر مشتمل وادئی کشمیرمکمل خانہ بندی اور ہڑتال کا شکار ہے۔ اس دوران۱۰۰؍ سے زائد اموات، ۶؍ہزار سے زائد زخمی اور تقریبا تمام علیحدگی پسندوں کی نظر بندی کے باوجود صورت حال میں کوئی تبدیلی رونما نہ ہونا اپنے آپ میں حیران کن ہے۔ کشمیر تنازع کی پوری تاریخ میں اس سے پہلے ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اتنے لمبے عرصے کرفیوکے بعد ظاہر ہے کہ غذائی اجناس، بچوں کا دودھ، پھل، سبزیاں، دوائیں اور کاروبار سبھی پورے طور پر متأثر ہواہوگا، لیکن تحریک متأثر نہیں ہورہی ہے۔ حالات کی اصل سنگینی یہی بات ہے۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پرشادی کی ایک تقریب کا ویڈیو دیکھنے میں آیا جس میں بارات کو رخصت ہوتے وقت تمام باراتی آزادی کشمیر کے نعرے بلند کررہے تھے۔ ایسے میں بہ آسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ کشمیری عوام نے تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق اب کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کرلیاہے۔ حد یہ ہے کہ کشمیری قیادت نے ہندوستانی مسلمانوں کی تنظیموں کے ذمہ داران سے بھی ملاقات سے انکار کردیا ہے۔ اس صورت حال کا عالمی طور پر جو ردعمل ہوا، اسی پس منظر میں اڑی کا دہشت گردانہ حملے کا واقعہ بھی پیش آیا۔ یہ واقعہ بھی کچھ کم سنگین نہیں تھا۔ گذشتہ ۲۰؍ سال میں سرحد پار دہشت گردی کا یہ سب سے ہولناک واقعہ تھا جس نے کشمیر کی حالیہ تحریک، اس کے عالمی ردعمل، حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں کی رپورٹوں اوراقوام متحدہ میں ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاس کا ایجنڈا بدل ڈالا اور پاکستانی حکمت عملی کو بڑی حد تک کمزور کردیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل عالمی تنظیم اسلامی بھی کشمیر کی اس صورت حال پر تشویش کا اظہار کرچکی تھی اور خود کشمیری قیادت نے بھی اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کا عندیہ ظاہر کردیا تھا۔ اس کا سیدھا مطلب یہ تھا کہ اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں کشمیر میں حقوق انسانی کی پامالی ایک بڑا موضوع گفتگو بن سکتا تھا جسے اڑی کے حملے نے پس پشت ڈال دیا اور اس کے بجائے سرحد پار دہشت گردی ایک موضوع بن گیا۔ ہماری سفارتی حکمت عملی ایک حد تک کامیاب دکھائی دی، لیکن اس کے باوجود تنظیم اسلامی کانفرنس میں حقوق انسانی کمیٹی کے سربراہ اور ترکی کے صدر طیب رجب اردگان نے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد پھر یہ اعلان کردیا کہ یہ تنظیم کشمیر میں حقائق جاننے کے لیے ایک وفد روانہ کرے گی جس نے کشمیریوں کے مسئلہ کو ایک بار پھر اقوام عالم کے سامنے کھڑا کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کو سرجیکل آپریشن کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ سرحد کے اس پار دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود ہیں، ان کے تربیتی کیمپ بھی موجود ہیں اور سیکڑوں تربیت یافتہ دہشت گرد ہر وقت کشمیر میں داخلے کے لیے موجود رہتے ہیں، یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ہماری فوجی اور دیگر سراغ رساں ایجنسیاں بھی اس امر سے بخوبی واقف ہیں اور دیگر عالمی سراغ رساں ایجنسیاں بھی اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہیں، تو دہشت گردی کے ان اڈوں کو تباہ کرنے کے لیے ایک مخصوص وقت کا انتظار ہی کیوں کیا جاتا ہے؟ یہ آپریشن اس سے قبل بھی کبھی بھی ممکن تھا اور اس کے بعد بھی کیا جا سکتا تھا بلکہ بہتر تو یہ ہونا چاہیے کہ جیسے ہی اس قسم کے کسی تربیتی کیمپ کی خبر ملے، اسے فوری طور پر تباہ کردینا چاہیے، لیکن ایسا نہ کرکے ایک معقول سیاسی وقت کا انتظار کرنے کی پالیسی کو دونوں ممالک کے سیاست دانوں کی بدنیتی پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ اس کی ایک بڑی مثال یہ ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کے سب سے بڑے اور مشہور واقعات عموما اسی وقت پیش آئے جب دونوں ممالک کے مابین تعلقات کسی بہتر حل کی جانب گامزن تھے۔ اس سلسلے کا پہلا واقعہ جسے تمام ایجنسیوں نے، میڈیا نے اور عدلیہ نے بھی نظر انداز کردیا، وہ ۲۰؍ مارچ ۲۰۰۰ء میں ہونے والا چھیتی سنگھ پورا کا قتل عام ہے جس میں ہندوستانی فوج کی وردی میں ملبوس کچھ لوگوں نے ۳۶؍ سکھوں کو گولیوں سے بھون ڈالاتھا۔ یہ وہ موقع تھا جب این ڈی اے کی حکومت کے دوران لال کرشن اڈوانی وزیرداخلہ تھے اور امریکی صدر بل کلنٹن ہندوستان کے دورے پر تھے۔ عالمی میڈیا نے اس وقت بھی یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ واقعہ ہندوستانی حکومت کی جانب سے امریکی صدر کو متأثر کرکے پاکستان کو امریکی امداد روکنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اسی طرح ۲۰۰۱ء میں ہونے والے لال قلعہ کانڈ اور اس کے فورا بعد پارلیمنٹ پر ہونے والے حملے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا گیا کہ دونوں ممالک کے مابین آگرہ میں ہونے والے بامعنیٰ مذاکرات کو متأثر کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی اور پاکستان کے حکمراں پرویز مشرف کسی فیصلے کے قریب پہنچنے والے تھے جو آخری لمحوں میں بے معنی ہوکر رہ گیا۔ گویا دونوں ممالک جب بھی ایک دوسرے کے قریب آنے کی کوشش کرتے ہیں تو اسی قسم کے دہشت گردانہ واقعات اور جنگی ماحول پیدا کرکے معاملے کو حل ہونے سے روک دیا جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں بھی یہی ہوا ہے۔

گذشتہ ایک سال سے وزیراعظم نریندر مودی کا اچانک لاہور جانا، بینکاک میں اجیت ڈوبھال کا اپنے پاکستانی ہم منصب سے خفیہ ملاقات کرنا وغیرہ واقعات یہ اشارہ دے رہے تھے کہ غالبا مذاکرات کا نیا دور شروع ہونے والا ہے لیکن برہان الدین وانی کی مڈبھیڑ نے حالات کا رخ بدل دیا۔ ظاہر ہے کہ کچھ دیگر عالمی طاقتیں دونوں ملکوں کے مابین حالات کو نارمل نہیں رہنے دینا چاہتیں۔ یہ بھی حیرت کی بات ہے کہ اس قسم کے زیادہ تر واقعات این ڈی اے کے دور حکومت میں ہی پیش آتے ہیں۔ مگر اس بار پیش آنے والے واقعات زیادہ شدید ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ پسندیدہ یا ناپسندیدہ کسی بھی حل کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اتنے لمبے عرصے جاری رہنے والے کرفیوکے ساتھ جنگی حالات کو ملا کر دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ بہت جلد حالات کو نارمل ہونے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ایسے میں عالمی برادری اور خصوصا اسلامی دنیا میں کشمیر کے تعلق سے جو تشویش پائی جاتی ہے، وہ بھی اس سے قبل دیکھنے کو نہیں ملی۔ گذشتہ ہفتے مجھے ترکی کے دورے کا ایک موقع ملا۔ وہاں جتنی تنظیموں، اداروں، انجمنوں اور افراد سے ملاقات ہوئی،ان سب نے صرف کشمیر کے بارے میں گفتگو کرنا پسند کیا۔ بقیہ ہندوستانی مسلمانوں کے حالات جاننے میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ترکی کی طرح دیگر مسلم ممالک میں بھی کشمیر کے تعلق سے یہ تشویش پائی جاتی ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ اس قسم کی کوئی تشویش ۲۰؍ کروڑ ہندوستانی مسلمانوں کے مستقبل کے سلسلے میں مسلم دنیا میں نہ کبھی پہلے دیکھی گئی اور نہ آج دیکھی جاتی ہے اور یہ بات میں نے شکایتاً ترکی کے ذمہ داران سے بھی کہی۔ یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ ہندوستانی مسلمان کشمیریوں کے موقف کی حمایت کے بارے میں خاموش رہتے ہیں جب کہ سچ یہ ہے کہ بحیثیت ہندوستانی ہم بھی کشمیر کو اپنا ایک مضبوط حصہ مانتے ہیں یہ ہماری قومی پالیسی کا حصہ ہے، جس سے صرف نظر کرنا کسی طور پر بھی ممکن نہیں ہے لیکن ایک جمہوری اور امن پسند ملک کے شہری کی حیثیت سے حقوق انسانی کی پامالی پر شدید احتجاج بلند کرنا بلا لحاظ مذہب وملت ہر ہندوستانی شہری کا فرض بھی ہے۔ کشمیریوں اور کشمیریت کی حمایت میں یہ احتجاج بڑی تعداد میں ہندوستان کی غیرمسلم تنظیموں کے ساتھ مل کر مسلمان بھی ہمیشہ کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔مگر یہ سوال بھی ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کے سلسلے میں خود کشمیری مسلمانوں اور قیادت نے کیا رول انجام دیاہے۔ ان سب معاملات سے قطع نظر ایک بار پھر کشمیر کے مستقبل کی جانب واپس لوٹیں اور موجودہ صورت حال کا تجزیہ کریں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی وقتی سیاسی فائدہ اٹھانے سے آگے بڑھ کر ایک جانب اس عنوان سے ہندو احساس تفاخر میں بے تحاشہ اضافے کی سعی کارفرما ہے تو دوسری جانب بلا واسطہ طور پر خود حکومت ہند معاملے کو عالمی سطح پر لے جانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ اسی لیے ریاست میں امن وقانون کی صورت حال کو کنٹرول کرنے میں اتنی ناکام اور بے بس دکھائی دے رہی ہے۔ اس سارے مسئلے کے پس پشت ریاستی سرکار تقریبا خاموش تماشائی بنی بیٹھی نظر آتی ہے۔ ایک چنی ہوئی جمہوری سرکار بے بس و بے یارومددگار محسوس ہوتی ہے۔ کیا یہ امر حیرت ناک نہیں ہے کہ نظم ونسق ریاست کا داخلی معاملہ ہونے کے ناطے محبوبہ مفتی اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ثابت ہوئیں۔ سات لاکھ فوجیوں کی موجودگی، پولس کا اتنا بڑا محکمہ اور سراغ رساں ایجنسیوں کی بھرمار ہونے کے باوجود اگر نظم ونسق کا یہ دگر گوں عالم ہے تو ظاہر ہے کہ دانستہ لاپرواہی کا ایک عنصر بھی کہیں نہ کہیں ضرور شریک ہے اور اس لاپرواہی کی وجہ اس کے علاوہ کیا ہوسکتی ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرکے ا س ناپسندیدہ حل کی جانب پیش قدمی کی جائے جس کی ذمہ داری براہ راست نہ تو کوئی حکومت لینا چاہتی ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی جماعت، بلکہ مذہبی جنون کے پردے میں لپیٹ کر اپنی خواہش کی تکمیل کی کوشش کی جارہی ہے۔ وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ کا لیہہ اور لداخ کا حالیہ دورہ بھی اس جانب غمازی کررہا ہے۔ وہاں ۲۵؍ سے زائد سماجی تنظیموں نے وزیرداخلہ سے ملاقات کرکے یہ مطالبہ کیا ہے کہ دلی اور چنڈی گڑھ کی طرز پرلداخ کو حکومت ہند کے زیرانتظام مرکزی علاقہ قرار دیا جائے۔ یہ کوئی نیا مطالبہ نہیں ہے، پہلے بھی کئی مرتبہ یہ باتیں سننے میں آچکی ہیں کہ ملک کے سخت گیر ہندوتوا عناصر جموں و کشمیر کی سہ رخی تقسیم چاہتے ہیں جس کے تحت جموں بحیثیت ہندوستانی ریاست اور لداخ مرکز کے زیرانتظام علاقہ قرار دے کر کشمیر وادی کو آزاد کر دیا جائے۔ آرایس ایس بھی ہمیشہ اسی فکر کی حامی رہی ہے۔ موجودہ حالات میں لداخ کی تنظیموں کی جانب سے اس مطالبے کا اعادہ اس شبہے کو تقویت دیتا ہے کہ مرکزی حکومت جلد ہی اس جانب کوئی فیصلہ کرسکتی ہے۔ اس غرض سے ہماچل پردیش کے منڈی ضلع سے لداخ تک ایک ایکسپریس ہائی وے پہلے ہی تیار کیا جا چکا ہے جس کے ذریعے لداخ جانے کے لیے سری نگر جانے کی کوئی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔گویا کشمیر کا مسئلہ حل کرنے سے قبل لداخ کو مرکز کے زیرانتظام علاقہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں عالمی رائے عامہ اور کشمیر میں استصواب رائے کے لیے موزوں سیاسی حالات پیدا کرکے وادی کشمیرکو آزاد کرنے کا جواز فراہم کیا جا سکتا ہے اور اس کے سارے نتائج کی ذمہ داری بلاقصور مسلمانان ہند کے سر منڈھنا بھی آسان ہوجائے گا۔ ان حالات میں ایک اور مذہبی بنیادوں پر ہونے والی تقسیم کی ذمہ داری سے بچنے کے لیے یہ روزافزوں ہندو احساس تفاخر ہی کام آئے گا۔

حالات انتہائی تشویشناک اور کشیدہ ہیں لیکن جنگ کی جانب پیش قدمی ابھی ممکن نظر نہیں آتی، اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ نے مبینہ سرجیکل آپریشن کی خبروں پر انتہائی شکوک وشبہات کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی دونوں ملکوں کے مابین جنگ ٹالنے کے لیے ثالثی کی پیش کش کی ہے۔ ادھر وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کی جانب سے بھی نرم اشارے محسوس ہورہے ہیں، دونوں ملکوں کے قومی سلامتی مشیر بھی رابطے میں ہیں، حالانکہ فوجی ذمہ داران دونوں جانب اپنی کارروائیوں میں مشغول ہیں لیکن ایسے حالات میں یہ ان کا فرض منصبی ہے جس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ جنگ ہوہی جائے گی۔ ویسے بھی تجربہ یہ بتاتا ہے کہ میدان جنگ میں مسئلہ کشمیر پہلے بھی کبھی حل نہیں ہو سکا اور آئندہ بھی اس کا کوئی امکان نہیں ہے۔
(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کونسل کے صدر ہیں )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *