طب یونانی کا فروغ ہماری ذمہ داری ہے: شیخ عقیل احمد

قومی اردوکونسل کے صدر دفترمیں طب یونانی پینل کی میٹنگ کا انعقاد

نئی دہلی: طب یونانی ہمارا تہذیبی ورثہ ہےاوراس کا تحفظ وفروغ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔اردو کو زندگی بخشنے میںطب یونانی کابھی بڑا رول رہاہے۔ ان خیالات کا اظہار قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹرشیخ عقل احمد نے کونسل کے صدر دفترمیں منعقدہ طب یونانی پینل کی میٹنگ میں کیا۔انہوںنے کہا کہ طب یونانی اور اردو کا گہرا رشتہ رہا ہے۔اسی لیے طب یونانی کا خاصا بڑا ذخیرہ اردو زبان میںموجود ہے۔ہندوستان میں طب یونانی کے ماہرین نے یونانی طریقہ ٔ علاج کے لیے جس زبان کا سہارا لیا ، وہ اردو ہی ہے۔اس طرح اردو کے ذریعہ طب یونانی کا اور طب یونانی کے ذریعہ اردو کا فروغ ہوتا رہاہے۔ دونوں کے باہمی رشتے کو رواں صدی میں بھی قائم رکھنے کی کوشش کی جائے اوراس سمت میں مثبت ومضبوط اقدامات کیے جائیں۔ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ اپنی اس تاریخی وتہذیبی وراثت کے تحفظ وفروغ کے لیے قومی اردوکونسل گذشتہ کئی برسوںسے کام کررہی ہے۔ کونسل سے یونانی طریقۂ علاج، یونانی ادویہ اورطب یونانی کی تاریخ پر کئی اہم کتابیں شائع ہوچکی ہیں اور اس حوالے سے مزید کئی کتابیں جلد ہی منظر عام پر آنے والی ہیں۔
اس موقع پر ڈاکٹر محمد خالد نے کہا کہ قومی اردو کونسل نے قلیل مدت میں بڑے پیمانے پراردومیں طب یونانی سے متعلق موادکی اشاعت کو یقینی بنایااور متعدد اہم کتابیںشائع کرکے بڑا کارنامہ انجام دیا۔انہوںنے کہا کہ حال ہی میں کونسل نے صحت سے متعلق ایک اہم کتاب ’حفظان صحت‘ شائع کی ہے اور امراض اطفال اورامراض نسواں سے متعلق کتابوں کی اشاعت کے ساتھ تاریخ طب، معالجات، جراحت، علم الادویہ اورکلیات ادویہ جیسی کتابیں زیر اشاعت ہیں۔ ڈاکٹر اشہر قدیر نے کہا کہ گذشتہ چند برسوں میں ہم طب یونانی پر اچھی خاصی کتابیں شائع کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور اگلے چند سالوں میںیہ دائرہ مزید وسیع ہوجائے گا۔
میٹنگ میں نئے منصوبوںپربھی غوروخوض کیا گیا اور کئی اہم تجاویز سامنے آئیں۔ میٹنگ میں پروفیسر محمد ایوب، ڈاکٹر وسیم احمد ،ڈاکٹر شمیم ارشاد اعظمی، ڈاکٹر محمد اکرم، حکیم وسیم احمد اعظمی، ڈاکٹر شبیر احمد کے علاوہ ڈاکٹر شمع کوثریزدانی اسسٹنٹ ڈائریکٹر اکیڈمک، ڈاکٹر محمد فیروز عالم اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر، ذیشان فاطمہ اور یوسف رامپوری شریک رہے۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply