طیارہ حادثہ بن گیا عوام کی دلچسپی کا ذریعہ

نئی دہلی، ۳۱ مئی (حنیف علیمی): ملک کی راجدھانی دہلی کے باہری علاقہ میں انجن کی خرابی کے سبب کھیتوں میں لینڈ کرایا گیا ہلکے وزن کا ایئر ایمبولینس طیارہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک ہفتہ سے کھیت میں پڑے اس خراب طیارے کو دیکھنے کے لئے عوام سیلاب کی طرح آرہے ہیں۔ یہاں آنے والے لوگ اس کو حادثہ کے طور پر نہیں دیکھ رہے ہیں، بلکہ انھیں کوئی طیارہ اتنے قریب سے دیکھنے کا سنہرہ موقع ملا ہے اس لئے جوق در جوق آرہے ہیں اور طیارہ کے سامنے جاکر سیلفی (اپنی فوٹو) بھی کھینچ رہے ہیں۔

160530070129_india_plane_wreckage_624x415_enricofabian_nocredit

ایک سینئر پولس افسر نے بتایا کہ کھیت میں ہر دن سینکڑوں لوگ یہاں خراب پڑے طیارے کو دیکھنے کے لئے آرہے ہیں۔ لوگ موٹر سائیکل، سائیکل، کار اور اسکوٹر غرضیکہ جس کی جیسے بن پا رہی ہے آرہے ہیں۔ اب تو یہاں ایک میلے جیسا ماحول بن گیا ہے۔ آئس کریم، خانچے، موم پھلی اور چنے مسالے بیچنے والے بھی اپنے ساز و سامان کے ساتھ پہنچ گئے ہیں۔ طیارہ دیکھنے کے لئے آنے والے لوگ آئس کریم، چھولے چنے وغیرہ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے گروپ فوٹو اور سیلفی سے بھی محظوظ ہورہے ہیں۔

اہلِ خانہ کے ساتھ طیارہ کا نظارہ کرنے آئے ایک آٹو ڈرائیور کا کہناہے کہ ”میں تو یہاں صرف یہ دیکھنے آیا ہوں کہ دوسرے لوگ یہاں کیوں آرہے ہیں۔ میں نے اس خبر کو ٹی وی پر دیکھا تھا، تو سوچا کہ اپنے پریوار کو ہوائی جہاز دکھا لاؤں۔ شکر ہے کہ اس حادثہ میں کوئی ہلاک نہیں ہوا۔“ اپنے پورے خاندان کے ساتھ طیارہ دیکھنے آئی گھریلو خاتون بھانوتی کا کہنا ہے کہ ”میں نے اپنی پوری زندگی میں پہلی بار اتنے قریب سے کسی ہوائی جہاز کو دیکھا ہے۔“ زیادہ تر لوگ طیارہ کے قریب جاکر فوٹو کھنچوانے کی کوشش کرتے نظر آئے۔

160530132616_air_ambulance_crash_site_624x415_enricofabian

واضح ہو کہ اس بیچ کرافٹ کنگ ایئر سی -۹۰ طیارہ نے سات سواریوں، مریض، ڈاکٹر اور مریض کے ساتھ والوں کو لیکر بہار کی راجدھانی پٹنہ سے گڑگاؤں کے اسپتال کے لئے پرواز کی تھی۔ پائلٹ کو جب انجن کی خرابی کا پتہ چلا تو اس نے دہلی ایئرپورٹ پر طیارہ کے اتارنے کی اجازت چاہی، لیکن ہنگامی حالات کے پیش نظر طیارہ کو دس کلومیٹر پہلے ہی جنوب مغربی دہلی کے کھیر گاؤں میں اتارنا پڑا تھا۔ حادثہ کے وقت اس جگہ سے تقریباً ۱۰۰ میٹر کی دوری پر تعمیری کام کر رہے مزدور انل راٹھور کہتے ہیں ”مجھے یاد ہے کہ کیسے نیچے آتے وقت ہوائی جہاز کے پہیئے باہر نکل رہے تھے۔ ہم لوگ بھاگ کھڑے ہوئے تھے“۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *