ظفر صدیقی کی دو کتابوں کا اردو اکادمی میں ہوا اجراء

علمی و ادبی شخصیات نے ظفرصدیقی کی شاعری کو سراہا، پروفیسر علیم اللہ حالی کی صدارت میں منعقد ہوئی تقریب
پٹنہ(نامہ نگار): معروف شاعر ظفر صدیقی کی تصانیف ’چہرہ بولتا ہے‘(اردو) اور’ پیاس کا لشکر‘ ( ہندی ) کی رونمائی اتوار کو یہاں بہار اردو اکادمی کے سیمینار ہال میں ہوئی۔ اس تقریب کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر علیم اللہ حالی نے کہا کہ ایسی محفل عظیم آباد میں بہت کم منعقد ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظفر صدیقی کی شاعری میں بلند آہنگی ملتی ہے لیکن گھن گرج ان کے فن کو مجروح نہیں ہونے دیتی۔ پر وفیسر علیم اللہ حالی نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ظفر صدیقی اپنی شاعری میں مزید نکھار پیدا کریں گے۔ رسم اجراء کا افتتاح کرتے ہوئے حکومت بہار کی اردو مشاورتی کمیٹی کے چیئرمین شفیع مشہدی کہا: میں ظفر صدیقی کو ایک اچھا شاعر مانتا ہوں۔ ان کی شاعری میں جدید حسیت کا عنصر شامل ہے۔ ان کا لہجہ بھی عام شاعروں سے مختلف ہے لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ جس جلسہ کی نظامت فخرالدین عارفی کرتے ہیں باقی کسی دوسرے مقرر کے پاس کچھ بچتا ہی نہیں کیونکہ وہ تفصیل کے ساتھ ساری باتیں رکھ دیتے ہیں۔ انقلاب کے مقامی مدیر احمد جاوید نے اس موقع پر کہا کہ وہ ظفر صدیقی کی شاعری انقلاب کے دفتر میں منعقد ہونے والے طرحی مشاعرہ میں سنتے آ رہے ہیں اور ان کے کلام سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ظفر صدیقی کے یہاں آگے بڑھنے کے تما م تر امکانات موجود ہیں۔
بہار یونیورسیٹی کے سابق صدر شعبہ اردو پروفیسر فاروق احمد صدیقی نے ظفر صدیقی کے حوالہ سے کہا کہ عظیم آباد کی محفلوں میں دھوم مچانے والے اس شاعر کے کلام میں مزاحمت کا عنصر پایا جاتا ہے اور خاص طور پر ان کے پڑھنے کے انداز سے تو لوگ کافی متاثر ہوتے ہیں۔ اے این کالج میں صدر شعبہ اردو پروفیسر منظر اعجاز نے کہا کہ ظفر صدیقی کے یہاں ایک ایسی آتش موجود ہے جس سے سماج میں تغیرات پیدا ہوسکتے ہیں۔ میں نے بارہا ان کا کلام سنا ہے اور جس زوردار انداز سے وہ پڑھتے ہیں اس کا جواب نہیں۔ سابق جج اکبر رضاجمشید نے کہا کہ مجھے آج ظفر صدیقی کی کتابوں کی رسم اجراء میں شامل ہونے پر کافی خوشی کا احساس ہو رہا ہے۔ میں ان کی مزید ترقی کے لیے دعائیں کرتا ہوں۔
معروف شاعر خورشید اکبر نے کہا کہ ظفر صدیقی کی شاعری میں آج کے حالات کھل کر سامنے آتے ہیں۔ معروف افسانہ نگار فخر الدین عارفی نے جلسہ کی نظامت کے دوران عظیم آباد کی عظمت پر روشنی ڈالی اور ظفر صدیقی کے تعلق سے یہ کہا کہ ان کے یہاں سماج کی کھردری حقیقت کھردرے انداز میں سامنے آتی ہے ۔وہ اپنی آنکھوں پر کوئی عینک نہیں لگاتے ہیں بلکہ جو دیکھتے ہیں وہ ان کے کلام میں موجود ہوتا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی، ڈاکٹر محسن رضا رضوی، ڈاکٹر ریحان غنی نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
علمی مجلس بہار کے جنرل سکریٹری پرویز عالم نے مہمانوں کا استقبال کیا اوران کی گل پوشی کی۔ انہوں نے ظفر صدیقی کو شال اور گلدستہ پیش کرکے ان کی شاعری کا اعتراف کیا۔ گلشن سعید اختر کے آرگنائزنگ سکریٹری سعید اخترکی جانب سے شال پوشی کی گئی۔ آج کی محفل میں عطا عابدی، اویناش امن، ممتاز فرخ، انوارالہدیٰ، نورالسلام ندوی، مظہر عالم مخدومی، غلام رسول قریشی، راشد احمد، سید نورالہدیٰ شمسی رجہتی، آصف سلیم، ڈاکٹر محبوب عالم، سید امتیاز الدین، رمیش کنول، ڈاکٹر نور الاحد، ڈاکٹر عالمگیر، قمر ثاقب، اقبال حیدر خاں میجر، عتیق الزماں، عبد الباقی، شہنازبانو، میزان توحید، ناز حسن، سجاد انور، عابدہ پروین، شادماں حسن، محمد عمران، عابدہ پروین وغیرہ نے شرکت کی۔
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *