عابد سہیل فکشن اور صحافت کا ایک روشن باب تھے: پروفیسر ارتضیٰ کریم

پروفیسر ارتضیٰ کریم، ڈائرکٹر قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان
پروفیسر ارتضیٰ کریم، ڈائرکٹر قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان

نئی دہلی، 27 جنوری: اردو کے ممتاز فکشن نگار اور صحافی عابد سہیل کے انتقال پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ ان کی رحلت سے صحافت اور فکشن کے ایک روشن باب کا خاتمہ ہوگیا۔ ادب کے میدان میں ان کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ انھوں نے صرف فکشن میں اپنی شناخت مستحکم نہیں کی، بلکہ تنقید میں بھی اپنا اعتبار قائم کیا۔ ادبی موضوعات اور مسائل پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔ ان کی خودنوشت ’جویادرہا‘ بھی ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوئی۔
پروفیسر ارتضیٰ کریم نے صحافت میں ان کے ناقابل فراموش کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عابد سہیل نے اپنا صحافتی سفر ایک انگریزی اخبار سے شروع کیا تھا، بعد میں انھوں نے اردو صحافت سے اپنا مضبوط رشتہ جوڑا اوراپنے صحافتی جوہر دکھائے۔ انھوں نے ماہنامہ ’کتاب‘ کے ذریعے کئی نسلوں کی ذہنی اور تحریری تربیت بھی کی۔ ان کا رسالہ ’کتاب‘ ادبی حلقوں میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے عابد سہیل کی وفات کو صحافتی اور ادبی دنیا کا ناقابل تلافی خسارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عابد سہیل ایک متنوع شخصیت کے حامل تھے۔ انھیں کئی زبانوں پر درک حاصل تھا اور وہ ادب کے عالمی تناظر سے بھی اچھی طرح واقف تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *