عالمی اردو کانفرنس کو تہوار کے طور پر منانے کی کوشش کریں صحافی: ارتضیٰ کریم

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ارتضیٰ کریم
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ارتضیٰ کریم

نئی دہلی، ۳ فروری: قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کی طرف سے آج فروغِ اردو بھون میں ایک پریس کانفرنس بلائی گئی، جس میں کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے آئندہ ہونے والی عالمی اردو کانفرنس کے بارے میں صحافیوں کو تفصیلات بتائیں اور ان سے اپیل کی کہ وہ اس کانفرنس کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور تعاون دیں اور اسے ایک تہوار کے طور پر منائیں۔
پریس کانفرنس کے موقع پر کونسل کے وائس چیئرمین پدم شری مظفر حسین بھی موجود تھے، جنھوں نے آزادی کی لڑائی میں اردو صحافت کے رول پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ انگریزوں سے ملک کو آزاد کرانے اور جنگ آزادی کے جذبے کو ہندوستان کے گاؤں گاؤں تک پہنچانے میں ۹۰ فیصد رول اردو زبان و صحافت کا رہا ہے۔ تاہم، انھوں نے اردو زبان کی موجودہ صورتِ حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج حالت یہ ہو گئی ہے کہ اردو کی کتابوں کو پڑھنے والا کوئی نہیں ہے۔ انھوں نے پریس کانفرنس میں موجود صحافیوں کو مشورہ دیا کہ وہ بیرونِ ملک سے اس کانفرنس میں شرکت کے لیے آنے والے صحافیوں سے اردو کے تعلق سے الگ سے انٹرویو کر سکتے ہیں، جس کے لیے دہلی یونیورسٹی میں باقاعدہ الگ سے انتظام کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے صحافیوں سے کہا کہ وہ چاہیں تو اس ہوٹل میں بھی جاکر ان مہمانان سے ملاقات اور گفتگو کر سکتے ہیں، جہاں وہ ٹھہریں گے۔

Press Conference_NCPUL

اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے قومی کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ ’’حکومت نے ہمیں وسائل فراہم کر دیے ہیں، فنڈ مہیا کر دیا ہے اور عالمی اردو کانفرنس کے لیے ضروری تمام چیزوں کا انتظام کر دیا ہے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس سے کتنا فائدہ حاصل کرتے ہیں۔‘‘ انھوں نے تمام صحافیوں سے اپیل کی کہ وہ اس کانفرنس کو ایک تہوار کے طور پر منانے کی کوشش کریں اور یہ ثابت کرکے دکھا دیں کہ اردو آج بھی اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ زندہ ہے۔
قابل ذکر ہے کہ قومی اردو کونسل ۵ تا ۷ فروری ۲۰۱۶ عالمی اردو کانفرنس منعقد کر رہی ہے، جس کا موضوع ’’اردو صحافت کے ۲۰۰ سال ۔ ماضی، حال اور امکانات‘‘ ہے۔ اس کانفرنس میں ملک اور بیرونِ ملک کے مشاہیر اور دانشوران علم و ادب کی شرکت متوقع ہے۔ کانفرنس میں اردو صحافت کے ماضی، حال اور امکانات کے حوالے سے مندوبین اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔
پروفیسر ارتضیٰ کریم نے بتایا کہ ’’کانفرنس میں عالمی اور علاقائی اردو صحافت پر مقالے پڑھے جائیں گے۔ کونسل یہ کانفرنس اس لیے منعقد کر رہی ہے، تاکہ ہماری نئی نسل اپنے صحافیوں کی قربانیوں اور خدمات سے اچھی طرح واقف ہو سکے اور زبان و ادب کے فروغ میں اس کے کردار سے بھی آگاہ ہو سکے۔‘‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’’کونسل کانفرنس میں پڑھے گئے تمام مقالات کو کتابی شکل میں شائع کرے گی۔ اس کے علاوہ کانفرنس میں غزل سرائی، عالمی مشاعرہ اور ناظرین کے لیے ’میں اردو ہوں‘ جیسا ڈراما بھی پیش کیا جائے گا۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *