عالمی اردو کانفرنس کی اختتامی تقریب میں صحافت کے گرتے ہوئے معیار پر تشویش کا اظہار

DSC_2484
نئی دہلی، ۷ فروری: ’اردو صحافت کے دو سو سال ماضی حال اور امکانات‘ کے حوالے سے منعقدہ قومی اردو کونسل کی عالمی اردو کانفرنس میں زیادہ تر مقررین نے اردو زبان و ادب کے فروغ میں اردو صحافت کے کردار کا اعتراف کیا اور ماضی کی اردو صحافت کی اہمیت، معنویت، سیاسی اور شعور کی بیداری میں اس کے رول پر روشنی ڈالی تاہم کچھ مقررین نے اردو صحافت کے گرتے ہوئے معیار، متعصبانہ اور متضاد رویے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

DSC_2495

دہلی یونیورسٹی کے کانفرنس سنٹر میں منعقدہ عالمی اردو کانفرنس کے آخری دن کے پہلے سیشن کا آغاز عبدالسلام عاصم کے مقالے سے ہوا جنھوں نے ’اردو صحافت کا عہد بہ عہد‘ جائزہ لیتے ہوئے اردو صحافت کی خوبیوں اور خامیوں کے حوالے سے گفتگو کی۔ انھوں نے اپنے مقالے میں خاص طور پر اس بات کو واضح کیا کہ تحریک آزادی کے زمانے میں مسلم لیگ کے ساتھ ہندو مہاسبھا نے بھی سیاسی تحریک کی بیداری کے لیے اردو صحافت کو ہی ذریعہ بنایا تھا۔ ماریشس کی مہرین قادرہ حسین نے ’ادبی رسائل اور خواتین کی خدمات‘ کے عنوان سے بہت ہی پرمغز مقالہ پیش کیا۔ انھوں نے تین رسائل کے حوالے سے خواتین مدیروں کی خدمات پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے ان رسائل کو حقوقِ نسواں میں معاون قرار دیا اور تانیثیت کی ابتدائی شکل قرار دیا۔ مختار احمد فردین نے ’صحافت کا مجموعی جائزہ‘ پیش کیا اور عصری صحافت کے حوالے سے صحافت کی اہمیت اور پھر اس کے گرتے ہوئے معیار پر بھی روشنی ڈالی۔ تاجکستان کے ڈاکٹر سراج الدین نوواکوف نے ’ازبیکستان میں اردو‘ کے حوالے سے اپنا مقالہ پیش کیا۔ انھوں نے ازبیکستان میں اردو شناسی کے سنہرے دور کا ذکر کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ ازبیکستان سے گو کہ اردو کا کوئی اخبار نہیں نکلتا لیکن وہاں اردو کی تعلیم و تدریس کا معقول نظم ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان سے ’قومی آواز‘ ہمارے یہاں بھیجا جاتا تھا جس سے میڈیا کے طلبا استفادہ کرتے تھے۔ قطر کے احمد اشفاق نے ’اردو صحافت کا عصری منظرنامہ‘ کو اپنا موضوع بنایا۔انھوں نے کہا کہ اردو اخبارات کے معیار کو بلند کرنے کی ذمے داری صرف مدیران پر ہی نہیں بلکہ قاری پر بھی ہے۔ ڈنمارک کے نصراللہ ملک نے اپنے مقالے میں برِّصغیر کی صحافت پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے اپنے مقالے میں یہ بھی مشورہ دیا کہ ہند و پاک کے مابین ثقافتی تہذیبی و سیاسی رشتے کو مستحکم کرنے کے لیے دونوں ممالک کے صحافی ایک دوسرے کے یہاں مہمان مدیر کی حیثیت سے کام کریں تو تلخیاں کم ہوسکتی ہیں۔ پاکستان کے ہی ڈاکٹر محمد کامران نے اردو صحافت کے ماضی کے حوالے سے مقالہ پڑھا۔ انھوں نے سرسید ، شبلی، ابوالکلام آزاد اور حسرت موہانی کا خاص طور پر ذکر کیا جن کا اردو صحافت میں قائدانہ رول رہا ہے۔ پروفیسر سجاد حسین نے ’تمل ناڈو میں اردو صحافت‘ کے حوالے سے مضمون پڑھا اور وہاں سے شائع ہونے والے اخبارات پر مبسوط گفتگو کی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ تمل ناڈو سے نکلنے والے اخبارات صرف کرناٹک، تمل ناڈو نہیں بلکہ یوپی کے اضلاع میں بھی مقبول تھے۔ جواہرلعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور ہندوستانی زبانوں کے مرکز کے سابق صدر شاہدحسین نے ’صحافیان صف شکن اور آزمائش دار و رسن‘ کے موضوع پر تحقیقی مقالہ پیش کیا جس میں اردو صحافیوں کی صعوبتوں اور اذیتوں کا تفصیلی ذکر تھا۔ ان کے علاہ ڈاکٹر امان اللہ ایم بی نے بھی صحافت کے تعلق سے اپنے خیالات پیش کیے۔ اس سیشن کی مجلس صدارت میں جاوید دانش، پروفیسر شبنم حمید، کریم رضا مونگیری، پدم شری مظفر حسین اور پروفیسر زماں آزردہ شامل تھے جبکہ نظامت کے فرائض شعیب رضا فاطمی نے انجام دیے۔ اراکین مجلس صدارت نے بھی اظہار خیال کیا ۔ پروفیسر زماں آزردہ نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ ہمیں اب مستقبل کے لیے لائحہ ¿ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے یہ اعتراف کیا کہ اخبارات نے زبان و ادب کی بڑی خدمت کی ہے اور عام لوگوں تک اردو کو پہنچانے کا فریضہ انجام دیا ہے۔ ادبی رسالے خاص حلقے تک پہنچتے ہیں جبکہ اخبار ہر خاص و عام تک پہنچتا ہے۔
دوسرے سیشن میں ڈاکٹر رشید احمد (بنگلہ دیش)، محترمہ تاشیانہ شمتالی (ماریشس)، پروفیسر تاش (ازبیکستان)، ڈاکٹر رفیع الدین ناصر، ڈاکٹر ابرار رحمانی، ڈاکٹر جمیل اختر، پروفیسر مصطفی حسین اور پروفیسر تحسین فراقی نے پرمغز اور فکرانگیز مقالے پڑھے۔ اس سیشن میں اردو صحافت اور حکومت ہند، نسوانی صحافت، عبدالماجددریابادی بااصول صحافت کا صاحب اسلوب علمبردار، اردو صحافت اور علمائے کرام، اردو صحافت کے چند ناخوشگوار پہلو، اردو صحافت کے دو سو سال اور سائنس جیسے موضوعات پر مقالات پیش کیے گئے۔ اس نشست کی مجلس صدارت میں جناب زبیر رضوی، ڈاکٹر اطہرفاروقی، ڈاکٹر ایلن اور پدم شری مظفر حسین شامل تھے جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر مشتاق عالم قادری نے انجام دیے۔ آخر میں ’میں اردو ہوں‘ کے نام سے ایک ڈراما بھی پیش کیا گیا جسے ناظرین نے بے حد پسند کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *