عالمی یوم صحت پر سوالیہ نشان لگاتی خواتین زرعی مزدوروں کی صحت

عالمی یوم صحت پر سوالیہ نشان لگاتی خواتین زرعی مزدوروں کی صحت

              شیلیندر سنہا
              دمکا،جھارکھنڈ
            9546775307

ہر سال 7 اپریل کو عالمی یومِ صحت منایا جاتا ہے، پوری دنیا میں صحت کے بارے میں شعور پھیلانا اس کا مقصد رکھا گیا، لیکن آج کل لوگ اپنی صحت کے متعلق بیدار نہیں ہے، خاص طور پر خواتین۔ خواتین میں صحتی بیداری نہیں ہونے سے انہیں کئی قسم کی بیماری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دیہی علاقوں میں خالص پینے کے پانی نہیں ہونے کی وجہ سے وہ گندے چشموں کا پانی پیتے ہیں اور بیماریوں کو دعوت دیتے ہیں . اس زمرے میں جھارکھنڈ کی خواتین بھی شامل ہیں . جبکہ قبائلی خواتین کسان جھارکھنڈ میں کاشت کی بنیاد ہیں، لیکن صحت کے معاملے میں ان کی قابل رحم حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ عورتیں حمل کے دوران بھی سخت محنت کرنے پر مجبور ہیں اور ولادت کے 15 دنوں کے بعد پھر کھیتوں میں واپس آجاتی ہیں . دورانِ حمل وہ پانی چاول اور مقامی ساگ کھاتی ہیں، قبائلی دال کا استعمال کم کرتے ہیں . مجموعی طور پر کھانے میں متناسب غذا کی کمی ہوتی ہے۔
خواتین کی حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے جھارکھنڈ فیفا(فڈریشن آف آل انڈیا فارمر ایشوسیشن)کی ریاستی سیکرٹری سشمیتا سورین نے بتایاکہ ” خواتین میں صحت کے بارے میں شعور نہیں ہونے کی وجہ سے ان کے بچوں کی موت 5 سال کے اندر اندر ہی ہو جاتی ہے. غربت کی وجہ سے حمل کے دوران گاؤں کی خواتین متناسب غذا نہیں لے پاتی، جس کی وجہ سے ان کے بچے غذائی قلت کا شکار ہوتے ہیں . دیہی عورتیں پانی چاول اور مقامی گھاس ساگ کی شکل میں کھاتی ہیں . جھارکھنڈ میں غذائی قلت ایک لعنت ہے. حکومت اس پر قابو پانے کے لئے غذائی قلت مشن کے تحت کوشش کر رہی ہے. ریاست میں 5 سال کے بچے شدید بیماری کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں . حمل کے دوران عورت کسان اپنی کھیتی مزدور سے کرواتی ہے اور دھان فروخت کر کے اس کی اجرت دیتی ہے. متناسب غذا نہ ملنے کی وجہ سے قبائلی خواتین کسان خون کی کمی والی بیماری انیمیا کی شکار ہوجا تی ہیں . ان میں ہیموگلوبین کی کمی ہوتی ہے. کمزوری کی وجہ ولادت کے فورا بعد بچے کو پہلا ددھ تک نہیں پلا پاتی، عورتوں کے پاؤں اور جسم پھولنے لگتے ہیں، آنکھ کی روشنی کم ہونے لگتی ہے، چڑچڑاپن ہونے لگتا ہے، رات میں بخار آتا ہے، کھانے میں دلچسپی نہیں ہوتی اور ان کے بال جھڑنے لگتے ہے”۔. سشمیتا بتاتی ہیں کہ” قبائلی خواتین جڑی بوٹیوں سے اپنا علاج کراتی ہیں . دیہی سطح پر سرکاری صحت مراکز نہیں ہیں،فیفا حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ ملک بھر کی خواتین کسانوں کا حکومت صحت انشورنس کرائے. کسانوں کو وقت پر کھاد بیج دیا جائے اور ان کے بچوں کی تعلیم پر مکمل توجہ دی جائے. جھارکھنڈ

                                              کھیتیوں میں کام کرتی زرعی مزدور کسان خواتین

میں دالیں اور تلہن کی کاشت پر حکومت توجہ دے، کیونکہ یہاں اس کا امکان زیادہ ہے”۔
آپ کو بتا دیں کہ جھارکھنڈ میں تقریبا 15 لاکھ خواتین زرعی مزدورہیں . عورتوں کو ہی زیادہ تر بوائی،نکائی،کھاد کی چھڑکائی وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ جانورں کی خدمت بھی انہیں کے سپرد ہوتی ہیں۔ کھیتوں سے کٹائی کرکے اس دھان میں تبدیل کرنے کا کام کرتی ہیں . لیکن کھیتوں میں د ن رات محنت کرنے کے بعد بھی سال بھر کا اناج پیدا نہیں کر پاتیں، زراعت کے درمیان متناسب غذا نہیں لیتیں،خواتین مرد کسان سے زیادہ کام کرتی ہیں،. دیہی ہندوستان میں حالیہ برسوں میں خواتین کی زندگی میں تبدیلی لانے اور ان کی صلاحیت کو آگے بڑھانے کا کام شروع کیا گیا ہے. وزیر اعلی رگھوور داس جھارکھنڈ کے کسانوں کے مسائل کے تئیں سنجیدہ ہیں اور ہر ماہ ضلع کے افسر سے کسانوں کے مسائل کی معلومات لے رہے ہیں۔
آتما(زرعی ٹیکنالوجی مینجمنٹ ایجنسی)کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر دویش کمار سنگھ نے بتایا کہ” حکومت کسانوں کے لئے کئی قسم کے منصوبے چلا رہی ہے. بکری پروری، مشروم کی کھیتی، مویشی پالن اور کچن گارڈین کے ذریعے انہیں بااختیار بنانے میں لگی ہے، وہ بتاتے ہیں کہ ان منصوبوں سے کسانوں کو متناسب غذا ملنے کے ساتھ ان کی آمدنی بھی بڑھے گی۔آتما کی طرف کسانوں کو کئی قسم کی تربیت دی جا رہی ہے جس سے ان کی اقتصادی حالت میں بہتری آ رہی ہے”۔
جبکہ دوسری طرف کسان پھلو مرمو بتاتی ہے کہ” اگر وقت پر حکومت کسانوں کو کھاد اور بیج فراہم کر دے تو کسان مزید کاشت پر توجہ دیں گے. آج قبائلی اپنے گاؤں سے خاندان سمیت روزگار کے لئے بنگال نقل مکانی کرتے ہے کیونکہ گاؤں میں زراعت کے علاوہ کچھ نہیں ہے. اس میں آبپاشی کی سہولت کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے کاشت بھگوان بھروسے ہوتی ہے”۔ موکھودی سورین، میری میناکشی مرانڈی، سرتا سورین بتاتی ہیں کہ” کسانوں کو وزیر اعظم فصل انشورنس کی منصوبہ بندی کے تحت فصل کو ٹھنڈسے ہونے والے نقصان سے راحت نہیں دی گئی ہے”۔کاٹھی کنڈ گاؤں کی خاتون زرعی مزدور سنگیتا مرانڈی، شکاری پاڑہ کی چمپا باسکی، مسليا کی بینا بیسرا اور دمکا کی جوباہناسدا نے بتایا کہ “گزشتہ زمانے میں کاشت کاری قدامت پسند طریقے سے ہوتی تھی، لیکن اب سائنسی طریقے سے کاشت کر رہی ہے. باوجود اس پیداوار کافی نہیں ہوتی اور نہ ہی زیادہ منافع ہو پاتا ہے”۔
اب سوال یہ ہے کہ حکومت کی کوششوں اور سائنسی طریقہ کو اپنانے کے بعد بھی جھارکھنڈ کی قبائلی خاتون کسان اپنے خاندان کی پرورش کرنے میں کیوں قاصر ہیں؟ اور دن رات زراعت میں جسمانی محنت کرنے کی وجہ سے صرف جھارکھنڈ کی ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں خواتین کسانوں اور ان کے بچوں کے جسم پر جو منفی اثرات پڑ ر ہے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا ایسی صورت میں عالمی یومِ صحت کا مقصد مکمل ہو پائے گا؟(چرخہ فیچرس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *