عالمی یوم مادری زبان اور پیاری اردو

فیروز عالم
       سیتامڑھی،بہار
      7079808014

عالمی یوم مادری زبان اور پیاری اردو

ہر سال 21 فروری کو بین الاقوامی یومِ مادری زبان منایا جاتا ہے جس کا مقصد ہے زبانوں اور لسانی تنوع کو فروغ دینا ہے ۔ تنوع میں اتحاد کی خاصیت رکھنے والے ہمارے ملک میں لسانی تنوع بھی خوب پائی جاتی ہے جس میں اردو اپنا خاص مقام رکھتی ہے۔ اس ضمن میں بات اگر ریاست بہار کی کریں تو “بین الاقوامی یوم مادری زبان” کے موقع پر ہر جگہ کی طرح یہاں کے بھی تمام اسکولوں میں تقریری مقابلہ، مضمون نگاری،بیت بازی اور مشاعرہ و کوی سمیلن وغیرہ کے پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔جو بچوں کو زبان کی اہمیت وافادیت اور تنوع سمجھانے کی یہ ایک اچھی کوشش کہی جاسکتی ہے۔ حالانکہ اتنی کوششوں کے بعد بھی نہ صرف بہار سے بلکہ ملک سے اپنے وجود کے باوجود اردو زبان آہستہ آہستہ اپنی شناخت کھوتی جا رہی ہے۔
ملک کی کئی ریاستوں کے سرکاری اسکولوں میں اردو زبان کی تعلیم وہاں کے باشندگان کی مانگ کے باوجود نہ ہونے کے برابر دی جا رہی ہے،اردو آبادی دوسرے سبجیکٹ پڑھنے پر مجبور ہو ہے ہیں. ریاست بہار جہاں اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان ہونے کی حیثیت حاصل ہے اس کے ضلع سیتامڑھی کے پوپری ڈویژن میں ایسا ایک بھی اسکول نہیں جہاں بچوں کو خواہش مند ہونے کے باوجود اردو زنان کی مکمل تعلیم دی جارہی ہو۔اس سے متعلق پوپری کے محمد محفوظ کہتے ہیں کہ ” یہاں کے 20 فیصد بچے اردو تعلیم سے دور ہیں، دس فیصد کو اردو میں خط ودرخواست لکھنا بھی نہیں آتا۔ ناقص انتظام اور قابل اساتذہ کی کمی کی وجہ سے بچے میں اردو سیکھنے کا شوق بھی ختم ہوتا جا رہا ہے”۔دیگر باشندے محمد حامد کے مطابق” یہاں ایک بھی اردو لائبریری نہیں ہے، جہاں سے بچوں کو اردو کی کتابیں مل سکیں۔ دو پرائیویٹ اسکول ہیں جہاں کچھ بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں ایسے میں جن بچوں کو اردو سیکھنے کا شوق ہے وہ شہر میں جا کر اپنا شوق پورا کرتے ہیں”۔بہار کے موتہاری سے تعلق رکھنے والے دارالعلوم دیوبند کے طالب علم مجیب الحق ضیاء اپنی آنکھوں میں چمک لئے روشن مستقبل پر نظرجمائے کہتے ہیں کہ” میں اردو سے گریجویشن پاس کرنے کے بعد میں یوپی ایس سی کی تیاری کرنا چاہتا ہوں. اردو زبان سے یو پی ایس سی کی تیاری کرنے والوں کی تعداد یوں تو بہت کم ہے. لیکن جو کرتے ہیں انہیں اس زبان پر یقینااعتماد رکھنا چاہئے. ہاں یہ بھی سچ ہے اردو کے مقابلے زیادہ تر دوسری زبانوں کو یہاں کامیابی ملتی ہے”۔
دہلی میں رہائش پزیر چرخہ فیچرس کے ڈپٹی ایڈیٹر محمد انیس الرحمن خان اپنے تجربے کو اشتراک کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ” اس میں کوئی شک نہیں کہ اردو ہمارے ملک کی زبان ہے، اسے مغلوں یا کسی دوسرے مسلمان بادشاہ کے عہد میں فروغ نہیں ملا بلکہ یہ عوامی زبان بن کر خود اپنی صلاحیت سے لوگوں کے دلوں پر قبضہ کرتی چلی گئی. اس زبان نے انگریزوں کو اتنا متاثر کیا کہ غیر ملکی انگریزوں کو اردو سکھانے کے لئے کولکاتہ میں 4 مئی 1800 ؁ء میں فورٹ ولیم کالج کی بنیاد رکھی۔ انگریز حکمرانوں کے علاوہ عیسائی مذہبی رہنماؤں نے بھی اپنے خیالات لوگو تک پہنچانے کے لیے اردو کا استعمال کیا، بعد میں پریم چند جیسے مصنفین نے دیہی بھارت کے درد کو اسی پیاری زبان میں لوگوں کے درمیان پہنچایا۔ ملک کی آزادی کے وقت” انقلاب زندہ باد” جیسا طاقتور نعرہ اردو زبان کی دین ہے۔ لیکن جس زبان نے ملک کی آزادی میں اپنا اہم کردار ادا کیا آج اسی زبان کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے. آپ دیکھئے فلم انڈسٹری میں اردو کا قبضہ ہے، لاکھوں الفاظ،فلموں کے نام، ڈائیلاگ، فلمی نغمات اردو میں ہی ہوتے ہیں۔ اس باوجود فلموں کو سند ہندی میں ملتی ہے۔ ہمارے ملک کے کئی باشندگان اپنی کوتاہ نظری کی وجہ سے خالص ہندوستانی زبان اردو کو پاکستانی زبان سمجھتے ہیں، جو ہمارے ملک کے تمام باشندگان کے لئے دکھ کی بات ہے”۔
جھارکھنڈ کے سینئر آزاد صحافی اور چرخہ کے دیہی قلم کار شیلندر سینہا اردو زبان کے لئے کافی فخر محسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ” اردو واقعی میٹھی زبان ہے، اس کی مٹھاس کا اندازہ مجھے ہر بار اس وقت مزید ہوتا ہے جب چرخہ فیچرس کے تعاون سے میرے ہندی مضامین ترجمہ ہوکر ملک کے تمام اردو اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ اور لوگ اسے پڑھ کر مضمون کی تعریف کرتے ہیں”۔وہ اپنی کم علمی کا اعتراف کرتے ہوئے ندامت بھرے لہجے میں کہتے ہیں کہ ” کاش میں بھی اسے سیکھ پا تاکہ اپنے مضمون کو اردو اخبارات میں صرف ایک تصویر کی مانند نہ دیکھتا بلکہ اسے پڑھ کر ذہینی اور قلبی سکون بھی حاصل کرپاتا”۔بہار کے جے ۔ایل۔این۔ایم کالج، سرسنڈ کے اردو پروفیسر جناب عبدالمنان کہتے ہیں کہ ” فارسی ہی کی طرح آج اردو بھی ہمارے درمیان سے غائب ہوتی جا رہی ہے. جس کا سب سے بڑا نقصان آنے والی نسلوں کو ہوگا۔ اگر ہم نے وقت رہتے ا س زبان کو محفوظ نہیں کیا تو بڑی دیر ہو جائے گی”۔
افسوس کی بات ہے کہ جس زبان کو ہم میٹھی زبان کے نام سے جانتے ہیں ،ملک کی پارلیمنٹ اور ریاست کی اسمبلیوں میں ہمارے ممبران اپنی بات میں قوت پیداکرنے کے لئے جس زبان کے اشعار کا سہارا لے کر اپنی تقریر کو پُر اثر بنانے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں وہی ممبران اس کے فروغ دینے میں ذات اور مذہب کا چشمہ لگاکر اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی ہی زبان کا گلا گھونٹ دینا چاہتے ہیں۔ اس زبان کے الفاظ کو استعمال تو خوب کرتے ہیں مگر اسے مکمل طور پر اپنانے سے نہ جانے کیوں کتراتے ہیں۔ اس زبان کی طاقت کا حال یہ ہیں کہ جب اردو زبان کی مخالفت کی جاتی ہے تو بھی مخالفین اپنے گروہ اور جماعت کو طاقت دینے کے لئے “انقلاب زندہ باد”کا نعرہ لگاتے ہیں۔(چرخہ فیچرس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *