علامہ اختر رضا کا انتقال ملت اسلامیہ کا بڑا نقصان: ولی رحمانی

نبیرۂ اعلیٰ حضرت علامہ اختررضا خانؒ کے انتقال پر امیر شریعت کا اظہار تعزیت

پٹنہ: ممتازعالم دین اورحضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کے پڑپوتے تاج الشریعہ حضرت علامہ اختر رضا خان الازہری کے انتقال کو ملت اسلامیہ کا ایک بڑا حادثہ قرار دیتے ہوئے امیر شریعت بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ مولانا محمد ولی رحمانی نے دلی رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔مولانا ولی رحمانی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ حضرت مولانا اختر رضا خان الازہری بریلوی حلقے میں تاج الشریعہ کے نام سے معروف اورحضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمۃ کے حلقے کے سربراہ شمار ہوتے تھے ، ان کا انتقال امت کے لیے ایک سانحۂ عظیم ہے۔
واضح ہو کہ تاج الشریعہ کے نام سے معروف مسلک اعلیٰ حضرت کے سرخیل علامہ مفتی الحاج الشاہ محمد اختر رضا خاں الازہری قادری بن مولانا محمد ابراہیم رضا جیلانی بن حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا بن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی کا انتقال ۲۰؍ جولائی۲۰۱۸ء مطابق ۶؍ ذی قعدہ ۱۴۳۹ھ روز جمعہ کوبعد نماز مغرب بریلی میں ہوا ۔ ان کی پیدائش ۲۵؍ فروری ۱۹۴۲ء کو محلہ سوداگران بریلی شریف میں ہوئی تھی۔انتقال کے وقت ان کی عمر ۷۶؍ سال تھی۔
آپ نے جامعہ ازہر قاہرہ، مصرسے فن تفسیر وحدیث کے ماہر اساتذہ سے اکتساب علم کیاتھا۔ آپ ۱۹۶۷ء میں دارالعلوم منظر اسلام بریلی میں مسند تدریس پر فائز ہوئے۔۱۹۷۸ء میں اس ادارہ کے صدر المدرسین بنائے گئے ساتھ ہی رضوی دارالافتا کے صدر مفتی بھی رہے۔
اپنے تعزیتی پیغام میں حضرت امیر شریعت نے کہا کہ حضرت مولانا اختر رضا خان صاحب کی شخصیت نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک میں بھی با وقار، مقبول اور معتبر تھی ۔ آپ نے تقریباً نصف صدی تک قوم و ملت اور دین مصطفوی علی صاحبہا الصلواۃ والسلام کی بیش بہاخدمات انجام دیں، آپ کے فیض یافتگان اور مریدین و متوسلین کا ایک وسیع حلقہ ہے۔ یقیناًان کا انتقال ان تمام متوسلین و مریدین کے لیے سانحۂ عظیم ہے اور ملت اسلامیہ کا بڑا نقصان ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند کرے اور ان کے پسماندگان کے علاوہ تمام مریدین و متوسلین اور معتقدین کو صبر جمیل عطاکرے نیز امت کو ان کا نعم البدل دے۔ آمین!

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *