علمی مجلس کے زیر اہتمام ہوا مشاعرے کا انعقاد

پٹنہ: علمی مجلس بہار کے زیر اہتما م کل ظفر صدیقی کے کتابوں کے رسم اجراءکی تقریب کے اختتام پر مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ مشاعرہ کا آغاز سید ضیاءالرحمٰن ضیاء کی -تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ پروفیسر فاروق صدیقی نے حمدیہ کلام پڑھے جبکہ اعجاز عادل نے نعتیہ کلام سنائے۔ مشاعرہ میں پڑھے گئے الگ الگ شعراء کے کلام حسب ذیل ہیں
کنارے بیٹھ کے ڈورے نہ ڈالا کر سمندر پر
 بڑی پھنس جائے تو انساں کو مچھلی کھینچ لیتی ہے
   سعید احسن، جمشیدپور
۔ آنکھ میں آنسو دل میں غم پھر بھی نہیں کچھ کہتے ہم
 جو بیٹی غربت میں پلی اسکی آنکھیں ہردم نم
   شنکر کیموری
۔ اتنا گم سم تو دیکھا نہ تھا آپ کو
 کس نے کیا کہ دیا کیا ہوا آپ کو
   وارث اسلام پوری
 یہ فیصلہ میرا ہے اطاعت نہ کرینگے
 ظالم کی ستم گری کی حمایت نہ کریں گے
   مشہود اعظم گوہر
 حسان بن ثابت کا جو مداح ہوجائے
 وہی سعدی وہی اشرف وہی خیام ہوتا ہے
   م اشرف
شوق ہے اتنا اگر تو، خرچ پیسے کیجئے
بات کرکے سکون میرے دل کو دیا کیجئے
   ڈاکٹر پرتیبھا کماری، حاجی پور
نرم رو ہواﺅں میں ہر چراغ جلتا ہے
وہ دیئے جلاﺅ جو آندھیاں میں جلتے ہیں
   ڈاکٹر پرویز انجم
کسی کا بار احساں دیر تک سر پر نہیں رکھتا
جفا کش آدمی اپنی زمیں بنجر نہیں رکھتا
   مشتاق سیوانی
آنے دو نہ ساون کو ہریالی پہنا دینا
گھر ائے گی بدلی جب جب آنچل کو لہرا دینا
   لتا پرشاد
ہم تو پھولوں کو مسلنے سے بھی گھبراتے ہیں
دیکھتے دیکھتے ہاں شہر اجڑ جاتے ہیں
   ڈاکٹر خورشید انور
جو حالت وطن کی سنانے لگیں گے
تو پتھر بھی آنسو بہانے لگیں گے
   شاہین مظفر پوری 
وہاں برستی ہے لعنت خدا کی روز و شب
بڑے بزرگ کا جس گھر میں احترام نہ ہو
   ناشاد اورنگ آبادی
کتنا معصوم ہے اور کتنا فرشتہ سجاد
اپنے قاتل کو بھی جینے کی دعا دیتا ہے
   میر سجاد
نہ سنگ راہ نظر آیا نکتہ چینوں کو
شبیہ خاک ہوئی میری لڑکھڑانے سے
   نیاز نذر فاطمی
پھر تباہی نہ لاسکا ناداں
ایک چٹھی سے ڈر گیا پانی
   نوشاد ناداں
آنکھ اکثر چاہتی ہے بولتے پانی کا خواب
یعنی اس کے دل میں اظہار لایعنی کا خواب
   قوس صدیقی
تمہارے لب کو جو چھو رہا ہے یہ پہلا دردِجگر ہے شاید
تمہارے لب پہ تو کھل اٹھا ہے غضب کا یہ پیر ہن گلابی
   شفیع بازید پوری
موت آئے گی بھلا کیسے بے خبرمجھ تک
میرا سایہ بھی کبھی مجھ سے بے خبر نہ ملا
   طلعت پروین
نمایاں ہو نہ جائے بھوک کی شدت شفیع اللہ
 اسی خاطر ہی بس منہ میں اکثر پان رہتا ہے
   شفیع اللہ شمس
ماں کے قدموں میں ہے جنت یہ حقیقت ہے نصر
ماں کی عظمت پہ سدا جان لٹاتے رہنا
   نصر عالم نصر
ساری نظریں اڑان پر تیری
اڑ چکا تو یہاں وہاں مٹھو
   شمیم قاسمی
ہم رہیں یا نہ رہیں شاخ ثمر ہونے تک
سینچتے رہنا ہے پودے کو شجر ہونے تک
   سید محمد جلیل
کیا طرفہ تماشہ ہے کہ منصب کی طلب میں
دن بکا کرتے ہیں ایمان ہزاروں
   فاروق صدیقی
میری خواہش ہے میری زندگی جب زندگی بن جائے
اسے کاندھوں پہ ڈھوﺅں زندگی بھر پالکی بن کر
   تبسم ناز
ترے آنچل میں مری دنیا تھی ماں
بس یہی ایک دولت تھی ماں
   کہکشاں توحید
عظمت پہ آپ کی ہوئے نازاں تمام لوگ
سب کیلئے امید کی منزل ہوئے ہیں آپ
   ڈاکٹر شمع ناسمین نازاں
دل میں جذبات ہیں احساس ہے انگڑائی ہے
دور رہنے کی مگر اس نے قسم کھائی ہے
   معصومہ خاتون 
نوجوان اپنے وطن کے ہاتھ میں ڈگری لئے
پھر رہے ہیں در بدر اب تو نوکری کے واسطے
   شفیع مختار
ہم سخن ور میں بہتر ظفر ہیں
علم و فن کے سمندر ظفر ہیں
   اشرف مولا نگری
ضمیر اب نہ جگاتا تو اور کیا کرتا
یہ فرض میں نہ نبھاتا تو اوور کیا کرتا
ترس رہے تھے سبھی روشنی کےلیے
میں اپنا گھر نہ جلاتا تو اور کیا کرتا
  پروفیسر احسان شام
پاکے خوشیاں تو بہاریں آتی ہیںسب کے چہرہ پہ
غم کے آنے پہ بھی مسکرا دیتے ہیں کچھ لوگ
   ایم آر ملک
اخوت، محبت، ہوئی کہ کے رخصت
زمانہ بہت ہی خراب آ رہا ہے
   اعجاز عادل
ابھی کے حال میں دنیابہت بے حال ہے لیکن
کسی کو دیکھتے ہی مسکرانا بھی عبادت ہے
   آر پی گھائل
چھوڑ جاﺅ نہ مجھے رات بسر ہونے تک
ہیں تیری شام ہوں رہ جاﺅ سحر ہونے تک
  پروفیسر مطٰیع الرحمٰن ساحل
محبت کی کوئی معراج دیکھے
تصور میں مہینہ آگیا ہے
  آرادھنا پرشاد
وہ جو انگڑائیاں چھتوں پر لیں
پھر اماوس میں چاندنی ہوگی
  معین گریڈیہوی
اپنے ہی گھر کی تباہی سے ہوئے مشہور ہم
کیا گلا کرتے کسی سے خود ہی بنے دستور ہم
 محمد نسیم اختر
چمن میں آج بھی پہلی سی خوش نمائی ہے
متاعِ حسن میں کوئی کمی نہ آئی ہے
 تحسین روزی
ستم کے بعد یہ کہتے ہو کہ رہوں خاموش
میں کیوں نہ بولوں میرے منھ میں بھی زبان تو ہے
  ڈاکٹر آفتاب عالم اطہر، گیا
نہ کوئی عزت کا شرف لیکر نہ طوق ذلت کی گلے میں
خدا کی دنیا میں جو بھی آیا خدا کی نظروں میں ایک ہیں سب
 غلام ربانی عدیل
قاتل سر بازار جو رقصاں نظر آیا
سرکار سیاست کو مسلماں نظر آیا
 شفیع بازید پوری
شکستہ حال صحیح سر سربریدہ نہیں
میری شناخت ابھی معتبر ہے کاندھے پر
 جمال کاکوی
 اس شعری نشست میں معین کوثر ، سلطان آزاد، عطا عابدی، اویناش امن، ممتاز فرخ، نوراسلام ندوی، مظہر عالم مخدومی، غلام رسول قریشی، راشد احمد، سید نورالہدیٰ شمسی رجہتی ، آصف سلیم، ڈاکٹر محبوب عالم، سید امتیاز الدین، رمیش کنول، ڈاکٹر نور الاحد، ڈاکٹر عالمگیر، قمر ثاقب، عبد الباقی، شہنازبانو، میزان توحید، مس ناز حسن، سجاد انور، عابدہ پروین، شادماں حسن، محمد عمران، عابدہ پروین وغیرہ موجود تھیں ۔ علمی مجلس بہار کے جنرل سکریٹری پرویز عالم کے شکریہ پر مشاعرہ کی محفل اختتام ہوا
Attachments
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *