علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کا اقلیتی کردار

ڈاکٹر قمر تبریز، سینئر صحافی
ڈاکٹر قمر تبریز، سینئر صحافی

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کا اقلیتی کردار
کیا عدلیہ اور مقننہ کو باہم دست و گریباں کر نے کی سازش ہے؟
ہندوستان کی موجودہ حکومت نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ا س کی وجہ سے ان دونوں ہی تعلیمی اداروں کے فارغین و بہی خواہان سمیت ملک و بیرونِ ملک کے مسلمانوں میں بے چینی کا عالم ہے۔ بعض لوگ جہاں مودی حکومت کے اس متنازع قدم کو اتر پردیش اور مغربی بنگال کے آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخابات سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں، وہیں قانونی ماہرین اسے عدلیہ اور مقننہ کے درمیان بالادستی کی ایک نئی لڑائی کا شاخسانہ تصور کر رہے ہیں۔ اور، اصلیت بھی یہی ہے، کیوں کہ دونوں ہی یونیورسٹیاں باقاعدہ پارلیمنٹ میں بل پاس کرکے بنائی گئی ہیں اور ہندوستانی آئین کی دفعہ 30 کے تحت انھیں اقلیتی کردار فراہم کیا گیا ہے۔
اب آئیے،ذرا اسے آسان لفظوں میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوگا گرو بابا رام دیو نے ویدوں کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد ہندوستان میں ایک نیا طریقہ علاج ایجاد کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے ویدک دور اور اس کے بعد لکھی جانے والی قدیم کتابوں اور ہمالیہ کی گود میں عبادت و ریاضت کرنے والے قدیم رشیوں منیوں کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے جڑی بوٹیوں کی مدد سے دوائیں بنانے کے لیے اتراکھنڈ کے ہری دوار میں ’پتنجلی یوگا پیٹھ‘ کی بنیاد ڈالی۔ اب، اگر کل کو ہندوستان کی حکومت عدالت کے سامنے یہ دلیل پیش کرنے لگے کہ ’پتنجلی یوگا پیٹھ‘ کا تعلق ہندو کلچر سے نہیں ہے، تو کیا بابا رام دیو یا کروڑوں کی تعداد میں ملک و بیرون ملک میں موجود اُن کے پیروکار اسے تسلیم کر لیں گے؟ کیا بھارتیہ جنتا پارٹی یا ہندوستان کی کوئی بھی دوسری سیاسی جماعت ’یوگا‘ کو ہندو کلچر کا حصہ ماننے سے انکار کر سکتی ہے؟ ظاہر ہے، اس کا جواب نفی میں ہی ہے۔
ٹھیک اسی طرح، سرسید نے جب 1875 میں ’مدرسة العلوم مسلمانانِ ہند‘ کی بنیاد ڈالی، جو 1878 میں ’محمڈن اینگلو اورینٹل‘ (ایم اے او) کالج بنا، تب بھی اس تعلیمی ادارہ کے نام کے ساتھ ’مسلم‘ یا ’محمڈن‘ کا لفظ جڑا ہوا تھا، اور جب 1920 میں ہندوستانی قانون کے تحت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو سنٹرل یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا، تب بھی اس کے نام کے ساتھ ’مسلم‘ لفظ جڑا ہوا تھا۔ یہی حال جامعہ ملیہ اسلامیہ کا بھی ہے، جس کے نام کے ساتھ قوم و ملت کی مناسبت سے ’ملیہ‘ اور مذہب اسلام کی مناسبت سے ’اسلامیہ‘ لفظ جڑا ہوا ہے، جیسا کہ بابا رام دیو کے ادارہ ’پتنجلی یوگا پیٹھ‘ کے ساتھ ’یوگا‘ لفظ لگا ہوا ہے۔ جس طرح ہری دوار کے ’پتنجلی یوگا پیٹھ‘ میں کوئی مسجد نہیں ہے، اسی طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کسی بھی ہوسٹل یا جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس میں کوئی مندر نہیں ہے۔ گویا کہ یہ دونوں ہی جگہیں ایک مخصوص تہذیب و ثقافت کی علامت ہیں اور اس سے انکار کرنا نہ صرف بددیانتی ہے، بلکہ سراسر بیوقوفی اور جہالت بھی ہے۔
اب بعض حلقوں اور خاص کر بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جب 1920 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی یا جامعہ ملیہ اسلامیہ کو سنٹرل یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا، تب ملک میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ بالکل صحیح بات ہے۔ لیکن، 1947 میں جب ہندوستان آزاد ہوا، تو اقتدار کی منتقلی کے وقت عدالت ہو یا قانون، سرکاری دفاتر ہوں یا پھر گورننس کے دیگر ادارے، ہمیں وہی ساری چیزیں وراثت میں ملیں، جن کا بنیادی ڈھانچہ انگریزوں نے تیار کیا تھا۔ اس کے بعد جب ہمارے آئین سازوں نے اپنی انتھک محنتوں اور کوششوں سے آئندہ ملک کو چلانے کے لیے ایک نیا آئین بنایا، جسے 1950 میں نافذ کیا گیا، تو اس آئین میں بھی بیشتر چیزیں دنیا کے دیگر ممالک اور خاص کر امریکی و برطانوی آئین سے ہی مستعار لی گئی تھیں۔ اسی کڑی میں ہندوستانی پارلیمنٹ نے 1981 میں جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا نیا ترمیمی بل پاس کرکے اس کے اقلیتی کردار کو بحال کیا، تو اس وقت بھی کسی نے ’مسلم‘ لفظ پر کوئی اعتراض نہیں جتایا، جو اِس بات کی دلیل ہے کہ اس یونیورسٹی کا تعلق ایک مخصوص مذہب و کلچر کے ماننے والوں سے ہے۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ یا عدالت کے سامنے جب بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی یا جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار پر سوال اٹھائے گئے، تو دفاع کرنے والوں نے جواب میں آئین کی دفعہ 30 کا ہی حوالہ دیا، جس میں صاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ ”تمام اقلیتوں کو، خواہ وہ مذہب کی بناپر ہوں یا زبان کی، اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام کرنے کا حق ہوگا۔“
یہ بات حکومت بھی جانتی ہے اور ملک کا تعلیم یافتہ طبقہ بھی کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی بنیاد سرسید احمد خاں نے اپنی قوم سے چندہ کرکے ڈالی تھی، جب کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد مولانا محمد علی جوہر نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کی ’سودیشی تحریک‘ سے متاثر ہوکر ڈالی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ دونوں ہی یونیورسٹیوں کو قائم کرتے وقت چندہ دینے والوں میں غیر مسلم حضرات بھی شامل تھے اور شاید اسی لیے مسلمانوں کے ان دونوں ہی اعلیٰ تعلیمی اداروں نے اپنے دروازے کبھی غیر مسلموں کے لیے بند نہیں کیے اور نہ ہی ان کے ساتھ کبھی کوئی امتیازی سلوک کیا۔ اسی لیے جب بھی ان دونوں یونیورسٹیوں پر خطرات کے باڈل منڈلائے، تو ملک کے اکثریتی طبقہ کے ایک بڑے حصے نے مسلمانوں کا بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا اور یہ بات آج بھی پائی جاتی ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی یا جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کی مخالفت کرنے والے اور خاص کر بھارتیہ جنتا پارٹی سے جڑے لوگ دوسری دلیل یہ دیتے ہیں کہ چونکہ ان دونوں ہی یونیورسٹیوں کو ہندوستانی قانون کی رو سے سنٹرل یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہے، جس کے تحت انھیں مرکزی حکومت کی جانب سے مالی مدد فراہم کی جاتی ہے، اس لیے اس پر ملک کے تمام شہریوں کا حق ہے اور اسے صرف مسلم طبقے تک ہی محدود نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں پر یہ جاننا ضروری ہے کہ اقلیتی کردار کے ملنے یا چھن جانے سے تعلیمی اداروں کو کیا فائدہ یا نقصان ہوتا ہے۔ دراصل، کسی بھی تعلیمی ادارہ کو جب اقلیتی کردار حاصل ہو جاتا ہے، تو وہاں خود بخود اُس اقلیتی طبقہ کو 50 فیصد ریزرویشن حاصل ہونے لگتا ہے، جس طبقہ کے ذریعہ اس ادارہ کو قائم کیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں وہاں درج فہرست ذات و قبائل (ایس سی ایس ٹی) یا دیگر پس ماندہ ذات (او بی سی) کو ریزرویشن اس لیے نہیں مل پاتا، کیوں کہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کی رو سے کہیں پر بھی ریزرویشن کی حد 50 فیصد سے زیادہ متعین نہیں کی جا سکتی۔ اسی لیے اقلیتی کردار چھن جانے سے سب سے بڑا نقصان مسلمانوں کو یہی ہوگا کہ ان دونوں یونیورسٹیوں میں انھیں 50 فیصد ریزرویشن نہیں مل پائے گا اور ملک کی دیگر سنٹرل یونیورسٹیوں کی طرح اے ایم یو یا جامعہ ملیہ میں بھی ایس سی ایس ٹی اور اوبی سی ریزرویشن نافذ ہو جائے گا۔
لیکن، اقلیتی کردار کی مخالفت کرنے والوں کی دلیل آئین کی ہی دفعہ 30 کی شق نمبر (2) سے خارج ہو جاتی ہے، جس میں صاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ ”مملکت تعلیمی اداروں کو امداد عطا کرنے میں کسی تعلیمی ادارے کے خلاف اس بناپر امتیاز نہ برتے گی کہ وہ کسی اقلیت کے زیر انتظام ہے، خواہ و ہ اقلیت مذہب کی بناپر ہو یا زبان کی۔“ مطلب واضح ہے کہ اگر مرکزی حکومت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی یا جامعہ ملیہ اسلامیہ کو سنٹرل یونیورسٹی ہونے کی وجہ سے مالی امداد فراہم کررہی ہے، تب بھی وہ اُن سے ان کا اقلیتی کردار نہیں چھین سکتی۔
اب آئیے، بات کرتے ہیں گزشتہ 11 جنوری کی، جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے معاملے میں اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے سپریم کورٹ سے ہندوستانی سرکار کا وہ حلف نامہ واپس لے لیا، جسے پچھلی یو پی اے حکومت نے داخل کیا تھا اور جس میں مرکزی حکومت نے مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو تسلیم کیا تھا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار پر سپریم کورٹ میں مرکز کی مودی حکومت کا موقف واضح کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے جسٹس جے ایس کھیہر، جسٹس ایم وائی اقبال اور جسٹس سی نگپّن کی تین رکنی بنچ کو بتایا کہ ”یہ ہندوستانی یونین کا موقف ہے کہ اے ایم یو اقلیتی ادارہ نہیں ہے۔ مرکز میں ایگزیکٹو حکومت کے طور پر ہم ایک سیکولر ملک میں اقلیتی ادارہ قائم نہیں کر سکتے۔“ شہزاد پونہ والا اور زیڈ کے فیضان جیسے قانونی ماہرین کی بات مانیں، تو اٹارنی جنرل کا یہ بیان آئین کی دفعہ 30 کے سراسر خلاف ہے۔
کانگریس کے ترجمان اور پیشہ سے ایک وکیل شہزاد پونہ والا، جنھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے معاملے میں سپریم کورٹ سے مرکزی حکومت کے ذریعہ اپنا حلف نامہ واپس لیے جانے کے بعد صدرِ جمہوریہ پرنب مکھرجی کو سنٹرل یونیورسٹیوں کا وزیٹر ہونے کے ناتے اس پورے معاملے میں مداخلت کرنے کی گزارش کی ہے، گزشتہ دنوں ایک میڈیا کانفرنس کے دوران کہا کہ ”اس ملک میں پہلے کبھی نہیں ہوا کہ موجودہ سرکار کے ایک قانونی نمائندہ نے عدالت میں کھڑے ہو کر یہ کہا ہو کہ ہماری پارلیمنٹ کا بنا ہوا قانون بہت ہی خراب ہے۔ “ شہزاد پونہ والا جس وقت نامہ نگاروں سے بات کر رہے تھے، اس وقت اسٹیج پر ان کے ساتھ سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب اور م افضل بھی موجود تھے، جن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ”یہ سارے لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ پارلیمنٹ کے ذریعے (اے ایم یو کے تعلق سے) بنایا گیا 1981 کا قانون آج بھی قائم ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد، جس میں اس نے مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو ماننے سے منع کر دیا تھا، یہ معاملہ سپریم کورٹ میں گیا، جہاں سے اس پر اسٹے لگا دیا گیا اور چیف جسٹس کی بنچ نے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ ’علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار اب بھی برقرار ہے‘۔ ہاں، اگر یہ ہوتا کہ پارلیمنٹ نے 1981 کے قانون کو بدل دیا ہوتا اور پھر سرکار نے یہ اسٹینڈ لیا ہوتا، تو بات سمجھ میں آ سکتی تھی، لیکن پہلی بار سرکار کے نمائندہ نے اپنے ہی قانون کو عدالت کے سامنے غلط بتایا ہے“
یہیں سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ، یعنی مقننہ اور عدلیہ کے سامنے ایک بار پھر بالادستی کی لڑائی شروع ہونے والی ہے؟ اور کیا ملک کے موجودہ اٹارنی جنرل نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار پر مرکزی حکومت کے موقف کو واضح کرکے آئین کی دفعہ 30 کو چیلنج نہیں کیا ہے؟ سپریم کورٹ میں مکل روہتگی کے بیان سے جہاں تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار پر فرق پڑنے والا کا سوال ہے، تو اس بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے اے ایم یو طلبہ یونین کے سابق صدر اور سپریم کورٹ کے وکیل زیڈ کے فیضان نے بتایا کہ ”سپریم کورٹ میں اے ایم یو کے معاملے میں کل 8 عرضی گزار (پیٹیشنر) ہیں، جن میں سے پانچ کا تعلق تو خود علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہی ہے، بقیہ تین میں سے ایک ہندوستانی حکومت ہے۔ لہٰذا، اگر ہندوستان کی موجودہ حکومت اس معاملے میں اپنا پٹیشن واپس لے لیتی ہے، تب بھی اس معاملے کی سماعت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا، کیوں کہ قانون کی رو سے یہ عرضی گزار کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ معاملے کی پیروی سے اپنا نام واپس لے لیتا ہے یا اس میں شامل رہنا چاہتا ہے۔ دوسرے یہ کہ جو معاملہ سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے ایک بار تسلیم کر لیا گیا، اسے کسی بھی حال میں واپس نہیں لیا جا سکتا۔“ زیڈ کے فیضان نے مزید بتایا کہ ”مرکزی حکومت نے اپنا حلف نامہ بھلے ہی واپس لے لیا ہو، لیکن عدالت کی کارروائی کے دوران اس معاملے کے جتنے بھی دستاویز و شواہد عدالت کے ریکارڈ میں لائے گئے ہیں، انھیں کبھی بھی واپس نہیں لیا جاسکتا۔“ یہی نہیں، بقول زیڈ کے فیضان ”جس وقت مرکزی حکومت یو – ٹرن لے رہی تھی، اس وقت سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا تھا کہ ’کیا مرکز میں سرکار بدل جانے کی وجہ سے ایسا کیا جا رہا ہے؟‘ جو کہ اپنے آپ میں موجودہ سرکار پر سپریم کورٹ کا ایک سخت تبصرہ ہے۔“ قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے مودی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اگلی سماعت کے دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار سے متعلق اپنے موقف کو حلف نامہ کی شکل میں عدالت میں پیش کرے۔
ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی یا جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کے تعلق سے مسلمانوں کو زیادہ مایوس یا جذباتی ہونے کی ضرورت ہرگز نہیں ہے۔ انھیں عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے اور ایسا کوئی بھی قدم ہرگز نہیں اٹھانا چاہیے، جس سے ان کے دشمنوں کا مقصد حل ہوتا ہو۔
(qamartabrez@gmail.com)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *