عمر خالد اور انربن بھٹا چاریہ کی عدالتی حراست میں توسیع

Umar-Anirban

نئی دہلی، ۱۵ مارچ: دہلی کی ایک عدالت نے منگل کے روز جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے دو طلبہ عمر خالد اور انربن بھٹاچاریہ کی عدالتی حراست میں توسیع کردی ہے۔ ان دونوں پر گزشتہ ۹ فروری کو کیمپس میں ہند مخالف نعرے لگانے کا الزام ہے۔

آج کل جے این یو کیمپس میں عمر خالد اور انربن بھٹا چاریہ کی رہائی کی مانگ والے پوسٹر ہر جگہ لگے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی طلبہ کی طرف سے دونوں کی حمایت میں مارچ بھی نکالے گئے ہیں۔

اس سے قبل جے این یو انتظامیہ کے ذریعہ تشکیل دی گئی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے اپنی جانچ کے دوران گزشتہ ماہ کیمپس میں متنازع پروگرام کرنے کے سلسلے میں ۲۱ طلبہ کو قصوروار پایا تھا، جس کے بعد جے این یو طلبہ یونین کے صدر اور دیگر کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق جانچ کمیٹی نے کہا ہے کہ کنھیا کمار اور دیگر چار طلبہ کو یونیورسٹی سے برطرف کردیا جانا چاہیے۔ تاہم کنھیا کا کہنا ہے کہ جانچ کمیٹی کی رپورٹ میں طلبہ کو برطرف کرنے کی بات کہیں نہیں درج ہے۔ کنھیا نے بتایا کہ ’’مجھے وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس میں برطرف کرنے کی بات کہیں نہیں ہے۔ مجھ سے کل شام پانچ بجے تک جواب دینے کے لیے کہا گیا ہے۔‘‘

جانچ کمیٹی نے اپنی رپورٹ آج ہی وائس چانسلر ایم جگدیش کمار کو سونپی ہے۔ بتایا جار ہا ہے کہ اس رپورٹ میں بعض طلبہ کو ۹ فروری کو منعقد کیے جانے والے متنازع پروگرام میں قصوروار پایا گیا ہے اور اس میں کنھیا سمیت انربن اور عمر خالد کے نام بھی شامل ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *