غالب انسٹی ٹیوٹ میں پروفیسر نذیراحمد پردو روزہ قومی سمینار

Ghalib Institute Seminar
دائیں سے: ڈاکٹر رضاحیدر، پروفیسر شریف حسین قاسمی، پروفیسر آذر میدُخت صفوی، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، ڈاکٹر علی دہگاہی، پروفیسر چندرشیکھر اور پروفیسر ریحانہ خاتون

نئی دہلی، ۷ مئی (پریس ریلیز): غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام فارسی و اردو کے ممتاز نقاد، محقق، دانشور اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے سابق چیئرمین پروفیسر نذیر احمد کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں دو روزہ سمینار بعنوان ’’۱۹۴۷ کے بعد فارسی زبان و ادب اور پروفیسر نذیراحمد“ کا انعقاد کیا گیا۔ سمینار کے افتتاحی اجلاس میں انسٹی ٹیوٹ آف پرشین ریسرچ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ڈائرکٹر پروفیسر آذر میدُخت صفوی نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کی شاگرد ہوں اور مجھے یہاں کلیدی خطبے کے لیے مدعو کیا گیا ہے، یہی میرے لیے اعزاز و افتخار ہے۔ میں نے اپنی زندگی کا پہلا مقالہ نذیر صاحب کی سرپرستی میں غالب انسٹی ٹیوٹ ہی میں پیش کیا تھا۔ اس ادارے کے استحکام میں جہاں تمام اکابرین کا اہم رول ہے وہیں غالب انسٹی ٹیوٹ کے مقاصد کو مستحکم اور فروغ دینے میں پروفیسر نذیر احمد کا بھی اہم کردار رہا ہے۔ ان کے علم و تحقیق کا دائرہ نہایت ہی وسیع تھا۔ وہ کلاس میں جو نصاب پڑھاتے تھے، وہ آج طلبہ کو نہیں پڑھائے جاتے ہیں۔ زبان شناسی کا سبق وہ ہمیں پڑھاتے تھے، جو آج نہیں پڑھائے جاتے ہیں جو کہ بہت ضروری ہے۔ محقق کے مزاج میں جو دیانت داری ہونی چاہئے وہ نذیر احمد میں تھی۔

خانۂ فرہنگ، جمہوری اسلامی ایران، نئی دہلی کے کلچرل کونسل ڈاکٹر علی دہگائی نے صدارتی خطبے میں ہند و ایران کے تہذیبی، ثقافتی اور ادبی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے اسے قدیم قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پروفیسر نذیر احمد ایک جید عالم تھے جن سے بڑا حافظ شناس کوئی نہیں تھا۔ پروفیسر نذیر نے حافظ کے حوالے سے جو کار نامہ ہندوستان میں انجام دیا اس کی ستائش آج بھی ایران میں کی جاتی ہے۔ مخطوطہ شناسی کے تعلق سے بھی ان کی خدمات کا احاطہ اشد ضروری ہے جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ نئی نسل پروفیسر نذیر احمد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تحقیق کے کارنامے اور فارسی زبان کو فروغ دینے کی مسلسل کوشش کرے گی۔

غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ پروفیسر نذیر احمد صرف میرے ہی نہیں، بلکہ کئی نسلوں کے استاذ تھے۔ فارسی و اردو کی علمی دنیا کا ان کے بغیر تصور ہی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مختلف ممالک میں ان کے شاگردوں کی بڑی تعداد موجو دہے۔ وہ غالب انسٹی ٹیوٹ کی ہر سرگرمی میں دلچسپی لیتے تھے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ جس بلندی پر پہنچا ہے، وہ نذیر صاحب کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے۔ یہ سمینار ہمارے لیے ہمیشہ یاد گار رہے گا۔ اس سمینار کی بڑی اہمیت یہ بھی ہے کہ فارسی ادب کا جتنا گہرا رشتہ ہماری تہذیب سے ہے وہ ہم سب جانتے ہیں۔ فارسی ہماری رنگوں میں بسی ہوئی ہے۔ فارسی غیر ملکی نہیں بلکہ ملکی زبان بھی ہے۔ عرصہ دراز تک فارسی کے بغیر ہمارا کوئی بھی علمی کا م مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ نے اردو کے ساتھ ساتھ فارسی زبان و ادب کے حوالے سے بھی اہم کار نامے انجام دیے ہیں اور ضرورت ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے۔

فارسی کے اہم دانشور پروفیسر شریف حسین قاسمی نے تعارفی کلمات میں کہا کہ میں پروفیسر نذیر احمد کے ان ہزاروں شاگردوں میں شامل ہوں، جو آج بھی ان کی تحریروں سے استفادہ کرتے ہیں۔ نذیر صاحب نے تین چار فرہنگیں بھی لکھی ہیں، ان کا یہ کام ناقابل فراموش اور ادب کے سرمائے میں بڑا اضافہ ہے۔ نذیر صاحب نے یہاں سے پی ایچ ڈی کی اور ایران گئے، جہاں ان کی قدر و منزلت کا عالم یہ تھا کہ ان کے اساتذہ بھی انہیں دیکھ کر اٹھ جایا کرتے تھے۔ ایرانیوں نے انہیں اس قدر توجہ سے پڑھا کہ ہم اس کا حق بھی ادا نہیں کر سکتے۔ ایرانی حضرات ان سے وابستہ لوگوں کی بھی قدر کرتے ہیں۔ نذیر صاحب کے بارے میں ایرانی حضرات کہتے ہیں کہ وہ ایران کے پہلے محقق تھے۔ ہمیں اپنے فارسی ادبا کو بھلانا اور فراموش نہیں کرنا چاہئے کیوں کہ ان لوگوں کا اپنے اپنے عہد میں اہم تعاون رہا ہے۔ شعبۂ فارسی دہلی یونیورسٹی کے صدر پروفیسر چندر شیکھر، جو اس جلسہ میں مہمانِ اعزازی کے طورپر موجود تھے، انہوں نے کہاکہ پروفیسر نذیر احمد وہ قد آورمحقق تھے اور انہوں نے تحقیق کے میدان میں جو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں، اسے علمی دنیا میں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں غالب انسٹی ٹیوٹ سے درخواست کروں گا کہ وہ فارسی کے اساتذہ اور علما کا سوانحی خاکہ مرتب کریں، تاکہ ان کی یادیں تازہ رہ سکیں۔ اس میں وہ تمام اساتذہ شامل ہوں جنہوں نے کسی بھی طور پر فارسی کی خدمت کی ہو۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضا حیدر نے افتتاحی اجلاس کی نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے کہا کہ پروفیسر نذیر احمد فارسی زبان و ادب کے ایک جیّد عالم تھے۔ انہو ں نے بیک وقت مختلف اصناف سخن میں طبع آزمائی کی۔ اگر ہم پروفیسر نذیر احمد کو اردو و فارسی ادب کی آبرو کہیں تو مبالغہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے سوسے زیادہ کتابیں تحریر کیں اور ان کے بے شمار مضامین ہمیں آج بھی علمی روشنی عطا کر رہے ہیں۔ جب ہم ان کے علمی کارناموں پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں دورِ جدید میں ان کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا۔ انہوں نے اردو اور فارسی کا اتنا قیمتی ذخیرہ چھوڑا ہے، جس سے کئی نسلیں فیضیاب ہوتی رہیں گی۔ ہمیں بے انتہا خوشی ہے کہ آج ہم اس شخص کو یاد کر رہے ہیں، جس نے غالب انسٹی ٹیوٹ کی شکل میں ایک ایسا علمی پودا اُگایا جو آج ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکا ہے اور جس کے سائے میں بیٹھ کر ہم اردو اور فارسی دنیا کوعلمی پیغام دے رہے ہیں۔ افتتاحی اجلاس کے اختتام پر پروفیسر نذیر احمد کی صاحبزادی اور دہلی یونیورسٹی،شعبۂ فارسی کی سابق صدر، پروفیسر ریحانہ خاتون نے تمام حضرات کا اظہارِ تشکّر ادا کیا۔ افتتاحی اجلاس کے بعد سمینار کا پہلا اجلاس منعقد کیا گیا جس کی صدارت پروفیسر آذرمی دخت صفوی، پروفیسر قمر غفار اور پروفیسر علیم اشرف نے کی جب کہ نظامت کے فرائض شعبہ فارسی دہلی یونیو رسٹی کے استاذ ڈاکٹر اکبر علی شاہ نے انجام دیے۔ اس اجلاس میں پروفیسر عراق رضا زیدی، ڈاکٹر اخلاق احمدآہن، پروفیسر سید محمد اسد علی خورشید، ڈاکٹر جمشید خان اور ڈاکٹر قمر عالم نے اپنے مقالوں میں پروفیسر نذیر احمد اورسمینار کے موضوع کے تعلق سے علمی گفتگو پیش کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *