غالب انسٹی ٹیوٹ میں ڈاکٹر حنیف ترین کی کتاب پر مذاکرہ

نئی دہلی، ۲ جون (پریس ریلیز): غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام شامِ شہریاراں کے موقع پر اہم اور منفرد لب و لہجہ کے شاعر ڈاکٹر حنیف ترین کے شعری مجموعہ ”لالۂ صحرائی“ پریکم جون کی شام کو ایوانِ غالب میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا۔ اس مذاکرے کی صدارت غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کی اور مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر اخترالواسع موجود تھے۔ مقررین میں پروفیسر توقیر احمد خاں، پروفیسر شہزاد انجم، ڈاکٹر اطہر فاروقی، ڈاکٹر شعیب رضا خاں، ڈاکٹر مشتاق صدف، ڈاکٹر ابوبکر عباد، ڈاکٹر بسمل عارفی اور ڈاکٹر شہلا نواب نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

صدارتی خطاب میں پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کہا، ’’میرے لیے یہ دن خاص طورسے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ میں ڈاکٹر حنیف ترین کو کافی عرصہ سے جانتا ہوں۔ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ اور سعودی عرب کے ہنگامی حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنی شاعری میں اسے بڑی خوبصورتی کے ساتھ برتا ہے۔ اُن کی شاعری کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ سماجی تقاضوں کو بھی اپنی تخلیقات میں اہم جگہ دیتے ہیں۔ مجھے پوری امید ہے کہ اُن کے اس مجموعہ کوعلمی حلقوں میں پسند کیا جائے گا۔‘‘

دائیں سے: ڈاکٹر اطہر فاروقی (ڈائس پر)، ڈاکٹر رضاحیدر، پروفیسر اخترالواسع، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی اور ڈاکٹر حنیف ترین۔
دائیں سے: ڈاکٹر اطہر فاروقی (ڈائس پر)، ڈاکٹر رضاحیدر، پروفیسر اخترالواسع، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی اور ڈاکٹر حنیف ترین۔

مہمان خصوصی پروفیسر اخترالواسع نے اس موقع پر فرمایا کہ ’’ڈاکٹر حنیف ترین سے میرے مراسم ایک طویل عرصہ سے ہیں اور میں اُن کی شاعری کا ہمیشہ سے شیدائی رہا ہوں۔ جب اُن کا پہلا مجموعہ شائع ہوا تھا اُس وقت بھی میں نے اُن کی شاعری پر اظہار خیال کیا تھا۔ اُن کے کلام میں مجھے جو چیز سب سے زیادہ پسند ہے وہ اُن کا تیور ہے۔ جس کا اظہار اُنہوں نے اپنے تمام شعری مجموعوں میں کیا ہے۔‘‘ پروفیسر توقیر احمد خاں نے فرمایا کہ ’’حنیف ترین نے ہمیشہ اپنی ضمیر کی آواز پر شاعری کی ہے، جو کچھ دیکھا اس کوشعری کینوس پر ڈھالا۔‘‘ پروفیسر شہزاد انجم نے کہا کہ ’’ان کے اس شعری مجموعے کا عنوان ”لالۂ صحرائی“ ہی قارئین کو غوروفکر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ جنہوں نے ڈاکٹر حنیف ترین کو قریب سے دیکھا ہے وہ اس بات سے واقف ہیں کہ وہ نہایت ہی مخلص انسان ہیں اور انسان دوستی و محبت کا حسین عنصر ان کی زندگی میں شامل ہے اور اِن ہی تمام چیزوں کو وہ اپنی شاعری میں بھی پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘

 انجمن ترقی اردو ہند کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر اطہر فاروقی نے حنیف ترین سے اپنے پرانے روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’ان کی نظمیں مجھے ہمیشہ پسند رہی ہیں۔ وہ اپنی نظموں میں ہمیشہ کچھ ایسی باتیں پیش کرتے ہیں جو قارئین کو فوراً اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ وہ اپنی نظموں میں زیادہ تر سماج کو پیغام دیتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر ابوبکر عباد نے کہا کہ ان کے اس مجموعہ کی خاص بات یہ بھی ہے کہ ان کے کلام میں غمِ دوراں بھی ہے اور غمِ جاناں بھی۔ ان کے یہاں سیاسی موضوعات کا اظہا ربھی مختلف جگہوں پر ہمیں دکھائی دیتاہے۔‘‘ ڈاکٹر شعیب رضاخاں نے ڈاکٹر حنیف ترین سے اپنے پرانے رشتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی شاعری کا رنگ اور انداز مختلف ہے، اسی وجہ سے وہ اپنے معاصرین میں منفرد نظر آتے ہیں۔‘‘ ساہتیہ اکادمی کے ریسرچ آفیسر اور عہد حاضر کے نوجوان ناقد ڈاکٹر مشتاق صدف نے کہا کہ ’’ڈاکٹر حنیف ترین کی شاعری میں کئی جہتیں ہیں اور ان جہتوں سے جب ہم روبرو ہوتے ہیں تو ہمیں ان کی شعری کیفیتوں کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔‘‘ ڈاکٹر شہلا نواب نے کہا کہ ’’انہوں نے شاعری کو فیشن کے طورپر نہیں اپنایا، بلکہ اپنی محنتوں سے اس شعری دنیا میں اپنا ایک الگ مقام بنایا ہے۔‘‘ ڈاکٹر بسمل عارفی نے فرمایا کہ ’’ڈاکٹر حنیف ترین کی شاعری کی ایک اہم بات جوہمیں پسند آتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم ان کی شاعری میں کبھی کبھی کلاسیکی رنگ بھی دیکھتے ہیں۔‘‘

غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضاحیدر نے جلسہ کی ابتدا میں اس کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ڈاکٹر حنیف ترین پیشہ سے تو ڈاکٹر ہیں مگر شاعری انہیں وراثت میں ملی۔ ان کے کئی شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں اور وہ ہمارے لیے اجنبی نہیں ہیں۔ ملک اور بیرون ملک کے رسائل و جرائد میں آپ پچھلے کئی برسوں سے شائع ہو رہے ہیں اور اردو کے اہم دانشوروں اورنقادوں نے بھی اپنی تحریروں میں آپ کی شاعری پراظہار خیال کرتے ہوئے آپ کی تخلیقات کو پسند کیا ہے۔ ہمیں پوری امید ہے کہ آپ کایہ مجموعہ ”لالۂ صحرائی‘‘ کوعلمی حلقوں میں عزت و احترام کی نظروں سے دیکھا جائے گا اور اسے پڑھ کر قارئین اپنی رائے بھی پیش کریں گے۔‘‘

اس موقع پر متین امروہوی نے بھی اس مجموعہ سے متعلق چند اشعار پیش کیے۔ اس مذاکرے میں بڑی تعداد میں مختلف علوم و فنون کے افراد موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *