غالب ممکنات کے نہیں ناممکنات کے شاعر: اشوک واجپئی

دیوان غالب کی پہلی اشاعت کے ۱۷۵ سال مکمل ہونے پر ۹، ۱۰ اپریل غالب انسٹی ٹیوٹ میں پُروقار سمینارومذاکرہ کا انعقاد

DSC_0063-good

نئی دہلی، ۹ اپریل (پریس ریلیز): دیوان غالب کی پہلی اشاعت کے ۱۷۵ سال مکمل ہونے پر غالب انسٹی ٹیوٹ میں پُروقار سمینارومذاکرہ کا آج افتتاح ہوا۔ اس افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سابق چیف الیکشن کمشنر ڈاکٹرایس وائی قریشی نے کہا کہ غالب کی طرح کسی شاعرکووہ شہرت حاصل نہیں ہوئی جتنی غالب کوہوئی۔ غالب کے اندربہادری اورحمیت بہت تھی۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ غالب کی شاعری اور ان کے پیغامات کو ہم کس طرح عام کرسکتے ہیں ۔اس پروگرام میں معروف اردو ناقد وناول نگاپروفیسر شمس الرحمان فاروقی نے بھی شرکت کی اور پرمغز تقریر فرمائی۔ فاروقی نے کہا کہ یہ سال غالب کے حوالے سے ایک اورطرح سے اہم ہے وہ یہ کہ غالب نے پہلی بار ۱۹۱۶ء میں دیوان غالب مرتب کیا تھا۔

معروف ہندی ادیب اشوک واجپئی دیوان غالب بھارتی تہذیب کا اساسی صحیفہ ہے۔ چند اہم بھارتی تہذیبی کتابوں میں دیوان غالب کو شامل کرنا ناگزیر ہے۔ گوکہ غالب فلسفی نہیں لیکن اس کے اشعارمیں اس کا مخصوص فلسفہ ہرجگہ نمایاں ہے۔ مجھے لگتا ہے غالب ہندوستانی شاعری میں بہت بڑا قنوطی شاعر ہے۔ اس کی شاعری میں بڑے اہم اورہندوستانی اساسی شعراکی طرح بڑکپن پایا جاتا ہے۔ غالب کے یہاں اپنے وجودکے بے فائدہ ہونے کا احساس بہت نمایاں طورپرپایا جاتا ہے۔ غالب ممکنات کے نہیں ناممکنات کے شاعر ہیں۔ پروفیسروشوناتھ ترپاٹھی نے کہاکہ غالب ہندی والوں میں بھی خاصے مشہورہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ شاید ہی کوئی شاعرہو جسے ہندی والے اتنا پڑھتے ہیں جتنا غالب کو، لوگوں نے اپنے اپنے غالب کو تلاش کرلیا ہے میں نے بھی اپنے غالب کو تلاش کیا ہے۔ غالب نے اپنے حوالے سے بہت دردناک باتیں بھی اپنے خطوط میں درج کی ہیں۔ غالب کے علاوہ مجھے ایسا کوئی دوسراشخص نظرنہیں آتا جو بیک وقت نثر ونظم میں ماہر ہو۔ غالب کی شاعری میں مجھے دوچیزوں بہت متاثر کرتی ہیں ایک تو وہ سوال بہت کرتے ہیں۔ غالب اپنی بے بسی کو عجیب تیورمیں بیان کرتاہے۔ ہرجگہ شک وشبہ پیداکرتاہے۔ وہ چاہتاہے کہ ہر چیز اس کے مطابق ہو۔ راجیہ سبھا کے رکن اور ماہرغالبیات پون ورمانے کہا کہ میں نے اپنی کتاب جس کا اردو ترجمہ ہوچکا ہے اور اس اردو ترجمے کو ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ جب میں نے لکھی تو کوئی اسے چھاپنے کو تیارنہیں تھا۔میں نے اپنی کتاب میں ان کی متعدد غزلوں کاانگلش میں ترجمہ بھی کیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ غالب پرجتنا کام ہورہا ہے۔ اس سے زیادہ کام ہوناچاہئے۔ چوں کہ غالب ہماری گنگاجمنی تہذیب کے علمبردارہیں اور ان سے ہمیں اپنی تہذیبی وراثت کوآگے بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔

پروفیسرمہرافشاں فاروقی نے کہاکہ دیوان غالب کے نسخہ حمیدیہ کی ڈجیٹل کاپی غالب انسٹی ٹیوٹ کوپیش کرتے ہوئے میں فخرمحسوس کررہی ہوں۔ ۱۹۲۱ میں اس دیوان کی اشاعت کے بعد خاصی گفتگو ہوئی ۔شہاب ستارنے نسخہ حمیدیہ کی اصل کاپی مجھے دی اور انہوں نے کہاکہ میں اسے شائع کرناچاہتاہوں آپ مقدمہ لکھ دیں۔ اب یہ نسخہ شائع ہوچکا ہے مجھے امید ہے کہ آپ حضرات اس سے استفادہ کریں گے۔ ڈاکٹررخشندہ جلیل نے کہاکہ غالب نے چارسالہ سفرکیا، جس پر میں نے کام بھی کیا ہے۔ غالب کلکتہ جس مقصدکے لیے گئے وہ مقصد پورانہیں ہوتا۔ وہاں کی ناکامی کے باوجود وہ دلی آکر خط وکتابت بھی کرتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ غالب کو چھوٹے موٹے نوابوں اور راجاوں کو قصیدہ خوانی میں دشواری ہوتی تھی۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضا حیدر نے نظامت کرتے ہوئے کہا کہ دنیائے شاعری کے چند ممتاز شعرا کے شعری سرمائے کو جمع کیا جائے تو یقینا دیوانِ غالب اُن میں سے ایک ہوگا۔ ملک و بیرون ملک کی جتنی بھی اہم زبانیں ہیں اُن میں کلامِ غالب کا ترجمہ ہو چکا ہے۔ ہندوستان کے جتنے بھی بڑے ادباءو شعراءہیں وہ غالب کے اشعار کواپنی تقریروں میں کوڈ کرنا اعزاز سمجھتے ہیں۔ غالب کے دیوان کی شہرت صرف خواص میں ہی نہیں ہے بلکہ عوام کی بہت بڑی تعداد بھی دیوان غالب کو اپنے گھروں میں سجا کر رکھتی ہے۔ ان ہی تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ نے غالب کی مزید بازیافت کے لیے ایک عمدہ موقع تلاش کیا ہے۔ دیوانِ غالب کی پہلی اشاعت ۱۸۴۱ء میں غالب کی زندگی ہی میں دلّی کے مشہور پریس سیدالاخبار سے ہوئی تھی۔ ۱۸۴۱ء سے لے کر ۲۰۱۶ء تک کے اس ۱۷۵ سالہ سفر میں آج بھی دیوانِ غالب پوری ادبی توانائی اور تازگی کے ساتھ سبھی کے دلوں میں رچا بسا ہے۔

مذاکرے کے بعد نوجوان فن کارفوزیہ اور فضل کی داستان گوئی بھی جلسہ کی زینت میں اضافہ کیا۔ مہمانوں کی خدمت میں دیوان غالب،غالب اور عہد غالب اور مومینٹوپیش کیا گیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *