فوج میں ہزاروں افسران کی کمی

نئی دہلی،۸ مارچ: مرکزی وزیر دفاع جناب منوہر پاریکر نے راجیہ سبھا میں جناب وجے گوئل کے ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ فوج میں یکم جولائی ۲۰۱۵ کو افسران کی تعداد ۴۰۵۲۵ تھی۔ جبکہ یہ مطلوبہ تعداد ۴۹۶۳۱ ہونی چاہیے تھی ۔اس طرح فوج میں افسران کی تعداد میں ۹۱۰۶ افسران کم ہیں Manohar Parrikar۔ فوج میں افسران کی کمی وقتاَ فوقتاَ تشکیل دی جانے والی فوج کی اسامیوں ،سخت طریقہ انتخاب اور فوجی ملازمت سے وابستہ خطرات سے متعلق شرائط خدمت کے نتیجے میں ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں تربیت کے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے انتخاب کئے جانے کا محدود طریقہ بھی اس کا سبب ہوسکتا ہے۔

فوج میں افسران کی کمی کو دور کرنے کے لئے وقتاَ فوقتاَ متعدد اقدامات کئے جاتے رہے ہیں جن میں شارٹ سروس کمیشن کو مزید پرکشش بنایا جانا کرنل (ٹاڈم رینک ) کا عہدہ شروع کیا جانا، مختلف زمروں کے عہدوں کی جدید کاری کے ذریعہ ترقی کے مواقع پیدا کرنا اور میریڈ اکاموڈیشن پروجیکٹ کے ذریعہ رہائش کی سہولت مہیا کرایا جانا شامل ہے۔

اس کے ساتھ ہی فوج نے نوجوانوں میں چیلنجنگ کیرئیر کے فوائد کے تئیں بیداری پیدا کرنے کی غرض سے اپنی امیج کو بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ بیداری پیدا کیے جانے کی مہم، ملازمتی میلوں اور نمائشوں میں شرکت، اخبارات اور الیکٹرانک ذرائع ابلاغ میں اشتہارات کی اشاعت، اسکولوں میں ترغیبی خطبات اس سلسلے میں کیے جانے والے کچھ اقدامات ہیں۔

مذکورہ بالا تمام اقدامات کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ۲۰۱۰ میں فوج میں افسران کی کمی ۲۶ فیصد کے بجائے ۲۰۱۵ میں یہ کمی ۱۸ فیصد رہ گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *