فی کنبہ ایک لاکھ روپے تک کا صحت بیمہ دستیاب کرانے کیلئے نئی صحت تحفظ اسکیم کا اعلان

The Union Minister for Finance, Corporate Affairs and Defence, Shri Arun Jaitley departs from North Block to Parliament House along with the Minister of State for Finance, Shri Jayant Sinha to present the General Budget 2016-17, in New Delhi on February 29, 2016. The Secretary, Department of Economic Affairs, Ministry of Finance, Shri Shaktikanta Das and other dignitaries are also seen.

نئی دہلی، 29/فروری-خزانہ، کارپوریٹ امور اور اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر جناب ارون جیٹلی نے 2017-2016 کے عام بجٹ میں ایک نئی صحت تحفظ اسکیم کا اعلان کیا ہے۔ پارلیمنٹ میں آج اپنی بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ خاندان کے کسی رکن /ارکان کے سنگین طور پر بیمار ہو جانے کی صورت میں اس کا غریب اور معاشی اعتبار سے کمزور کنبوں کی مالی صورتحال پر سخت مالی دباؤ پڑتا ہے، جس سے اقتصادی تحفظ کی بنیادہل جاتی ہے۔ایسے کنبوں کی مدد کرنے کے لئے حکومت ایک نئی صحت تحفظ اسکیم کا آغاز کرے گی، جو فی کنبہ ایک لاکھ روپے تک کا صحت بیمہ دستیاب کرائے گی۔ اس زمرے سے تعلق رکھنے والے 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بزرگ شہریوں کو 30 ہزار روپے تک کا اضافی ٹاپ اپ پیکج دستیاب کرایا جائے گا۔
وزیر خزانہ جناب ارون جیٹلی نے کہا کہ سستی قیمتوں پر معیاری دوائیں دستیاب کرانا ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جنرک دواؤں کی سپلائی کو نئی توانائی دیں گے اور 2017-2016 کے دوران وزیر اعظم جن اوشدھی یوجنا کے تحت 3000 اسٹور کھولے جائیں گے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ہندوستان میں ہر سال ایسے تقریباً 2.2 لاکھ نئے مریضوں کا اضافہ ہو جاتا ہے، جنہیں انتہائی درجے کے پیشاب کا مرض لاحق ہوتا ہے۔ نتیجتاً 3.4 کروڑ اضافی ڈائلیسس سیشنس کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہندوستان میں تقریباً 4950 ڈائلیسس مراکز ہیں، جن میں سے زیادہ تر نجی شعبے کے ہیں اور بڑے شہروں میں واقع ہیں، لہذا نصف مانگ کی تکمیل ہی ہو پاتی ہے۔ ہر ڈائلیسس سیشن پر تقریباً 2000 روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اس طرح سے ایک سال میں اس پر تین لاکھ سے زیادہ کا خرچ آتا ہے۔ مزید براں زیادہ تر کنبوں کو ڈائلیسس خدمات حاصل کرنے کے لئے اکثرو بیشتر طویل سفر کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے ان کا سفری خرچ بھی بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور انہیں اجرت کے حصول کے نقطۂ نظر سے بھی خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس صورتحال کے ازالے کے لئے جناب ارون جیٹلی نے ایک قومی ڈائلیسس خدمات پروگرام کا آغاز کئے جانے کی تجویز پیش رکھی۔ اس کے لئے رقم قومی صحت مشن کے تحت پی پی پی طریقۂ کار پر دستیاب کرائی جائے گی تاکہ سبھی ضلع اسپتالوں میں ڈائلیسس خدمات دستیاب کرائی جا سکیں۔ لاگت میں کمی لانے کے لئے وزیر خزانہ نے ڈائلیسس سے متعلق مخصوص آلات پر کسٹم ڈیوٹی ، ایکسائز /سی وی ڈی اور ایس اے ڈی میں رعایت دینے کی تجویز رکھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *