قبائلی معاشرے کے بغیر ماحولیاتی تحفظ نامکمل ہے

سچن کمار جین

نیتی آیوگ کی تازہ رپورٹ ”کمپوزٹ واٹر مینجمینٹ انڈیکس2018” کے مطابق ملک کے 60 کروڑ لوگ پانی کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں، 2 لاکھ لوگ ہر سال پینے کے صاف پانی کی عدم موجودگی کی وجہ سے مرجاتے ہیں۔ بھارت کے 54 فیصد زمینی وسائل خشک ہو رہے ہیں2020 تک بھارت کے 21 بڑے شہروں میں زیر زمین پانی کے خشک ہوجانے کی توقع ہے۔بھارت میں اس وقت 11 ریاستوں کے درمیان پانی کے لئے آپس میں تنازعہ جاری ہے ، مثلاً کرناٹک اور تمل ناڈو کے درمیان کاویری ندی کے پانی کے تنازعات، یہ بحران تب بھیانک ہوئے جب حکومتیں کھلے بازار کے حق میں جا کھڑی ہوئیں۔دوسری طرف دہلی کے ہوا سانس لینے کے قابل نہیں رہی ہے۔کیدارناتھ کا سفر انسانی زندگی کے سامنے کھڑے، بحران کی مثال بن چکا ہے۔اگر ملک کی 26 ریاستوں کی باتوں پر یقین کیا جائے تو ان کے یہاں ریگستانی صحرا تیزی سے بڑھ رہا ہے،ملک کا تقریباً 30 فیصد حصہ ریگستانی علاقوں کے دائرے میں آ چکا ہے، جہاں دھول بھری آندھی غیر متوقع رفتار سے بڑھ رہی ہے۔تمام رپورٹیں بتاتی ہیں کہ ترقی اور صنعت کاری کے نام پر جنگلوں کا صفایا ہو رہا ہے،اقتصادی ترقی کے لئے جس طرح سے دریاؤں، جنگلوں اور پہاڑوں کو برباد کیا جارہا ہے وہ پالیسیاں واقعی ہمیں اشتراکی موت کی طرف لے جا رہی ہیں افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہم ان کو نقصان تو پہنچاہی رہے ہیں، صدیوں سے ان کا تحفظ کرنے والے قبائلیوں کو بھی اسے بچانے سے روک رہے ہیں،البتہ جنگلات کے تحفظ جیسے قانون بنا کر ہم اپنی ذمہ داری سے پلہ ضرور جھاڑ رہے ہیں۔
ان حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قبائلی سماج کا بائیکاٹ کرکے ماحولیات اوربناتات وحیوانات کا تحفظ ممکن ہے؟ ہمیں یہ سوال کرنا ہی ہوگا کہ بھارت میں سال 1927 میں بنا، بھارتی جنگل قانون کا مقصد کیا تھا؟ پھر جنگلی زندگی تحفظ ایکٹ نے 1972 میں کیوں بنا؟ اور 1976 میں ماحولیاتی تحفظ ایکٹ بنانے کے پیچھے کیا مقصد تھا؟ اتنا ہی نہیں ان سوالوں کے جواب میں کچھ اور سوالات آتے ہیں۔کہ بھارت میں جنگلات کو تباہ کس نے اور کیوں کیا؟ کس نے بھارت میں چیتوں کا خاتمہ کیا؟ کس نے باگھوں کو ختم ہونے کے دہانے پر پہنچایا؟ راجاؤں، مہاراجاؤں، نوابوں اور زمین داروں کا شوق شکار کرنا رہا ہے، انہیں کے محلات کی دیواروں پر شیر، چیتوں، بارسنگھو ں کی کھوپڑیاں لٹکا کرتی ہیں۔قبائلی یا جنگل میں رہنے والی کمیونٹی صرف عیش و آرام اور اپنے شوق کو پورا کرنے کے لئے کبھی جانوروں کا شکار نہیں کرتی،وہ تو یہی سمجھتے ہیں کہ ہم تو فطرت کے خزانے کے درمیان ہی رہتے ہیں، پھر کیوں اس کو تباہ کرکے اپنی تہذیب کی تباہی کا سبب بنیں ؟۔

بھارت میں قبائلیوں اور دیگر جنگلی باشندوں کے سماجی، اقتصادی، ثقافتی حقوق کے تحفظ کے پیش نظر پارلیمنٹ نے (جنگل حقوق کی شناخت) ایکٹ ۔2006 میں نافذ کیا،یہ قانون کہتا ہے کہ دسمبر 2005 کے پہلے جنگلی زمین پر قبضہ کرکے کھیتی کرنے والے قبائلیوں اور دیگر روایتی جنگلی باشندوں کے ذاتی اور کمیونٹی حقوق کو تسلیم کیا جائے گا،قانون کہتا ہے کہ ‘نوآبادیاتی مدت کے دوران اور آزاد ہندوستان میں جنگلات کو انوائسز کرتے وقت ان کی آبائی زمین پر جنگلی حقوق اور ان کی رہائش گاہ کو مناسب طور پر منظوری نہیں دی گئی تھی،نتیجتاً جنگل میں رہائش کرنے والی ان درج فہرست ذاتوں،قبائلیوں اور دیگر روایتی جنگلی باشندوں کے تعلق سے تاریخی ناانصافی ہوئی ہے، جو جنگلی نظام کو بچانے اور برقرار رکھنے کا لازمی حصہ ہیں ۔
لیکن اس قانون کے نفاذ کے 12 سالوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ قانون میں کئے گئے اس اعتراف کے جذبات کو ریاستی نظام نے محسوس ہی نہیں کیا۔بلکہ مقصد سے دور ہوچکاہے،یہ قانون جنگلاتی وسائل کے استعمال اور تحفظ کا حق گرام سبھا کو دیتا ہے، یعنی کمیونٹی کا براہ راست اختیار۔اس کے ساتھ ہی اس میں یہ شق بھی ہے کہ گرام سبھا کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جنگلی جانوروں اورجنگلات کے نباتات وحیوانات کے تحفظ کے لئے کمیٹی قائم کرے اور اس کی ذمہ داری لے۔ 22ستمبر 2015 کو قبائلی کام کی وزارت نے تمام ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کو خط لکھ کر اس بات پر زور دیا ہے کہ کمیونٹی جنگلی حقوق کو تسلیم کرنے کے لئے مہم چلانے کی ضرورت ہے۔اگرچہ ذاتی حقوق کو تسلیم کرنے کا عمل کسی حد تک کامیاب رہا ہے، لیکن کمیونٹی جنگلی وسائل حقوق پر یہ عمل کمزور ہے،یہ حق بہت اہم ہے کیونکہ یہ وسائل ان 20 کروڑ لوگوں کی زندگی اور ان کے ذریعہ معاش کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جو جنگلاتی وسائل پر انحصار کرتے ہیں۔
جنگلی حق قانون رہائشی حقوق کا مطلب صرف رہائش کا حق نہیں، بلکہ ایک مجموعی ماحول کا حق ہے ،جس کی واضح تشریح ہے۔ 23 اپریل 2015 کو قبائلی کام کی وزارت (حکومت ہند) نے تمام ریاستی حکومتوں سے کہا کہ وہ انتہائی حساس قبائلی کمیونٹیز کے رہائشی حقوق (روایتی رہائش،رزگار، سماجی، اقتصادی، روحانی، مقدس، مذہبی اور دیگر کاموں کے لئے استعمال میں لایا جائے)، اور اسے تسلیم کرنے کے وسیع پیمانے پر کوششیں کریں۔اس کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ روایت سے قبائلی کمیونٹی اپنے مخصوص دائرے میں اپنے نظام کی تعمیر کرتا رہا ہے، ریاست کی ذمہ داری یہ ہے کہ اس کے ماحول کو محفوظ بنائے رکھے۔
اقوام متحدہ میں قبول کئے گئے پائیدار ترقی کے اہداف کے دستاویزات (نمبر اے / اريیس / 70/1) کہتے ہیں کہ ”ہم انسانی معاشرے کو غربت اور محرومی کے ناانصافی سے آزاد کرنے اور اپنے سیارے زمین کے زخموں کو بھرتے ہوئے اسے انسانی زندگی کو محفوظ رکھنے کا عہد کرتے ہیں” ۔یہ مربوط اور جامع مقصد پائیدار ترقی کے تینوں جہتوں، جیسے اقتصادی، سماجی اور ماحولیاتی ماحول کے درمیان توازن قائم کرتے ہیں،پائیدار ترقی ہدف (15) کہتا ہے کہ روایتی نظام کی حفاظت،نفاذ ، بحالی اور ان کے منصفانہ استعمال اور جنگلات کے پائیدار انتظام، زمین تحفظ فراہم کرنے اور جمادات ،نباتات وحیوانات کی بڑھتی ہوئی تباہی کو روکنا ہوگا۔سال2020 تک ہمارا مقصد تمام قسم کے جنگلوں کے پائیدار مینجمنٹ کو فروغ دینا، جنگلات کی کٹائی پر روک لگانا، جنگلات کی بحالی اور بڑے پیمانے پر نئے درخت لگانا۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم ایک اقتصادی بحران میں پہنچ چکے ہیں،یہ بحران قدرتی نہیں ہے یہ ہماری ترقی کے جدید لیکن کھوکھلی ترقی کی دین ہے اس سے نمٹنے کے لئے ضرورت یہ ہے کہ ہم ملک اور دنیا کی ترقی کی تعریف کو مسترد کریں اور اس تعریف کو لاگو کریں جو ماحولیاتی تحفظ کے معیار کو پورا کرے۔اس کے بغیر ہر پہل بے بنیاد ہوگی،بھارت میں برطانوی حکمرانوں کی طرف سے قائم جنگل کے تعلق سے قانون یہ تسلیم کرتا ہے کہ قبائلی کمیونٹی جنگلات،نباتات اور جنگلی زندگی کو نقصان پہنچاتے ہیں وہ اس حقیقت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ جنگلی باشندے،ہزاروں برسوں سے جنگل کے ساتھ ”ہم آہنگی” کے اصول پر رہتے ہیں،اس کمیونٹی کو احساس ہے کہ قدرتی وسائل کی تباہی کا مطلب ان کی اپنی تباہی ہے،وہ جنگل کی نگرانی پیار سے کر ر ہے ہیں ،وہ اپنے معاشرے کو تباہ کیوں کریں گے؟ ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں سب سے مالدار دس ہزار افراد کی فہرست ہے اس میں قبائلی خاندانوں میں سے ایک کا نام بھی نہیں ہے۔اگر وہ جنگل کو تباہ کر کے اس پر صنعت قائم کردیتے تویقیناًکسی نہ کسی قبائلی کا نام بھی ”فوربیس” کی فہرست میں ضرورہوتا۔(چرخہ فیچرس)

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *