قومی اردو کونسل میں انتظار حسین کے انتقال پر تعزیتی نشست

IMG_6256

نئی دہلی، ۳ فروری (پریس ریلیز): اردو کے ممتاز فکشن نگار انتظار حسین کے انتقال پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہاکہ ان کی رحلت سے دنیا ایک غیرمعمولی تخلیقی ذہن اور وِژن سے محروم ہوگئی ہے۔ انتظار حسین اردو فکشن میں ایک دبستاں کی حیثیت رکھتے تھے۔ انھوں نے افسانے میں اسلوبی اور موضوعی سطح پر جو نئے تجربے کیے ہیں انھیں عالمی سطح پر سند قبولیت ملی۔ ہجرت اور ناسٹلجیا ان کے افسانوں کے اہم موضوعات رہے ہیں۔ انتظار حسین نے ہندوستان کی حقیقی روح کو اپنے فکشن میں پیش کیا ہے۔ ان کے اکثر افسانے میں ہندوستان کی مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔
پروفیسر ارتضیٰ کریم نے انتظار حسین کے شہرۂ آفاق ناولوں بستی، آگے سمندر ہے اور ان کے افسانوی مجموعوں: شہر افسوس، گلی کوچے، آب بیتی اور سفرناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انتظار حسین کی تخلیقی معصومیت میں سُکر اور سرشاری کی وہ کیفیت ہے کہ وہ قاری کو آخر تک باندھے رکھتی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ انتظار حسین کے آئینۂ ادراک میں مستقبل روشن تھا اس لیے وہ ماضی کی طرف مراجعت کرتے تھے۔ ماضی ان کے لیے ایک قوتِ محرکہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے ہندوستان کے اساطیر اور دیومالا سے عہد حاضر کا رشتہ جوڑا اور ہندوستان کی ثقافتی اور تہذیبی روح کو اپنے فکشن کا محور و مرکز بنایا۔ انھوں نے پاکستان ہجرت ضرور کی مگر ان کا دل ہمیشہ اپنی جنم بھومی ہندوستان کے لیے دھڑکتا رہتاتھا۔
پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ انتظار حسین ان شخصیتوں میں سے تھے جنھیں زندگی میں ہی بہت قدر و منزلت ملی۔ انھیں ادب کا لیونگ لجنڈ کہا جاتا تھا۔ فکشن میں ان کا مقام اتنا بلند تھا کہ انھیں ادب کا نوبل پرائز تک مل سکتا تھا۔ مگر ان کا دائرہ صرف فکشن تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ نقاد بھی تھے اور کالم نگار بھی۔ وہ آشوب عصر اور ادبی مسائل کو اپنے انگریزی کالموں کا موضوع بناتے تھے۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اس موقعے پر یہ اعلان کیا کہ انھیں شایانِ شان خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ماہنامہ ’اردو دنیا‘ کا ایک گوشہ ’فکشن اور ہجرت ‘ کے حوالے سے شائع کیا جائے گا جس کا فوکس انتظار حسین کے فکشن پر ہوگا۔
کونسل کے صدر دفتر میں منعقدہ اس تعزیتی نشست میں کونسل کے پرنسپل پبلی کیشن آفیسر ڈاکٹر شمس اقبال، اسسٹنٹ ڈائرکٹر (اکیڈمک) ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی، اسسٹنٹ ایڈیٹر ڈاکٹر عبدالحئی، ڈاکٹر شاہد اختر انصاری، ڈاکٹر عبدالرشید اعظمی کے علاوہ کونسل کے دیگر افراد بھی موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *