قومی اردو کونسل میں ملک زادہ منظور کے انتقال پر تعزیتی نشست

اقلیم سخن کی ایک روشن عبارت تھے ملک زادہ منظور احمد: پروفیسر ارتضیٰ کریم

Malikzada Manzoor

نئی دہلی، ۲۲ اپریل (پریس ریلیز): اردو کے ممتاز دانشور، نقاد اور شاعر پروفیسر ملک زادہ منظور احمد کے انتقال پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ ان کی وفات سے اردو دنیا ایک بے لوث مجاہد اردو سے محروم ہوگئی۔ وہ پوری زندگی اردو تحریک سے جڑے رہے۔ آل انڈیا اردو رابطہ کمیٹی کے ذریعے اردو زبان کی بقا اور تحفظ کے لیے انھوں نے جو کوششیں کی تھیں، انھیں بھلایا نہیں جاسکتا۔ اترپردیش اردو اکادمی لکھنؤ اور فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی ان کی خدمات قابل ستائش ہیں۔ شاعری اور نثر کے باب میں ملک زادہ منظور احمد کی گراں قدر خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ ان کا ادبی سرمایہ بیش بہا ذخیرہ ہے۔ انھوں نے ابوالکلام آزاد فکر وفن، ابوالکلام آزاد الہلال کے آئینے میں، غبارِ خاطر کا تنقیدی مطالعہ جیسی کتابوں سے آزاد شناسی میں جہاں اضافہ کیا، وہیں شعری مجموعوں کے علاوہ رقصِ شرر جیسی خودنوشت لکھ کر پوری اردو دنیا کو ادب کے متنوع منظرنامے سے روشناس کرایا۔ دانشور، نقاد اور شاعر کی حیثیت سے ملک زادہ منظور کو عالمی شہرت اور مقبولیت نصیب ہوئی۔ وہ کسی بھی مشاعرے کی کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے تھے۔ مشاعرے کی نظامت میں ان کی نظیر نہیں ملتی۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے ان سے اپنے نجی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہایت نفیس اور نستعلیق شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی شخصیت میں بڑی وضع داری اور انکساری تھی اور اسی وجہ سے وہ عوام و خواص میں بے حد محبوب اور مقبول تھے۔

پروفیسر ملک زادہ منظور احمد کے انتقال کی خبر ملتے ہی قومی اردو کونسل کے صدر دفتر میں تعزیتی نشست منعقد کی گئی جس میں قاضی عبیدالرحمن ہاشمی، انجم عثمانی، سینئر صحافی ایم جے خالد، پرنسپل پبلی کیشن آفیسر ڈاکٹر شمس اقبال، اسسٹنٹ ڈائرکٹر (اکیڈمک) شمع کوثر یزدانی، ریسرچ آفیسرشاہنواز خرم، ڈاکٹر عبدالحئی، ڈاکٹر شاہد اختر انصاری کے علاوہ کونسل کے دیگر افراد بھی موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *