قومی اردو کونسل میں پروفیسر شکیل الرحمن کے انتقال پر تعزیتی نشست

Shakilur Rehman

نئی دہلی، ۱۰ مئی (پریس ریلیز): پروفیسر شکیل الرحمن ایک بین علومی نقاد تھے جنھو ں نے اردو کو جمالیات کا وسیع ترین کینوس عطا کیا۔ ادب کی جمالیاتی تعبیر و تفہیم کے باب میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ ان کا مطالعاتی منہج اور تنقیدی مزاج اردو کے معاصر نقادوں سے مختلف تھا۔ انھوں نے اپنے لیے جمالیات کی ایک نئی اور پرخطر راہ تلاش کی تھی اور پوری زندگی اسی راہ پر چلتے رہے۔ پروفیسر شکیل الرحمن کے انتقال پر اپنے شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے یہ باتیں کہیں۔ انھوں نے پروفیسر شکیل الرحمن کی وسیع تر علمی اور ادبی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے جمالیات کے تعلق سے جو تنقیدی کارنامے انجام دےے ہیں وہ بے مثال اور لازوال ہیں۔ انھوں نے پہلی بار ہندوستان کے نظامِ جمال کو ایک وسیع تر تناظر میں سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی۔ ہندوستان کا نظامِ جمال ان کا ایک غیرمعمولی شاہکار ہے۔انھوں نے ہندوستانی تہذیب اور ثقافت کو اس کی اساطیری حسیت اور روایت کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش کی۔ انھوں نے جمالیات سیریز کے تحت مثنوی، نظم اور غز ل کی جمالیات کو اردو قارئین سے روشنا س کرایا۔ رومی، قلی قطب شاہ، میر، نظیر، فیض، فراق کی جمالیات پر بھی کتابیں تحریر کیں۔ ’مرزا غالب ہند اور مغل جمالیات‘ ان کی ایک اہم کتاب ہے۔

پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ شکیل الرحمن فنونِ لطیفہ کے بھی ایک اہم ناقد تھے۔ مصوری، رقص، موسیقی کے جمالیاتی ارتعاشات پر ان کی گہری نظر تھی اور انھو ںنے ان موضوعات پر گراں قدر تحریریں بھی ادبی دنیا کو دی ہیں۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ ان کی رحلت سے ادبی دنیا میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے جسے پرکرنا ناممکن ہے۔ وہ جمالیاتی تنقید کا ایک اہم ستون تھے۔ جمالیاتی تنقید کو انھوں نے نئی سمتیں عطا کی ہیں۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ شکیل الرحمن کی شخصیت میں بڑی مقناطیسیت تھی۔ انھیں قدرت نے جو ذوقِ جمال عطا کیا تھا وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ یہ اردو زبان و ادب کی خوش بختی ہے کہ شکیل الرحمن جیسا جمالیاتی نقاد اس زبان کو میسر ہوا۔وہ اردو کی واحد شخصیت تھے جنھیں نہ صرف تین یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر ہونے کا شرف حاصل ہوا بلکہ حکومت ہند کی وزارت صحت کے کابینہ وزیر بھی رہے۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ شکیل الرحمن یقینا ایک گوہر یکتا تھے۔ زمانے نے ان کی وہ قدر نہیں کی تھی جس کے وہ مستحق تھے مگر آنے والا وقت ان کی قدر ضرور کرے گا کہ وہ ایک بلند و بالا تنقیدی اور تخلیقی شخصیت کے حامل تھے۔ ایسی شخصیتیں روز جنم نہیں لیتیں بلکہ صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔

پروفیسر شکیل الرحمن کی وفات پر قومی اردو کونسل کے صدر دفتر میں تعزیتی نشست منعقد کی گئی جس میں قاضی عبیدالرحمن ہاشمی، پرنسپل پبلی کیشن آفیسر ڈاکٹر شمس اقبال، اسسٹنٹ ڈائرکٹر (اکیڈمک) شمع کوثر یزدانی، ریسرچ آفیسرشاہنواز خرم، اسسٹنٹ ایڈیٹر عبدالحی، ڈاکٹرعبدالرشیداعظمی، شاہد اختر انصاری کے علاوہ کونسل کے دیگر افراد بھی موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *