قومی اردو کونسل کو غیرضروری تنازع میں الجھانے کی سازش

کونسل کے ’اقرار نامہ‘ پر پروفیسر ارتضیٰ کریم کا وضاحتی بیان

Irteza Karim

نئی دہلی، ۲۳ مارچ (پریس ریلیز): اردو کے کچھ قلم کاروں کے ذریعہ نان اِیشو کو اِیشو بنانے کی روش پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ اِس طرح کے رویے سے ماضی میں اقلیت اور اردو کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کونسل کے ’اقرارنامہ‘ میں کوئی ایسی قابل اعتراض بات نہیں ہے جس پر ہنگامہ کیا جائے اور سیاسی رنگ دیا جائے۔ یہ ہر سرکاری ادارے کے ایجنڈے کا حصہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں کو اِس ’اقرارنامہ‘ پر اعتراض ہے انھیں آل انڈیا ریڈیو اور دوردرشن کے خلاف بھی آواز بلند کرنی چاہیے تھی، جہاں پہلے سے ہی یہ شرائط موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آکاش وانی سے کسی بھی ایسے مواد کو نشر نہیں کیا جاتا جو ملکی اور قومی مفاد کے خلاف ہو اور وہاں اِس طرح کے کنٹریکٹ پر دستخط بھی لیے جاتے ہیں اور یہ سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ مگر آج تک کسی نے بھی اس کے خلاف احتجاج نہیں کیا۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ اختلاف کا حق سبھی کو حاصل ہے مگر اختلاف اور اشتعال انگیزی کے فرق کو سمجھنا چاہیے۔ ایک جمہوری ملک میں کسی بھی پالیسی سے اختلاف کا حق ہر شخص کو حاصل ہے مگر کسی بھی اشتعال انگیز یا منافرت کو بڑھاوا دینے والے مواد کی شمولیت آئین کی رو سے بھی قابل سزا جرم ہے۔ ارتضیٰ کریم نے کہا کہ اِس ’اقرارنامہ‘ کے مقصد و منشا کو سمجھے بغیر جو لوگ اعتراض کررہے ہیں انھیں اِس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ آخر اس طرح کے ’اقرارنامہ‘ کی ضرورت کیوں پڑی۔ شاید بہت لوگوں کو یہ معلوم نہ ہو کہ قومی اردوکونسل کو یہ احتیاطی قدم اس لیے اٹھانا پڑا کہ اردو ہی کے کچھ قلم کاروں کی طرف سے قومی کونسل کے مالی تعاون سے شائع کی جانے والی بعض کتابوں کے حوالے سے کونسل کی معتبریت پر سوالیہ نشان قائم کیے گئے۔ اخبارات میں ’کالم‘ لکھے گئے اور کونسل کو مطعون کیا گیا۔ وزارت برائے فروغ انسانی وسائل میں شکایتی خطوط بھی بھیجے گئے اور اس طرح قومی کونسل کو غیرضروری تنازع میں الجھانے کی کوشش کی گئی، جب کہ قومی اردو کونسل مالی تعاون دینے یا خریداری کے سلسلے میں ہمیشہ سے ہی شفافیت برتتی رہی ہے۔ کسی بھی مسودے کو مالی تعاون دینے کا فیصلہ یونیورسٹی کے پروفیسروں اور دانشوروں پر مشتمل ایک کمیٹی کرتی ہے جس میں کونسل کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا اور اس کمیٹی میں شامل مبصرین کی طرف سے ’تصدیق نامہ‘ دیا جاتا تھا اور یہ سلسلہ بہت پہلے سے جاری تھا مگر کم وقت ملنے کی وجہ سے مبصرین اور ماہرین نے مشمولات میں قومی و ملکی مفاد کے منافی مواد کی شمولیت کا ’تصدیق نامہ‘ دینے سے انکار کردیا تو پھر یہ طے کیا گیا کہ یہ ’اقرارنامہ‘ خود مصنّفین دیں تو زیادہ بہتر رہے گا۔

قومی اردو کونسل نے یہ احتیاطی قدم اس لیے اٹھایا ہے تاکہ غیرضروری تنازعات میں الجھ کر اپنی توانائی کو ضائع نہ کرے اور اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے مثبت اور تعمیری کام کرے۔ قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ کچھ لوگ اردو زبان سے ہمدردی کی آڑ میں اِسے ایک سیاسی ایشو بنا رہے ہیں اور اردو کاز کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان سیاست دانوں کو بھی مہرے کے طور پر استعمال کررہے ہیں جنھوں نے کونسل کے ’اقرارنامہ‘ کو صحیح طور پر پڑھا بھی نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ کونسل ادیبو ں اور تخلیق کاروں کی آزادیِ رائے کا احترام کرتی ہے، تخلیق کار آزادانہ طور پر حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کا پورا حق رکھتے ہیں۔ کونسل نے نہ تو اس پر پابندی لگائی ہے اور نہ ہی کونسل کو اس کا کوئی حق حاصل ہے۔ کونسل اپنے دائرۂ کار میں رہ کر ہی قومی اور ملکی مفاد کے خلاف مواد کی شمولیت کو روکنے کی مجازہے اور اس سلسلے میں کونسل مکمل طور پر اپنے عہد پر قائم رہے گی کہ کوئی ایسا مواد جس سے لسانی یا مذہبی منافرت میں اضافہ ہوتا ہو، اُسے یہاں سے مالی تعاون پانے والی کسی بھی کتاب کا حصہ نہ بننے دیا جائے۔ ڈائرکٹر نے یہ بھی کہا کہ ’اقرارنامہ‘ کو سیاسی اِیشو بنانے کا یوں بھی کوئی جواز نہیں ہے کہ قومی اردو کونسل صرف انہی مسودات اور مطبوعات پر مالی تعاون دیتی ہے جو ادب و ثقافت یا دیگر سائنسی اور سماجی علوم سے متعلق ہوتے ہیں، سیاسی تحریریں اس کے دائرے سے باہر ہیں۔ اس لیے کونسل کی طرف سے قلم کاروں کو ’پابندِ سلاسل‘ کرنے کا سوال ہی بے معنی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *