لالو یادو کے لیے خاص ہے ۷۲واں یوم آزادی

پٹنہ: راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد یادو کے لیے 72 واں یوم آزادی بہت خاص ہے. لالو ملک کے ان رہنماؤں میں ہیں جن کی پیدائش آزادی کے بعد ہوئی. بہار کے گوپال گنج ضلع کے پھلوريا گاؤں میں پیدا ہوئے لالو یادو نے جے پی تحریک کے ذریعے سیاست میں قدم رکھا. ویسے، وہ پہلے ہی سے طلبا سیاست میں سرگرم تھے. لالو کو 29 سال کی عمر میں لوک سبھا کا رکن منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا. وہ 1990 سے 1997 تک بہار کے وزیر اعلی رہے. لیکن سماجی انصاف کی لڑائی لڑنے کا دعوی کرنے والے لالو یادو کو بدعنوانی کے مقدمات نے ایسے گھیرا کہ آزاد ہوا میں ان کے لیے سانس لینا مشکل ہو گیا.

غور طلب ہے کہ لالو یادو پر بہار کے وزیر اعلی رہتے ہوئے چارہ گھوٹالے میں شامل ہونے کے کئی سنگین الزامات ہیں. لالو کو چارہ گھوٹالے کے 6 مقدمات میں ملزم بنایا گیا ہے. ان میں سے چار میں انہیں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی ہے. لالو یادو کو چارہ گھوٹالے میں پہلی بار 3 اکتوبر 2013 کو چائے باسا خزانے سے غیرقانونی طور پر رقم نکالنے کے معاملے میں 5 سال کی سزا سنائی گئی. اس وقت مرکز میں کانگریس کی قیادت والی یو پی اے کی حکومت تھی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیر اعظم تھے. رابڑی دیوی، تیج پرتاپ یادو اور تیجسوی یادو سمیت آر جے ڈی کے تمام چھوٹے بڑے لیڈروں کا الزام ہے کہ جے ڈی یو لیڈر اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے اشارے پر لالو یادو کو پریشان کیا جا رہا ہے. وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے صدر امت شاہ پر بھی ایسا ہی الزام لگاتے ہیں.

چارہ گھوٹالے کے معاملے میں پہلی بار سزا ملنے کے چار سال بعد ایک اور مقدمہ میں لالو یادو کو مجرم پایا گیا اور 23 دسمبر 2017 کو انہیں ساڑھے تین سال کی سزا دی گئی. اس کے چند ہی دنوں بعد تیسرے کیس کا فیصلہ ہوا اور لالو یادو کو پانچ سال کی سزا ملی. ابھی اس پر بحث بند بھی نہیں ہوئی تھی کہ سرخیوں میں چھائے رہے دمکا خزانہ سے قریب 4 کروڑ روپے کی غیر قانونی نکاسی کے دو مقدمات میں لالو یادو کو 7-7 سال یعنی 14 سال کی جیل اور 30-30 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا ہوئی. چارہ گھوٹالے کو دو معاملوں میں فیصلہ آنا باقی ہے.

لالو یادو پر بدعنوانی کے لگے دوسرے الزامات کو چھوڑ بھی دیں، تو جس طرح چارہ گھوٹالے میں انہیں سزا ملی ہے، اس سے صاف ہے کہ آر جے ڈی کے سربراہ کا جیل سے باہر یہ آخری یوم آزادی ہو سکتا ہے. اس نتیجہ پر پہنچنے کی وجہ جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے جج جسٹس اپریش کمار سنگھ کی عدالت کی طرف سے 10 اگست کو کیا گیا وہ تبصرہ بھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لالو یادو کو علاج کے لیے ضمانت ملی ہے، ایسے میں وہ گھر کیسے جا سکتے ہیں. کورٹ نے اس کے ساتھ ہی سی بی آئی سے لالو یادو کے علاج سے منسلک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے. لالو یادو کی ضمانت 20 اگست تک بڑھائی گئی ہے. اگلی سماعت 17 اگست کو ہوگی. اگر کورٹ نے لالو کو گھر پر رہنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تو ممکن ہے کہ وہ جیل یا اسپتال ہی میں اگلا اور اس کے بعد کا یوم آزادی منائیں.

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *