لوک پال پر انّا ہزارے نے پھر دی آندولن چلانے کی دھمکی

نئی دہلی، ۲۹ جنوری (نامہ نگار): مشہور سماجی کارکن انّا ہزارے نے مودی حکومت کے خلاف آندولن چلانے کی دھمکی دی ہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ اب تک لوک پال کا تقرر نہ کیے جانے سے آج کل وہ کافی ناراض ہیں۔

Anna Portest_30 Jan 2016
دہلی کی سڑکوں پر ایک بار پھر انّا ہزارے کے پوسٹر نظر آنے لگے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ گاندھی وادی اور مشہورسماجی کارکن انّا ہزارے نے پچھلی یو پی اے حکومت کے دوران لوک پال بل پاس کرانے کو لے کر ملک گیر تحریک چھیڑی تھی۔ دہلی کے جنتر منتر پر انھوں نے باقاعدہ بھوک ہڑتال کرکے تب کی کانگریس قیادت والی یو پی اے سرکار کو کئی بار پریشانیوں میں ڈالا تھا۔ اُس وقت ایک بار انھیں تہاڑ جیل بھی جانا پڑا تھا، لیکن بعد میں چل کر یو پی اے سرکار نے اپنی میعاد ختم ہونے سے ٹھیک پہلے پارلیمنٹ سے لوک پال بل پاس کر دیا تھا۔ بل پاس ہونے کے بعد انا ہزارے واپس اپنے گاؤں رالے گن سدّھی چلے گئے تھے۔
اس کے بعد مئی ۲۰۱۴ میں نریندر مودی کی قیادت میں مرکز میں این ڈی اے حکومت کے آنے کے بعد انھیں امید تھی کہ جلد ہی لوک پال کا تقرر ہو جائے گا۔ لیکن ڈیڑھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی جب مرکزی حکومت کی طرف سے کسی کو اب تک لوک پال مقرر نہیں کیا گیا ہے، تو اس کی وجہ سے انا ہزارے نے ایک بار پھر اپنی ناراضگی جتائی ہے۔
انا ہزارے نے کل، یعنی ۳۰ جنوری سے لوک پال کی تقرری کے مسئلہ پر دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے مودی حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ اگر اس نے جلد ہی کسی کو لوک پال مقرر نہیں کیا، تو پہلے کی طرح وہ دوبارہ ملک بھر میں اس تحریک کو چلانے کے لیے مجبور ہو جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *