ماب لنچنگ کے خلاف سخت قانون بنایا جائے: محمود مدنی

نئی دہلی(نامہ نگار):ملک میں ہجومی تشدد کے بڑھتے واقعات پر جمعیۃ علماء ہند نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف سخت اور مؤثر قانون بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ گؤ رکشا اور دیگر بہانے سے بھیڑ کے ذریعہ قتل کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے جو ملک کے لیے خطرناک ہے۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو سخت اور مؤثر قانون بنانے کی ضرورت ہے۔
جمعےۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے جمعہ کی شام کوراجستھان کے الور میں ایک پرتشدد ہجوم کے ذریعے میوات کے اکبر خاں کا قتل کیے جانے پر گہرے دکھ اور صدمہ کا اظہا رکیا اورکہا: قانون کوہاتھ میں لینے والوں کا حوصلہ اس لیے بڑھتا جارہا ہے کیونکہ وہ قانون کی گرفت سے خود کو محفوظ سمجھتے ہیں ۔سال گزشتہ الور میں پہلو خاں اور عمر خاں کا بھی گؤ رکشکوں نے قتل کیا تھا ، مگرحیر ت انگیز طور سے پولس نے پہلو خاں قتل کے ۷؍ملزموں کو کلین چیٹ دے کر آزاد کردیا۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں ماب لنچنگ کو ہرگز نہیں روکا جاسکتا،اس لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں مرکزی حکومت اس کے خلاف علیحدہ اور جامع قانون بنائے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ اس ملک میں صرف ماب لنچنگ نہیں ہورہی ہے بلکہ اس مکروہ عمل کو جائز ٹھہرایا جارہاہے اور مجرمین کا حوصلہ بڑھایا جارہا ہے ۔ پارلیمنٹ میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے اس وحشیانہ عمل کی مذمت کی اور اسے انسانیت کے خلاف قراردیا، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ قابل افسوس امرہے کہ ان کی سرکار کے مرکزی وریاستی وزراء اپنے اعمال و اقوال سے اس کی حمایت کرتے ہیں۔ مولانا مدنی نے کہا کہ اگر حکومت اپنے مضبوط عزائم کو ظاہرکرنا چاہتی ہے کہ تو اسے اپنی جانب سے سامنے آرہے اس دوہرے کردار کو درست کر نا ہو گا۔
مولانا مدنی نے کل کے الور سانحہ کے بعد مرکزی وزیر ارجن رام میگھوال کے بیان کو افسوسناک بتایا جس میں انہوں نے اس کا دفاع کیا ہے۔انہوں نے راجستھا ن سرکار سے مطالبہ کیا کہ اس پورے سانحہ کی منصفانہ انکوائر ی کرائی جائے اور اصل خاطیوں کو سخت سے سخت سزادی جائے۔انہوں نے اکبر خاں کے اہل خانہ کے لیے معقول معاوضہ کا بھی مطالبہ کیاہے ۔مولانا مدنی نے اس عز م کااظہار کیا کہ جمعےۃ اکبر کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن جدوجہد کرے گی۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *