مالے گاؤں دھماکے کے ملزمین کو کلین چٹ

Purohit_Pragya

این آئی اے کی چارج شیٹ سے سرکاری وکیل ناراض

نئی دہلی، ۱۴ مئی (نامہ نگار):  ۸ ستمبر ۲۰۰ کو مالے گاؤں میں ہوئے بم دھماکہ کے ملزمین سادھوی پرگیہ سنگھ سمیت ۶ لوگوں کے خلاف این آئی اے نے جمعہ کو سارے مقدمات خارج کرتے ہوئے انھیں کلین چٹ دے دی۔ اس کے ساتھ ہی کل ۱۲ لوگوں میں سے ۱۰ پر سے لگا مکوکا بھی ہٹا دیا گیا ہے، جن میں کرنل پروہت بھی شامل ہے۔ واضح ہو کہ بھگوا دہشت گرد کرنل پروہت پر الزام ہے کہ اس نے دھماکے کے لئے پیسہ، ہتھار اور دھماکے کے انتظام کے لئے دوسرے ملزمین سے کئی بار ملاقات کی تھی۔ این آئی اے کا الزام ہے کہ ۲۵ اور۲۶ جنوری کو اس نے فریدآباد میں ایک میٹنگ کی تھی، جس میں ہندوستان میں ہندو راشٹر کا آئین اور ترنگا کی جگہ بھگوا جھنڈے کی بات کی تھی۔ اس نے ملک سے باہر رہ کر حکومت ہند کے خلاف ایک دوسری حکومت کے قیام کا ایجنڈا تیار کیا تھا اور ابھینو بھارت کے ذریعہ تیار کیا ہوا قانون ملک میں نافظ کرنے کی وکالت کی تھی۔ کرنل پروہت کے گھر سے تلاشی کے دوران ۸۰ کلو آر ڈی ایکس بھی برآمد ہوا تھا، حالانکہ پرگیہ سنگھ ٹاکر اور دوسرے پانچ لوگوں کے خلاف این آئی اے نے کوئی ثبوت دستیاب نہ ہونے کی بات کہی ہے۔

Malegaon Blast

کیا تھا معاملہ: ۲۹ ستمبر ۲۰۰۸ رمضان کے مہینہ میں افطار کے وقت دو بم دھماکے ہوئے تھے، جن میں ۷ لوگوں کی جان گئی تھی۔ ان میں ایک ۱۵ سالہ لڑکا بھی شامل تھا اور تقریباً ۸۰ لوگ زخمی ہوئے تھے۔ اس کیس کو شروع میں ممبئی اے ٹی ایس کے جوائنٹ کیشنر ہیمنت کرکرے کو سونپا گیا تھا۔ ان کی طرف سے کی گئی جانچ میں ۱۴ لوگوں کے خلاف، جن میں سادھوی پرگیہ اور کرنل پروہت بھی ملزم تھے، کے خلاف چارج شیٹ تیار کرکے ممبئی ہائی کورٹ کو سونپی گئی تھی۔ اس کے بعد ۱۱/۲۶ ممبئی میں ہوئے بم دھماکوں میں ہیمت کرکرے نے جان گنوادی تھی، جس کے بعد یہ کیس این آئی اے کو سونپ دیا گیا تھا۔ بعد میں سادھوی پرگیہ اور پروہت نے اپنے خلاف چارج شیٹ کو لیکر ہائی کورٹ کے علاوہ عدالت عظمیٰ میں بھی پٹیشن دائر کی اور ضمانت کے لئے عرضی دی تھی۔ اس کی این ائی اے نے مخالفت کی اور ان کو ضمانت نہیں مل پائی۔ اب این آئی اے کے ڈائرکٹر جنرل شرد کمار کا کہنا ہے کہ اُس وقت ہماری تحقیق پوری نہیں ہوئی تھی، ہم اے ٹی ایس کی تحقیق کو دیکھ رہے تھے اس لئے ہم نے ضمانت کی مخالفت کی تھی، اب ہماری تحقیق پوری ہوگئی ہے اور فائنل رپورٹ دے دی گئی ہے۔

این آئی اے کی رپورٹ سے سرکاری وکیل ناراض:

اسپیشل سرکاری وکیل اویناش رسل نے کہا تھا کہ انہیں چارج شیٹ کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ اس بات سے ناراض اویناش نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس کیس کو چھوڑ بھی سکتے ہیں، حالانکہ بعد میں ان کی طرف سے صفائی بھی دی گئی تھی کہ این آئی اے کے افسروں کی طرف سے ان سے معافی مانگی گئی ہے۔

NIA

دگ وجے سنگھ نے کیا مرکز ی حکومت پر حملہ:

اس معاملے میں پرگیہ سنگھ کو کلین چٹ ملنے پر کانگریس پارٹی کے جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ نے مودی سمیت پوری مرکزی سرکار پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم جانتے ہیں کہ مرکز مالے گاؤں کے خاص ملزمین کو بچانا چاہ رہا ہے، کیوں کہ دونوں کا آپس میں تال میل ہے۔ مگر اس کے لئے شہید ہیمنت کرکرے کا نام خراب نہیں کیا جانا چاہئے۔ وزیر اعظم سمیت پوری مرکزی حکومت دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کو بچانا چاہتی ہ۔“ دگ وجے سنگھ نے این آئی اے کی چارج شیٹ پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ”میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے سنگھ کے کارکنان کو بچانا شروع کردیا ہے۔“ اس کے ساتھ ہی انھوں نے این آئی اے کے ڈائرکٹر جنرل شرد کمار پر بھی الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہیں اس چارج شیٹ کے ذریعہ ایکسٹینشن ملا ہے۔ دوسری طرف بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر کرن رجیجو نے ان الزامات کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایجینسیوں کو آزاد طریقہ سے کام کرنے دیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *