متھرا میں غیر قانونی قبضہ ہٹھانے گئی پولس پر فائرنگ

ایس پی سٹی اور ایس او کی موت

 نئی دہلی، ۳ جون (حنیف علیمی): متھرا میں غیر قانونی قبضہ ہٹانے گئی پولس اور مظاہرین کے درمیان خون ریز جھڑپ میں ایس پی سٹی مکل تریویدی اور ایس او سنتوش یادو کی موت ہوگئی۔

 احتجاج کی آڑ میں متھرا کے جواہر باغ پر ناجائز قبضہ کرنے والوں نے اس وقت پولس پرگولیوں کی بوچھار کردی جب ڈی ایم پولس کے ساتھ مظاہرین سے جواہر باغ کھالی کرانے پہنچے، جس میں ایس پی سٹی مکل تریویدی اور ایس او فرح سنتوش یادو شہید ہوگئے اور تین سپاہیوں کو مظاہرین کھینچ کر لے گئے جن کا ابھی تک کوئی سرغ نہیں مل رہا ہے۔ ان دھماکوں اور گولی باری میں درجن بھر سے زیادہ مظاہرین کے مرنے کی بھی خبر ہے، لیکن آگرہ کمینشر پردیپ بھٹناگر نے صرف ایک کے مرنے کی تصدیق کی ہے۔ مظاہرین کا لیڈر رام ورکچھ یادو کے مرنے کی خبر ہے۔ مرنے سے پہلے اس نے اپنے دفتر اور دوسرے ڈیروں میں آگ لگادی تھی، جن میں رکھے گیس سلینڈر اور تیل کے کینٹینرں کے پھٹنے سے پورا جواہر باغ آگ کی لپٹوں  کے حوالے ہوگیا۔

02_06_2016-jb

معاملہ کیا ہے

پچھلے دو سال سے متھرا کے ۱۰۸/ایکڑ میں پھیلے سرکاری محکمہ جنگلات کے جواہر باغ میں ناجائز قبضہ جمائے ہوئے ”خود مختار قانونی احتجاج‘‘ کرنے والوں کے خلاف لکھنؤ سے اپریل ہی سے آپریشن کی تیاریاں چل رہی تھی۔ جمعرات دوپہر کو ڈی ایم راکیش کمار اور ایس ایس پی راکیش نے میڈیا سے اس آپریشن کی بات کہی تھی۔ شام کو افسروں نے پولس اور حفاظتی دستوں کے ساتھ جواہر باغ کا گھیراؤ کیا۔ کچھ پولس اہلگاروں نے اندر گھس کر مائک کے ذریعہ مظاہرین سے باہر جانے کو کہا، لیکن مبینہ مظاہرین نے سخت مخالفت کی، اسی درمیان پیڑوں پر بندوق رائفل اور طمنچے لئے بیٹھے لوگوں نے پولس پر گولیاں برسانی شروع کردیں۔ کئی پولس والے گولی لگنے سے وہیں گر گئے، جواب میں پولس نے آنسو گیس اور ربر کی گولیاں چلائیں۔ اسی درمیان نیچھے کھڑے سیکڑوں مظاہرین نے پولس پر دیسی اور پیٹرول بموں سے حملہ بول دیا، یہاں تک کہ بچے اور عورتیں بھی لاٹھی ڈنڈے لیکر پولس پر حملہ کر رہی تھیں۔ مظاہرین کے سردار رامورکچھ یادو، چندن بوس اور محافظ کمانڈر گریش کمار نے ایک ساتھ پولس پر حملہ کرنے کا اعلان کیا۔ اسی درمیان ایک گولی ایس او فرح سنتوش یادو کی آنکھ میں اور دو گولیاں ایس پی سیٹی مکل تریویدی کے سر میں لگیں۔ سنتوش یادو کو اسپتال میں اسی وقت مردہ قرار دے دیا گیا، جبکہ ایس پی سیٹی مکل ترویدی کا دیر رات تک علاج چلا، لیکن وہ بھی بچ نہیں پائے۔ ادھر باغ میں پولس نے بھی مظاہرین کو نشانہ بنا کر گولیاں چلانا شروع کردیں۔ جیسے ہی رام ورکچھ نے دیکھا کہ پولس لوگوں پر گولیاں چلا رہی ہے، وہ فوراً اپنے آفس میں آگ لگاکر بھاگ گیا، اس کے بعد مظاہرین نے سبھی خیموں کو آگ کے حوالے کردیا اور دیوار توڑ کر باہر جاکر کلیکٹریٹ پرعوام پر حملہ بول دیا۔ جواب میں بھیڑ نے بھی مظاہرین ہی کے ڈنڈے چھین کر ان پربرسانے لگے۔ سی او سٹی چکرپنی ترپاٹھی نے بھیڑ سے مظاہرین کو بچا کر بحفاظت وہاں سے نکالا۔

مظاہرین کے حملے میں ڈیڑھ درجن سے زیادہ پولس والے زخمی ہوئے ہیں جن کو اسپتال پہنچایا گیا اور تقریباً ۱۵ مظاہرین بھی زخمی ہوئے، ان کو بھی اسپتال لے جایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے شہید داروغہ کے ورثہ کو ۲۰ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے اور معاملے کی تحقیق آگرہ کمیشنر کے سپرد کر دی ہے، اس وقت شہر میں افواہوں کا بازار گرم ہے۔

احتجاج کیوں تھا

اپنے آپ کو سبھاش چندر بوس کے پیروکار بتانے والے یہ مظاہرین پچھلے دو سال سے سرکاری باغ پر قبضہ جمائے ہوئے تھے اورکچھ عجیب قسم کی مانگیں منوانے کی کوشش کررہے تھے، جو شاید کبھی پوری نہیں کی جاسکتی تھیں۔ رائفل اور طمنچے بندوقوں سے لیث یہ مظاہرین ایک روپے میں ۴۰ لیٹر پیٹرول کی مانگ کر رہے تھے۔ ایک دوسری مانگ یہ تھی کہ ہندوستان کا روپیہ دنیا کے ۵۰ ملکوں میں چلنا چاہئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *