مثبت فکر کے ساتھ عمل کی بھی ضرورت

محمد انیس الرحمٰن خان anis8june@gmail.com
محمد انیس الرحمٰن خان
anis8june@gmail.com

موجودہ مرکزی حکومت کے رویہ سے زیادہ تر غیر سرکاری تنظیمیں پریشان ہیں،یا یوں کہاجائے کہ مرکزی حکومت زیادہ تر غیر سرکاری تنظیموں سے اس لئے پریشان ہے کہ یہ غیر سرکاری تنظیمیں موجودہ حکومت کو ترقیاتی امور پر آئینہ دکھانے کی اپنی قدیم روایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں، در اصل سابقہ حکومتوں نے اس آئینہ کو مثبت انداز میں لے کر اپنی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے ، جب کہ موجودہ حکومت اس کو دوسرے انداز میں لے کر اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔اس لئے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت ہو یا ریاستی حکومتیں انہیں اپنے کام میں بہتری لانے کے لئے ضروری ہے کہ کسی کے ذریعہ دکھائے جانے والے آئینہ کا نہ صرف خیال رکھیں، بلکہ اس کو مزید مستحکم کریں تاکہ ترقیاتی امور میں مزید تیزی لائی جاسکے جو ملک کی تعمیر وترقی میں اہم حصہ ادا کرسکیں۔
دہلی میں واقع چرخہ ڈیولپمنٹ کمیونی کیشن نیٹ ورک ایک ایسی ہی غیر سرکاری تنظیم ہے جو دور دراز کے دیہی علاقوں  میں جاکر وہاں کے لوگوں کو بیدار شہری بنانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے، تاکہ ہر شہری اپنی صحت وسلامتی کے ساتھ ترقی کو خود یقینی بناسکے، کیونکہ جب ایک شہری ترقی کرتا ہے تو وہ ملک کی ترقی میں حصہ دار بنتا ہے، اور کسی بھی ترقی کے لئے صحت مند اور تندرست ہونا ازحد ضروری ہے ، مذکورہ تنظیم نے اسی مقصد کے مدِنظر ریاست جموں وکشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ میں سال 2014 میں کیڈینس نامی ایک سروے ایجنسی کے ذریعہ صحت، تعلیم اور صاف صفائی یعنی ہائی جین پرایک سروے کروایا تھا،جس کی رپورٹ نومبر2014میں آئی، اس رپورٹ کے مطابق ” یونیسف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 638ملین یعنی کل ہندوستانی آبادی کے 54فیصد لوگ رفع حاجت کے لئے کھلے میدانوں میں جاتے ہیں ، جب کہ 50فیصد لوگ یعنی آدھی آبادی رفع حاجت کے بعد صابن سے ہاتھ دھوتی ہیں” ۔
تنظیم نے سرحدی ضلع پونچھ کے چھ گاؤں کو اپنے سروے میں شامل کیاتھا، جن میں (۱)کھنیتر(۲)سلوتری(۳)سرنکوٹ (۴) شیندرہ (۵)مرہوٹ مڈل(۶)چنڈی مڑھ شامل ہیں۔مذکورہ سروے یہ ثابت کرتا ہے کہ 41فیصد لوگوں کے گھروں میں بیت الخلا ہے ، ان میں سب سے زیادہ 69فیصد چنڈی مڑھ میں ہے جب کہ دوسرے نمبر پر 57فیصد کھنیتر میں ہے ،شندرہ لوور اور مرہوٹ مڈل میں محض 21فیصد لوگوں کے پاس بیت الخلاء ہے ،سرحدی گاؤں سلوتری میں 33فیصد لوگوں کے گھروں میں بیت الخلاء ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگوں نے اپنی صحت کا خیال رکھتے ہوئے خود ہی پہل کی ہے، اگر فیصد میں اس کا جائزہ لیں تو84فیصد لوگوں نے خود ہی پہل کی ہے ، 49 فیصدلوگوں نے اپنے خاندان کے لوگوں کے کہنے پر بیت الخلاتعمیر کرایا ہے ،جب کہ سرکاری تنظیم آنگن واڑی ورکروں کے کہنے پر محض 3 فیصد لوگوں نے ہی توجہ دی ہے ۔
حالانکہ حکومت نے مختلف اقسام کی اسکیموں کا اعلان ضرور کیا مثال کے طور پر ٹولیٹ سنیٹیشن کیمپین،(بیت الخلا و صاف صفائی تحریک ) نرمل گرام ابھیان (صاف گاؤں تحریک) وغیرہ ،ان اسکیموں کے تحت حکومت باشندگان ضلع کو مالی تعاون دیتی ہے تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ اسکیموں کا فائدہ حاصل کر کے اپنے اپنے گھروں میں بیت الخلا کی تعمیر کروائیں۔مگر رپورٹ حکومت کی ان اسکیموں کا اصل چہرہ پیش کرتے ہوئے قارئین وحکومت کے متعلقہ شعبہ کے افسران کی رہنمائی کرتی ہے کہ 94فیصد لوگوں نے اپنے بل بوتے پر یعنی اپنی جیب خاص سے بیت الخلا تعمیر کرایا ہے جب کہ 4فیصد لوگوں کو سبسیڈی یا گرانٹ ملی ہے اور حکومت کے ذریعہ دی جانے والی اسکیموں کے تحت محض 2فیصد لوگ ہی فیضیاب ہوپائے ہیں۔بیت الخلا تعمیر نہ کروانے والوں کے مطابق “یہ ہماری مجبوری اور غریبی ہے ہم چاہتے ہیں کہ بیت الخلا ہمارے گھروں میں بھی ہو،مگر اس کی تعمیر کا خرچ برداشت کرنے کی طاقت ہماری جیبوں میں نہیں ہے۔”مذکورہ لوگوں کو بھی اگر ہم فیصد کے سانچے میں ڈھال کر نظر ڈالیں تو رپورٹ کے مطابق” 81فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ بہت خرچیلا ہے،24فیصد لوگوں کے مطابق بیت الخلا کی تعمیر کے لئے ہمیں کوئی بھی سبسیڈی نہیں مل پائی ہے،8فیصد نے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے بیت الخلا تعمیر کرنے کی اجازت ہی نہیں دی،4فیصد لوگوں نے دیگر مسائل بتائے”۔ اگر ان کے بیت الخلاء میں پانی ،پردہ اور فراغت کے بعد ہاتھ دھونے کی بات کی جائے تو مذکورہ تمام گاؤوں کے 87فیصد لوگوں کے یہاں بیت الخلا میں پانی،98فیصد لوگوں کے یہاں پردہ اور 81فیصد لوگوں کے یہاں ہاتھ دھونے کا اہتمام کیاجاتا ہے۔جس کے لئے 96 فیصد لوگ صابن، 3فیصدراکھ،جب کہ1فیصد باشندگان کسی بھی چیز کا استعمال نہیں کرتے ہیں۔
یہ تو تھیں باشندگان ضلع پونچھ کی ذاتی ملکیت میں تعمیر کئے جانے والے بیت الخلا کی باتیں ، مگر اب کچھ ان عمارتوں کا ذکر بھی ضروری ہے جہاں ملک اور سرحد کے مستقبل کوسنوارا جاتا ہے ،یعنی سرکاری اسکولوں کا جائزہ لینے کے لئے جب مقامی لوگوں سے باتیں کی گئیں،تو ضلع پونچھ کی تحصیل سرنکوٹ کے گاؤں ہاڑی سے شاہ نواز قادری تحصیل صدر سُنی یوتھ ونگ کے مطابق ’’ ہاڑی کے کئی اسکولوں میں بیت الخلاء نہیں ہے جہاں کہیں ہیں وہاں پانی نہیں اور پانی کے بغیر یہ بھی نہ ہونے کے برابر ہی ہے، جیسے ہائی اسکول ہاڑی میں بیت الخلاء ہے لیکن ان میں پانی کا انتظام نہیں ہے ۔جبکہ سرکار کی جانب سے اسکولوں میں بیت الخلاء کی تعمیر کیلئے رقومات فراہم کی جاتی ہیں مگر زمینی سطح پر ان کا کوئی اثر نظر نہیں آرہا ہے”۔

گورنمنٹ ہائی اسکول شندرہ پونچھ
گورنمنٹ ہائی اسکول شندرہ پونچھ

اسی سوال سے متعلق چرخہ کے دیہی قلم کار اور منڈی بلاک کے سماجی کارکن جناب ریاض ملک اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ” ہمارے ملک ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے قانون پہ قوانین بنائے جارہے ہیں ، لیکن جب. زمینی سطح پر اس کی حقیقت کو دیکھا جائے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ابھی تک یہ قوانین صرف ایوانوں میں شورشرابے کے لیے ہی استعمال ہوتے آرہے ہیں، ریاست جموں وکشمیر کے تعلیمی اداروں میں ابھی تک لڑکیوں کے لیے بیت الخلاء میسر نہیں ہو پا ر ہے ہیں کہیں اگر ہیں تو وہ بھی چھوٹے بڑے شہروں میں، دیہاتوں میں تو ابھی دور دور تک ان کا.نام و نشان بھی نہیں ہے ،ہائی اسکول اڑائی میں زیر تعلیم نویں جماعت کی طالبات موبینہ کوثر، سلمہ بانو اور نصرت بانو سے جب بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ یہاں ایک ہی بیت الخلاء ہے ، جس کو لڑکے استعمال کرتے ہیں ، طالبات کے لیے کوئی بندوبست الگ سے نہیں ہے جس کی وجہ سے سخت پریشانیوں کا. سامنا کرنا پڑتا ہے، یہی نہیں بلکہ پرائمر ی اسکول سے لیکر ہائی اسکول تک اکثر سرکاری ا سکولوں کی عمارتوں میں بیت الخلاء کا معقول نظام نہیں ہے”۔ضلع پونچھ کا پڑوسی ضلع راجوری بھی سرحدی ضلع ہی ہے یہاں کی تحصیل درھال کے گاؤں مڈون ڈوڈاج سے ایک طالب علم کے مطابق ’’گورنمنٹ مڈل اسکول جبری میں بیت الخلا نہیں ہے۔تقریباً ایک سو طلبہ یہاں زیر تعلیم ہیں جنہیں بیت الخلا نہ ہونے کی وجہ باہر کھلے میں رفع حاجت کے لئے جانا پڑتا ہے۔ جبکہ اسی اسکول میں آٹھویں جماعت تک بچے تعلیم کے زیور سے اراستہ ہو رہے ہیں جن میں لڑکیوں کی بھی بڑی تعداد ہے اور اسکول میں بیت الخلا ء نہیں ہے۔پرائمری اسکول چھلال بگلہ کی بات کی جائے تو اس اسکول میں بھی بیت الخلا ء نہیں ہے۔یہاں کے بچوں کو بھی باہر کھلے میں رفع حاجت کے لئے جانا پڑتا ہے “۔ خطہ جموں کے ضلع پونچھ سے منسلک وادی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے مقامی اسکول میں درس وتدریس سے منسلک محترمہ روقیہ اس سلسلے میں کہتی ہیں کہ”اگرچہ شوپیاں کے بیشتر اسکولوں میں بیت الخلا کی سہولیات میسر ہیں،تاہم دور دراز علاقوں اور مضافات میں بیت الخلا کی کافی قلت ہے،جس کی وجہ سے ان علاقوں میں اسکول ڈراپ اؤٹ میں بھی کسی حد تک اضافہ ہوا ہے”۔
اس لئے حکومتوں اور متعلقہ محکموں کو چاہئے کہ جب کوئی انہیں آئینہ دکھائے تو اس کی مخالفت کرنے کے بجائے اپنے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیں، اگر وہ بہتر سمت میں جارہا ہے تو اس پر مضبوطی سے قائم رہیں اور اگر اس میں کوئی خامی ہے تو اس کو ضرور درست کیا جانا چاہئے کیونکہ غلطلیاں ہم انسانوں سے ہی ہوتی ہیں اور اس کو ہم ہی درست کرسکتے ہیں ،اس کافائدہ یہ ہوگا کہ ہمارا ملک سرحد کی ترقی کے ساتھ اور زیادہ مضبوط ہوکر اپنے پڑوسیوں کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک کو بھی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں رہنمائی کرسکے گا۔(چرخہ فیچرس)
نوٹ:۔ درج بالا مضمون این ایف آئی کے ذریعہ دی گئی فلوشپ کے تحت تحریر کیا گیاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *