مجھے اپنی قومیت ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے: عمر عبداللہ

تصویر: بشکریہ گوگل
تصویر: بشکریہ گوگل

لدھیانہ (پنجاب)، ۱۹ مارچ: ابھی آل انڈیا مسلم مجلس اتحاد کے صدر اسدالدین اویسی کے ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ نہ کہنے والے بیان پر ہنگامہ تھما بھی نہیں تھا کہ آج جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے یہ کہہ کر ایک نیا تنازع کھڑا کردیا ہے کہ اپنی قومیت کو ثابت کرنے کے لیے کسی کے سرٹیفکیٹ کی مانگ نہیں کی جانی چاہیے۔

عمر عبداللہ نے آج یہاں نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں جو کچھ ہوں، وہ ہوں؛ مجھے کسی کو یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ ہی مجھے کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہے۔ میں کوئی چیز ثابت کرنے یا کسی کی خوشی کے لیے کبھی بھی کوئی نعرہ نہیں لگاؤں گا۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ مجھے ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرہ سے کوئی پریشانی نہیں ہے لیکن آپ قومیت کو ثابت کرنے کے لیے سرٹیفکیٹ کیوں مانگ رہے ہیں؟‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’’مجھے معلوم ہے کہ میں اپنے ملک کے لیے کیا محسوس کرتا ہوں، میں کوئی نعرہ لگاکر کسی کے سامنے اسے ثابت نہیں کرنا چاہتا۔ میں جو بھی ہوں، وہ ہوں، مجھے کسی سرٹیفکیٹ کی یا کسی کو اسے دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ چند دنوں قبل آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کہا تھا کہ ملک کے نوجوانوں کو ’بھارت ماتا کی جے‘ جیسے نعرے سکھانے کی ضرورت ہے، جس کے جواب میں اسدالدین اویسی نے کہا تھا کہ ’ان کی گردن پر چاقو رکھ دیا جائے‘ تب بھی وہ یہ نعرہ لگانے کو تیار نہیں ہیں، کیوں کہ آئین میں ایسا کرنے کے لیے کہیں نہیں کہا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *