محبوبہ مفتی چار اپریل کو وزیر اعلیٰ کا حلف لیں گی

Mehbooba Mufti

سرینگر، ۲ اپریل (ایجنسیاں): پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی ۴ اپریل بروز پیر جموں و کشمیر کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیں گی۔ حلف برداری کی تقریب میں مرکزی حکومت کی جانب سے وزیر برائے پارلیمانی امور ایم وینکیا نائڈو اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیر مملکت جیتندر سنگھ حلف برداری کی تقریب میں شرکت کریں گے۔

یاد رہے کہ مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد محبوبہ مفتی ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اشتراک سے حکومت بنانے سے گریز کر رہی تھیں اور انھیں شاید اس بات کا احساس تھا کہ ریاست کے عوام بی جے پی کے اتحاد سے وہاں حکومت بنانے کی وجہ سے پی ڈی پی سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ تاہم، کافی غور و خوض کے بعد آخرکار محبوبہ نے جموں و کشمیر میں بی جے پی کے تعاون سے دوبارہ حکومت بنانے کے لیے راضی ہو گئیں، حالانکہ اس میں انھیں تقریباً ڈھائی مہینے لگ گئے۔

محبوبہ حکومت بنانے سے پہلے پچھلے سال پی ڈی پی اور بی جے پی نے جموں و کشمیر میں حکومت بنانے کے لیے جو اتحادی ایجنڈہ اور کم از کم مشترکہ پروگرام (سی ایم پی) تیار کیا گیا تھا، اس پر مرکزی حکومت سے یقین دہانی چاہتی تھیں۔ دوسری طرف بی جے پی کی طرف سے یہ بات کہی جا رہی تھی کہ وہ پی ڈی پی کی طرف سے عائد کی گئی کسی بھی نئی شرط کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ لیکن، ۲۲ مارچ کو دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ محبوبہ مفتی کی ملاقات نے تمام قیاس آرائیوں پر روک لگا دی اور ریاست میں اگلی حکومت بنانے کا راستہ صاف ہو گیا۔ محبوبہ نے مودی کے ساتھ اپنی ملاقات کو مثبت بتایا اور کہا تھا کہ میٹنگ سے وہ مطمئن ہیں۔

لیکن، اس کے بعد بھی دونوں ہی جانب سے بعض غلط فہمیاں برقرار رہیں۔ بی جے پی نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ نئی کابینہ میں اسے بھی اتنے ہی قلم دان چاہئیں، جتنے کہ پی ڈی پی کو ملنے والے ہیں، حالانکہ پچھلی حکومت میں پی ڈی پی کے پاس ۱۱ اور بی جے پی کے پاس ۷ قلم دان تھے۔ اب، دونوں ہی پارٹیوں کے درمیان قلم دان کو لے کر اتفاق رائے بن چکا ہے۔

پی ڈی پی نے محبوبہ مفتی کو گزشتہ ۲۴ مارچ کو قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیا تھا، جس کے دو دن بعد، یعنی ۲۶ مارچ کو پی ڈی پی اور بی جے پی نے ریاست کے گورنر این این ووہرا سے الگ الگ ملاقات کرکے ریاست میں اگلی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ ۸۷ اراکین والی ریاستی اسمبلی میں اس وقت پی ڈی پی کے پاس کل ۲۷ سیٹیں ہیں، جب کہ بی جے پی کے ۲۵ ممبرانِ اسمبلی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *