محکمہ نقل و حمل کی ناقص کارکردگی مسائل کی جڑ

صدیق احمد صدیقی

(ضلع صدر انجمن دیہی قلم کاران سرنکوٹ)

در حقیقت ترقی کے اس دور میں اگر کسی چیز کی قیمت دن بدن بڑھ رہی ہے اور اس کی کمی محسوس ہو رہی ہے تو وہ وقت ہے۔ وقت کبھی رکتا نہیں، کبھی کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ وقت کی قدر سب سے زیادہ اس وقت محسوس ہوتی ہے جب کوئی بیمار اپنی آخری سانسیں اسپتال تک پہنچنے کی انتظار میں تمام کر دیتا ہے، جب کوئی طالب علم سڑک پر کھڑا گاڑی کی انتظار میں امتحان گاہ تک وقت پر پہنچنے میں ناکام ہو جاتا ہے، جب کوئی امیدوار اپنی ملازمت کے انٹرویو میں وقت پر نہیں پہنچ پاتا۔ یہ سب خیالی باتیں نہیں بلکہ ایسے تجربات سے ہر دن گذرنے والوں سے یہ دردر محسوس کر کے راقم یہ لکھنے پر مجبور ہوا۔ ہندوستان میں یہ پریشانی صرف دیہی علاقوں تک ہی محدود نہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ کہیں گاڑیوں کی بہتات سے یہ مسئلہ پیش آ رہا ہے تو کہیں گاڑیوں کی کمی کی وجہ سے عوام پریشان ہیں۔ دلی میں حالیہ طاق وجفت کے فارمولے کو کافی سراہا جا رہا ہے۔ ہماری ریاست جموں و کشمیر کی پہلی خاتون وزیرِ اعلیٰ محترمہ محبوبہ مفتی نے بھی اس فارمولے کو سرینگر شہر میں اپنانے کے لئے قدم بڑھایا اور اس ضمن میں طلباء کو آگے آنے کی دعوت دی۔ نیز وادی میں خواتین کے لئے الگ گاڑیوں کی سہولت بھی مہیا کروا دی جس کو عوامی سطح پر کافی مقبولیت ملی۔ ریاست جموں و کشمیر کا زیادہ تر حصہ دیہی علاقوں پر مشتمل ہے اور دیہی علاقوں کے مسائل شہر سے الگ ہیں۔ یہاں پر گاڑیوں کی بہتات مسئلہ نہیں بلکہ گاڑیاں نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس ضمن میں اگر ہم سرحدی ضلع پونچھ کی بات کریں تو یہاں کے دیہی علاقہ جات میں یا تو سڑکیں ہی نہیں اور اگر ہیں تو گاڑیاں ہی نہیں۔ اور اگر گاڑیاں ہیں تو بھی ان کا کرایہ ڈرائیوروں کی مرضی کے مطابق، کسی بھی لنک روڈ پر بس سروس نہیں پائی جاتی جس کی وجہ سے چھوٹی گاڑیوں والے اپنی مرضی کے مطابق رقم وصولتے ہیں اور مسافروں کی مجبوری کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تحصیل سرنکوٹ کے بلاک بفلیاز میں آج تک کوئی بس سروس مہیا نہیں ہو پائی۔ گاﺅں سیلاں کے نوجوان اور سماجی کارکن راجہ وسیم ملک کا کہنا ہے کہ چندی مڑہ جو مغل روڈ پر واقع ہے سے سرنکوٹ تک کوئی بھی بس سروس نہیں ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے محض ۱۷ کلو میٹر کی مسافت پر سومو ڈرائیور ۵۰ روپے وصولتے ہیں۔ اسی طرح سیلاں سے سرنکوٹ تک ۱۵ کلومیٹر کی مسافت کے لئے ۳۰ روپے وصولے جاتے ہیں جبکہ سیلاں سے بفیاز تک صرف ۲ کلومیٹر کے لئے ۱۰ روپے اسی طرح سیلاں سے درابہ تک ۶ کلو میٹر کے لئے ۲۰ روپے وصولے جاتے ہیں۔

DSC01249

وہ مزید کہتے ہیں کہ اس ضمن میں آر ٹی او پونچھ سے بھی شکایت کی تھی جس پر انہوں نے ایک بس بھیجی مگر یہ بھی صرف چند ماہ کے بعد کہیں گم ہوگئی۔ درابہ کے بارہویں جماعت کے ایک طالب علم محمد آصف نے بتایا کہ مجھے پڑھائی کا بہت زیادہ شوق ہے مگر میری بد قسمتی یہ ہے کہ میں کبھی اسکول وقت پر نہیں پہنچ سکا جس کی وجہ سے کئی بار اسکول کے باہر ہی سے واپس لو ٹنا پڑتا ہے۔ اس پر مصیبت یہ ہے کہ چھوٹی گاڑیوں میں جگہ کم ہوتی ہے اور ہم سڑک پر کھڑے کھڑے اسکول کے مقررہ وقت کو پار کر دیتے ہیں۔ در حقیقت سرنکوٹ کے تمام دیہی علاقوں کو اسی قسم کے مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ گاﺅں مڑہوٹ جو ایک گنجان آبادی والا علاقہ ہے۔ اس گاﺅں کی لڑکیاں اکثر دسویں پاس کرنے کے بعد تعلیم چھوڑ دیتی ہیں۔ جب اس راز کو جاننے کی کوشش کی گئی تو معلوم ہواکہ یہاں کی لڑکیاں تعلیم کی اہمیت و افادیت سے خوب واقف ہیں اور وہ بھی آگے بڑھنا چاہتی ہیں مگر ان کے راستے میں جو چیز حائل ہے وہ بس سروس کا نہ ہونا ہے۔ گاﺅں کے سرپنچ خادم حسین نے بتایا کہ ایک تو اس گاﺅں میں کوئی ہائر اسکینڈری نہیں ہے دوسری سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں کوئی بس سروس نہیں ہے، صرف دو میٹاڈور ہیں اور باقی چند چھوٹی گاڑیاں، مگر صبح کے وقت بہت زیادہ بھیڑ ہوتی ہے اور ہر شخص کو جلدی ہوتی ہے کسی کو اسکول تو کسی کو دفتر جانا ہوتاہے۔ سب کا وقت ایک ہی ہوتا ہے۔ اس لئے اس کا سب سے بڑا نقصان یہاں کی بچیوں کو ہوتا ہے۔ لڑکے تو پھر بھی گاڑی کی چھت پر یا گاڑ ی کے پیچھے لٹک کر چلے جاتے ہیں مگر لڑکیوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ بارہویں جماعت کی ایک طالبہ نے بتایا کہ ہم اکثر گاڑیوں کی انتظار میں کھڑے رہتے ہیں اور اسکول کا وقت گزر جا تا ہے اس لئے مجبور ہو کر گھر لوٹنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ہم اپنی تعلیم بھی جاری نہیں رکھ سکتے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ دیہی علاقوں کے ایسے مسائل کا فوری حل نکالا جائے۔

یہ وہ مسائل ہیں جو ظاہر میں چھوٹے معلوم ہوتے ہیں مگر ان سے جو نتائج سامنے آتے ہیں وہ بہت ہی سنگین ہیں۔ اس ضمن میں ریاستی محکمہ نقل وحمل کو فوری حرکت میں آنے کی ضرورت ہے۔ (چرخہ فیچرس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *